میٹرو کو جنگلہ بس کہنے والوں نے گذشتہ انتخابات میں مزہ چکھ لیا ، ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت ہو تو گھر چلا جاوں گا:شہباز شریف

میٹرو کو جنگلہ بس کہنے والوں نے گذشتہ انتخابات میں مزہ چکھ لیا ، ایک دھیلے ...
میٹرو کو جنگلہ بس کہنے والوں نے گذشتہ انتخابات میں مزہ چکھ لیا ، ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت ہو تو گھر چلا جاوں گا:شہباز شریف

  

لاہور(نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ میٹروبس پراجیکٹ کو جنگلا بس کہنے والوں نے عام انتخابات 2013ءمیں مزہ چکھ لیا ہے اورعوام نے ایسے فلاحی منصوبوں کی مخالفت کرنے والوں کو ووٹ کی طاقت سے مسترد کیا ہے اوراب یہ شکست خوردہ عناصر پیچھے ہو  کر اورنج لائن میٹروٹرین جیسے عوامی منصوبے کی بھی مخالفت کرتے ہیں ۔میٹروبسیں عوام کو جس طرح کی سفری سہولتیں فراہم کررہی ہیں وہ ایک شاندار نظام ہے اوراب میٹروریل بھی آرہی ہے اوراس منصوبے پر کرپشن کا الزام لگاکر بعض سیاسی مخالفین اسے خراب کرنے کی سازش کررہے ہیں۔میں آپ کے سامنے انتہائی عاجزی اورفخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے سمیت گزشتہ 8برس اور سابق اڑھائی برس کے دوران اگر کسی بھی عوامی منصوبے میں میری ذات پر ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت ہو تو میں گھر چلا جاوں گا۔

