بجلی اور گیس۔۔۔ اب بھی لوڈشیڈنگ!

بجلی اور گیس۔۔۔ اب بھی لوڈشیڈنگ!

موسم میں بہتری، نہروں میں پانی کی آمد کے باعث پن بجلی پیداوار میں اضافے اور سرکاری اعلان کے باوجود شہری بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس کی نایابی پر سراپا احتجاج ہیں، محکمہ گیس اور محترم وزیر قدرتی وسائل کی طرف سے واضح طور پر یقین دلایا گیا تھا کہ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے اوقات کے دوران گیس ملتی رہے گی اور فروری میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ گھریلو صارفین کے نام پر سی این جی سٹیشنوں کی سپلائی منقطع کی گئی تھی تاہم صنعتی سیکٹر کے دباؤ کی وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر گیس حاصل کرتا رہا۔ اصل تکلیف پھر گھریلو صارفین کو ہوئی کہ ہیٹر اور گیزر تو ایک طرف چولہے بھی نہیں جلے اور صارف مہنگی ایل پی جی اور لکڑی سے گزارہ کرنے پر مجبور ہوئے، لیکن یہ بھی نہیں کہ سبھی گھریلو صارفین کا یہ حال تھا، یہاں ایسا امتیازی سلوک بھی ہوا کہ وی آئی پی علاقوں میں گیزر بھی جلے اور ہیٹر بھی استعمال کئے گئے اور ایسا اب بھی ہو رہا ہے،پریشانی عام صارفین کے لئے ہے جو مظاہرے کر رہے ہیں۔بجلی کے معاملے میں بھی حالات یہی ہیں، اعلان تو کر دیا جاتا ہے کہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور لوڈشیڈنگ کم ہو گئی ہے، تاہم عملی طور پر ایسا نہیں ہوا اور اگر ایسا ہوا تو وہ ان فیڈروں پر جو جی او آر جیسے علاقوں کو بجلی مہیا کرتے ہیں۔ پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے یقیناًمجموعی پیداوار بڑھی اور موسم تاحال سرد ہے۔اس کا فائدہ عام صارفین کو ملنا چاہئے تھا جو نہیں ملا۔حکمران یہ اعلان کرتے نہیں تھکتے کہ بجلی کے منصوبے تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں اور2018ء تک لوڈشیڈنگ ختم کر دیں گے۔ اس صورت حال سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ2018ء تک صارف روتے رہیں گے،پھر کیا بھروسہ کہ یہ وعدہ بھی تکمیل پاتا ہے یا نہیں،بجلی کمپنیوں کو موثر اور بلا امتیاز لوڈ مینجمنٹ کرنا چاہئے اور گیس کی وزارت کو بھی عوام کے سامنے اصل صورت حال واضح کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