پی آئی اے میں ہڑتال سے کیا حاصل ہوا؟

پی آئی اے میں ہڑتال سے کیا حاصل ہوا؟
 پی آئی اے میں ہڑتال سے کیا حاصل ہوا؟

  

پی آئی اے بحران کے پیچھے کوئی سیاسی ہاتھ کارفرما تھا یا پی آئی اے ملازمین کا یہ اپنا ہی کیا دھرا تھا؟ اس پر تحقیق ہو گی تو حقائق سامنے آ ئیں گے۔ پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال اور سخت حکومتی مؤقف نے مسئلے کو کافی الجھائے رکھا۔ جہازوں کی فلائٹ آپریشنل معطلی نے ’’معاملے‘‘ کو جس قدر پیچیدہ بنا دیا اُسے دیکھ کر لگ رہا تھا شاید یہ مسئلہ اور الجھ جائے۔اب ہڑتال ختم ہوگئی ہے ’’معاملہ‘‘ نجکاری سے اٹھا تھا۔ جس نے اتنا بڑا بحران پیدا کیا کہ قومی ائر لائن کی اندرون اور بیرون ملک تمام پروازیں نہ صرف معطل ہو گئیں ،بلکہ اس کے نتیجے میں ہزاروں مسافر جو دنیا کے مختلف ممالک میں جانا چاہتے تھے یا اندرون ملک سفر کے خواہش مند تھے۔ اپنی تمنائیں دلوں میں لئے بیچارگی کی تصویر بنے رہے۔ پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی اور بحران نے ملک میں تماشا لگائے رکھا۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اسے ’’کیش‘‘ کرانے کی پوری کوشش کی اور سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے پیش پیش نظر آئے۔

تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی والے تو اس سلسلے میں بڑے سرگرم رہے۔ میڈیا ٹاک شوز میں حکومتی ارکان کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ الزامات لگانے والوں نے ’’الزامات‘‘ لگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ سابق گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما لطیف کھوسہ نے ایک چینل پروگرام میں اس حد تک الزام لگا دیا کہ نواز شریف نے قومی ایئر لائن کو اپنے ایک قریبی رشتہ دار کے ہاتھوں اونے پونے داموں بیچ دیا ہے۔ انہوں نے میزبان کے سوال پر اس قریبی رشتہ دار کا نام بھی لیا جو میاں منیر کے نام سے سامنے آیا۔ حال ہی میں اُن کے بیٹے سے نواز شریف کی نواسی کی شادی ہوئی ہے۔

لطیف کھوسہ جب یہ الزام لگا رہے تھے تو پروگرام کے مہمانوں میں سینئر جرنلسٹ ہارون رشید بھی موجود تھے۔ وہ بول پڑے کہ یہ بات غلط ہے۔ وہ میاں منیر کو کئی سالوں سے جانتے ہیں۔ وہ ٹھیکے ضرور لیتے ہیں، لیکن سرکاری ٹھیکوں کے کبھی خواہش مندنہیں رہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ میاں منیر قومی ایئر لائن کے خریدار ہوں۔ ہارون رشید کے اس جواب پر لطیف کھوسہ بالکل خاموش ہو گئے۔ہارون رشید کے جواب میں مزید کوئی اور سوال نہ اٹھایا۔ جس سے ثابت ہوا کہ لطیف کھوسہ کے پاس اپنے الزام کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا نہ کوئی ایسے شواہد تھے کہ وہ ثابت کرتے کہ وہ میا ں منیر کے حوالے سے جو الزام لگا رہے ہیں وہ حقائق پر مبنی ہے۔

دوسروں پر الزام لگانا ہماری سیاست میں کوئی نئی روایت یا بات نہیں۔ یہ ہماری طرز سیاست کا پرانا وطیرہ ہے۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ میڈیا پر اس قسم کی بے سروپا گفتگو اور کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر لغو الزامات کہاں کی شرافت اور اُصول ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ایسے بے بنیاد الزامات ایک منتخب وزیراعظم پر لگائے جا رہے ہیں۔ انہیں ان الزامات کے تحت ملعون کیا جا رہا ہے۔ یہ حکومت کا بھی فرض کہ ایسے بے ہودہ الزامات پر خاموشی اختیار نہ کرے۔ مخالفین کے الزامات کا جواب میڈیا پر دنیا ہی کافی نہیں۔ بے بنیاد الزام لگانے والوں کو عدالتوں میں بھی گھسیٹا جانا چاہیے۔ ہتک عزت کا قانون موجود ہے، جس کے تحت ہرجانے کا دعویٰ اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں سیکشن 500/501کے تحت فوجداری استغاثہ بھی دائر کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ ہماری عدالتوں میں کسی بھی کیس کا آغاز تو ہو جاتا ہے، اختتام نہیں ہوتا۔ شاید اسی لئے ایسے دعوے یا استغاثے دائر نہیں کیے جاتے، لیکن اگر کیسوں کی طوالت کا سوچ کر چپ رہا جائے اور کچھ نہ کرنے کی عادت ڈال لی جائے تو ایسے الزامات لگتے رہیں گے اور ایسا سب کچھ ہوتا رہے گا۔

سیاست میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ شاید ختم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات معاشرے کے دوسرے طبقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ عدم برداشت کے اسی رویے نے آج قومی ایئر لائن کے ملازمین کو بھی وہاں کھڑا کردیا جہاں انہیں ہرگز کھڑا نہیں ہونا چاہیے تھا۔احتجاج ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔ جمہوری روایات بھی یہی ہیں کہ ہر ایک کا حق تسلیم کیا جائے، مگر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس ’’حق‘‘ کا غلط استعمال ہو۔ پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال کے نتیجے میں اربوں کا جو مالی نقصان ہوا، مسافروں کو جس قدر ذہنی اذیت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ ہڑتال قومی ایئر لائن کے کرتا دھرتاؤں پر ایک بدنما داغ ہے۔

مزید : کالم