ماڈل ٹاون میں لاہور پریس کلب کے نومنتخب عہدےداران کی تقریب حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی اور جمہوری اداروں کے استحکام میں صحافتی برادری نے بے پناہ جدوجہد کی ہے اورقربانیاں دی ہیں ۔جمہوریت کی بحالی اورجمہوری اداروں کے استحکام کےلئے صحافتی برادری کی جدوجہد کو سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیاسے بہت امیدیں وابستہ ہیں اوریہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ 8برس کے دوران صحافی کالونی میں سہولتوں کی فراہمی کےلئے متعدد اقدامات کیے ہیں جس کے تحت بیواوں کےلئے پلاٹس کی قیمتیں کم کی گئیں ہیں ۔انہوں نے  لاہور پریس کلب کے نومنتخب صدرمحمد شہبازمیاں ،  شاداب ریاض،عبد المجید ساجد ، دیگر عہدےداران اور گورننگ باڈی کے ممبران کو ان کی نئی ذمہ داریاں سنبھانے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ووٹ کی طاقت کے ذریعے حکومتیں آتی اورجاتی ہیں،اسی طرح صحافتی تنظیمیں بھی ووٹ کے ذریعے ہی اپنے نئے عہدےدار منتخب کرتی ہیں۔لاہور پریس کلب پاکستان کا ایک مایہ ناز صحافتی ادارہ ہے  ، معاشرے اورملک کو بہتر بنانے اورحکومتوں کی رہنمائی میں صحافتی برادری ،کالم نگاروں ،اینکرز اورتجزیہ نگاروں کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ ملک کی بہتری کےلئے اپنا مثبت کردارجاری رکھیں گے۔وزیراعلیٰ نے لاہور پریس کلب کی سالانہ گرانٹ 30لاکھ روپے سے بڑھا کر 50لاکھ روپے کرنے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور پریس کلب کے ممبران کو طبی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی جبکہ میں دیگر جائزمطالبات کے حل کےلئے عملی اقدامات اٹھانے کےلئے بھی تیار ہوں۔ وزیراعلیٰ نے اس ضمن میں زعیم حسین قادری،سیکرٹری اطلاعات،ڈی جی ایل ڈی اے ،شعیب بن عزیز اورڈی جی پی آر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی صحافی برادری کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے جائز مطالبات کے حل کےلئے جلد حتمی سفارشات پیش کرےگی۔انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ اخباری رپورٹس،کالموں اور دیگر ذرائع سے ملنے والی خبروں سے رہنمائی لیتا ہوں اوراس پر فوری کارروائی کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کوئی بھی پیغام بہترین طریقے  سے عوام تک پہنچانے میں اہم کردارادا کرتے ہیں ، لہٰذا انہیں ملک کی بہتری کےلئے کے جانے والے اقدامات کو بھی عوام تک پہنچانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے 68برس سے ملک میں کرپشن کا دور دورہ رہا ہے لیکن موجودہ حکومت کے دور میں برلن سے جاری ہونے والی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کرپشن کنٹرول کرنے کے اقدامات کے حوالے سے درجہ بندی تین درجے بہتر ہوئی ہے۔ اور پاکستان سارک ممالک میں واحد ملک ہے جس کی کرپشن کی روک تھام کےلئے درجہ بندی بہتر ہوئی ہے ۔بلاشبہ یہ پاکستان اور اس کے عوام کی عزت ہے ۔اس رپورٹ سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس پر بھی سےاسی مخالفین نے کہا کہ یہ حقیقت نہیں بلکہ پرسپشن ہے،  حالانکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل دنیا کے 15معروف اداروں سے رپورٹ لےکریہ سروے جاری کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات جہاں پاکستان کا قومی وقار بلند ہورہا ہو اور ملک کی عزت میں اضافہ ہووہاں میڈیا کو بھر پورسپورٹ کرنا چاہے اوراسے عوام کے سامنے لانا چاہے اوراس کی مکمل اونر شپ لینی چاہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے ،لیکن پاک افواج کے بہادر افسروں اورجوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور50 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی قیمتی جانوں کانذرانہ پیش کرچکے ہیں ۔سیاسی اورعسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک صفحے پر ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے ساتھ توانائی بحران کا خاتمہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے ۔ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں بجلی کے منصوبوں پر دن رات کام ہورہا ہے ۔ پنجاب میں گیس کی بنیاد پر 3600میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے تین منصوبوں پر برق رفتاری سے کام کیا جارہا ہے اور یہ تینوں منصوبے ماضی میں اس طرح کے لگنے والے گیس منصوبوں کے مقابلے میں آدھی قیمت پر لگائے جارہے ہیں اور حکومت نے شفافیت اوراعلی معیار کی نئی مثال قائم کرکے ان منصوبوں میں قوم کے 112ارب روپے بچائے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے منصوبوں میں شفافیت اور اعلی معیار کے حوالے سے جو بنیاد رکھی ہے، اس کلچر کوفروغ دینا چاہیے اوراسے سپورٹ کرنا چاہیے۔وزیراعلیٰ نے میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے قلم اور آپ کی زبان میں بہت طاقت ہے لہٰذا آپ کو ایسی مثالوں کوپرموٹ اور سپورٹ کرنا چاہیے تاکہ عوام کو بھی اس بات کا احساس ہوکہ ملک میں اچھا کام ہورہا ہے ۔اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ مفاد عامہ کے اس عظیم منصوبے پر بغیر حقائق جانے بعض ٹی وی چینلز پر گفتگو ہوتی ہے ،حالانکہ یہ عام آدمی کو جدید اور باوقار سفری سہولتیں فراہم کرنے کےلئے ایک عظیم تحفہ ہے جس پر ابتدائی طورپر اڑھائی لاکھ لوگ روزانہ سفر کریں گے اور یہ تعداد بتدریج پانچ لاکھ مسافروں تک پہنچے گی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح میٹروبس سروس نے عام آدمی کو سفر کے دوران آرام اوروقار فراہم کیا ہے اورانہیں چنگ چی،دھواں دینے والے رکشے اورویگنوں سے نجات ملی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے جمہوری اداروں کے استحکام اورجمہوریت کی بحالی کےلئے صحافتی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ دور آمریت میں آہنی دیوار بن کر کھڑے رہے ہیں اور آج صحافت آزاد ہے اورآپ کو یہ آزادی خیرات میں نہیں ملی بلکہ آپ نے اپنی جدوجہد اورقربانیوں سے حاصل کی ہے ۔لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ بلا خوف تردد صحافتی فرائض سرانجام دیں اورمعاشرے میں اچھے کاموں کو پرموٹ کرنے کےلئے اپنا بھر پور کردارادا کریں ۔

مزید : قومی