ہڑتالی سیلاب میں سب کچھ بہہ گیا

ہڑتالی سیلاب میں سب کچھ بہہ گیا
 ہڑتالی سیلاب میں سب کچھ بہہ گیا

  

مَیں نے 7فروری 2016ء کو ’’پی آئی اے بحران: حل کیا ہے؟‘‘ کے عنوان سے چھپنے والے کالم میں لکھا تھا: ’’مجھے اپنے سال ہا سال کے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر لگ رہا ہے کہ پی آئی اے کے عام ورکرز خسارے میں رہیں گے اور لیڈرٹائپ لوگ اپنا کرتب دکھا کر غائب ہو جائیں گے‘‘۔۔۔ وہی ہوا، پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بغیر کوئی وجہ بتائے ہڑتال ختم کر دی۔ پہلی بار حکومت نے سرکاری ملازمین کی بلیک میلنگ کو شکست دی ہے اور بغیر مذاکرات کے انہیں ہڑتال ختم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پی آئی اے ملازمین کے جن نمائندوں نے یہ سب کچھ کیا ہے، کیا انہیں لیڈر کہا جا سکتا ہے؟کیا لیڈر وژن سے عاری ہوتا ہے؟ کیا اسے زمینی حقائق کی کوئی خبر نہیں ہوتی؟ کیا ہڑتال کے ان سات دنوں میں بچوں کا کھیل کھیلا گیا ہے؟ ایک قومی ادارے کو ،جس سے لاکھوں لوگوں کا بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار وابستہ ہے، اس طرح کا سلوک کیا جانا چاہیے تھا؟۔۔۔ کہا جا رہا ہے کہ سول ایوی ایشن کی تاریخ میں طویل ترین ہڑتال کا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے کیا ایسے ریکارڈ پر فخر کیا جا سکتا ہے؟ شرمناک رویے کبھی عوام کی تائید حاصل نہیں کر سکتے، سو اس رویے کو بھی پاکستانی معاشرے نے رد کیا اور پی آئی اے کے ملازمین ’’لوٹ کے بدھو گھر کو آئے‘‘ کی مثال بن گئے۔

پی آئی اے کے ان دو ملازمین کی موت کا ذمہ دار کون ہے، جو کراچی میں اندھی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ ان کے اصل قاتل تو نجانے کب پکڑے جائیں گے، مگر جن لوگوں نے احتجاج کو تشدد کی راہ پر ڈالا اور پھر یہ تاثر دیا کہ ان کی اجازت کے بغیر نہ تو پی آئی اے کا پہیہ چلے گا اور نہ پتہ ہلے گا اور آخرمیں بڑی سفاکی سے یہ اعلان کیا گیا کہ ہڑتال ختم کر دی گئی ہے، اصل ذمہ دار تو وہ ہیں۔ اب ان جاں بحق ہونے والے دو ملازمین کے ورثاء ایک طرف ساری زندگی ’’مَیں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں‘‘ کی تصویر بنے رہیں گے تو دوسری طرف انہیں یہ احساس کچوکے لگائے گا کہ ان کے پیاروں نے آخر کس مقصد کے لئے جان دی؟ صورت حال تو آخر میں ’’کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا دو آنے‘‘والی رہی۔ مَیں نے اپنے کالم میں یہ بات بھی لکھ دی تھی کہ جو لوگ پی آئی اے ملازمین کو لیڈ کر رہے ہیں، ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے، وگرنہ وہ کبھی انتہائی احتجاج تک نہ جاتے۔ پہیہ جام کرنے کا آپشن ہمیشہ آخری اور ناگزیر مرحلے میں استعمال کیا جاتا ہے، یہاں یہ پہلے مرحلے ہی میں استعمال کر لیا گیا۔ اس کے بعد کیا بچا، سوائے اس ہزیمت اور ناکامی کے، جواب سامنے آ چکی ہے، لیکن جس کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان ہوا، لاکھوں مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، ہزاروں محنت کش و مزدور، جو خلیجی ریاستوں میں ملازمتیں کرتے ہیں، انہیں ویزوں کے مسائل درپیش ہیں، یا ان کی وہ چھٹیاں ضائع ہو گئی ہیں، جو انہوں نے اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ گزارنا تھیں۔

’’پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کے مصداق سیاسی جماعتوں نے بھی اس ہڑتال کے دوران جو میلہ لوٹنے کی کوشش کی، اسے بھی کم سے کم الفاظ میں موقع پرستی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ہارنے والے گھوڑے پر شرطیں لگانے والے ہمارے یہ سیاستدان اب سر پیٹ رہے ہوں گے کہ ایکشن کمیٹی نے انہیں سجی دکھا کے کھبی کیوں ماری ہے۔ وہ تو اس ہڑتال کو حکومت کے خاتمے کی سکیم میں ڈھالنا چاہتے تھے، مگر درمیان میں سے مدعی ہی بھاگ گیا۔ اسے سیاست برائے سیاست کی بدترین مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ مَیں نے اپنے 7فروری 2016ء کے کالم میں یہی لکھا تھا کہ پی آئی اے ملازمین کی اس ہڑتال میں عوامی حمایت سے محروم سیاسی جماعتیں جو حصہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں، وہ رائیگاں جائے گی، کیونکہ جس مسئلے پر عوام دوسری جانب کھڑے ہوں، اسے عوامی ایشو کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف جیسی جماعت بھی، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے، بہت زیادہ سٹریٹ پاور رکھتی ہے، عوام کو سڑکوں پر نہیں لا سکی۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اس حوالے سے بہت سرگرم دکھائی دیئے، لیکن کوئی بڑا شو نہیں کر سکے، حتیٰ کہ خود ملازمین نے شو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

مجھے کسی بھی مسئلے پر حکومت کے جیتنے کی اگرچہ خوشی نہیں ہوئی، کیونکہ مَیں سمجھتا ہوں کہ عوام کو ہر مسئلے میں جیتنا چاہیے، لیکن یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پی آئی اے کی ہڑتال کے دنوں میں حکومت نے مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ اعصابی جنگ جیت لی ہے۔ پی آئی اے ملازمین کی اس ہڑتال کے اس طرح ناکام ہونے سے بہت سوں کا نقصان ہوا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا بھی جو بلاسوچے سمجھے کسی معاملے میں کود پڑتی ہیں اور پھر شرمندگی سے دوچار ہوتی ہیں اور ٹریڈیونینز کا بھی۔ ایک بڑی ہڑتال کی ناکامی کے بعد اب کون سا طبقہ ہے ،جو حکومت سے اپنے مطالبات منوا سکے گا؟ پی آئی اے ملازمین کے لیڈروں سے بہتر تو نابیناؤں کے وہ رہنما تھے، جنہوں نے لاہور کی سڑکوں پر آہستہ آہستہ پنجاب حکومت کو اپنے مطالبات کے حق میں رام کیا۔ کبھی بات مان لی اور کبھی منوا لی۔ انہوں نے آخری حربہ پہلے مرحلے ہی میں استعمال کرکے خود کو اس طرح ناکامی سے دوچار نہیں کیا، جس کا سامنا پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کرنا پڑا۔ مَیں نے لکھا تھا کہ پی آئی اے ملازمین کے رہنما اب واپسی کا باعزت راستہ ڈھونڈ رہے ہیں، جو انہیں مل نہیں رہا۔

وزیراعظم نوازشریف نے تو اپنے وزراء کو ان سے رابطہ بھی کرنے سے روک دیا۔ سو یہ ہٹ دھرمی کاعمل ایک شرمندہ صورت حال سے دوچار ہو کر ختم ہو گیا ۔ اب لکیر پیٹتے رہنے کا نہ ختم ہونے والا مرحلہ ہے، اپنی عزت بچانے کے لئے ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے یہ بڑھک ماری ہے کہ ان کے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو وہ دوبارہ پی آئی اے کا پہیہ جام کر دیں گے، حالانکہ وہ خود بھی یہ جانتے ہوں گے کہ اس بار انہوں نے کوئی ایسی کال دی تو خود پی آئی اے ملازمین ان کے گلے پڑ جائیں گے۔مجھے تو کچھ ملازمین ایسے بھی ملے ہیں، جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر سہیل بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف یہ بھونڈہ احتجاجی پلان حکومتی آشیرباد سے ڈیزائن کیا گیا۔ اس کا مقصد ایک بھرپور احتجاج کے بعد اس کی ناکامی اور پھر آسانی سے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو مکمل کرنا ہے۔ شروع میں یہ طے ہوا تھا کہ روزانہ دو گھنٹے ہڑتال کی جائے گی اور یہ سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہے گا، تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے، لیکن پھر اچانک دو فروری کو پہیہ جام کرنے کی کال دے دی گئی۔

ایک تحریک جسے رفتہ رفتہ آگے بڑھنا تھا، عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنا تھیں، حکومت پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا تھا، جب یکدم شدت سے دوچار ہوئی تو عوامی ہمدردیاں بھی نفرت میں بدل گئیں اور حکومت بھی دباؤ کا شکار نہ ہوئی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ حکومت آزاد ہو گئی ہے، وہ اس ایشو پر ایک فاتح بن کر اُبھری ہے، اب نجکاری کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی، ایک بے مقصد اور بے تدبیر مزاحمت دم توڑ گئی ہے اور اپنے نمائندوں سے ناراض پی آئی اے ملازمین کا اصرار ہے کہ یہ سب کچھ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور حکومت کی ملی بھگت سے ایک ڈیل کے تحت ہوا ہے، تاکہ ایک بار نجکاری کے مسئلے پر انتہا درجے کے احتجاج کو ناکامی سے دوچار کرکے حکومت کو فری ہینڈ دے دیا جائے۔۔۔اب ایسی باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ جب سیلاب گزر جاتا ہے تو تباہی کی کئی کہانیاں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ تلخ یادیں، ملازمین کی افسوسناک موت، مسافروں کا عذاب و مشکلات سے دوچار ہونا ،پھر اچانک اس ہڑتال کے خاتمے کا اعلان، یہ سب کچھ آج مڑ کے دیکھیں تو کسی درد ناک فلم کا منظر دکھائی دیتا ہے اور اب میری یہ پیش گوئی بھی سن لیجئے کہ ابھی اس فلم کا اختتام نہیں ہوا، اختتام اب پی آئی اے کی نجکاری کے اعلان ہی نہیں ، اس پر عملدرآمد سے ہوگا اور حکومت اپنی شرائط پر کرے گی، کیونکہ اس ہڑتال کی ناکامی نے اس کے بندھے ہاتھ کھول دیئے ہیں۔

مزید : کالم