قطر سے سستی ایل این جی کی درآمد سے بجلی بنانے کے بند یونٹ چل پڑیں گے

قطر سے سستی ایل این جی کی درآمد سے بجلی بنانے کے بند یونٹ چل پڑیں گے

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

جو لوگ طویل عرصے سے یہ شور مچا رہے تھے کہ قطر سے مہنگی گیس خریدی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے وہ نرخ بھی منظرعام پر نہیں لائے جا رہے جو ’’اندر خانے‘‘ قطری حکومت کے ساتھ طے کرلئے گئے ہیں اور ان مہنگے نرخوں سے نہ جانے کون کون مستفید ہو رہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا تھا کہ قطر سے جو مہنگی گیس درآمد کی جا رہی ہے، وہ لوگوں کیلئے قابل برداشت ہی نہیں ہوگی اور وہ جو اس وقت گیس کی قلت کو رو رہے ہیں جب قطری گیس کی قیمتیں ان کے سامنے آئیں گی تو وہ ان پر آنسو بہائیں گے۔ غرض جس کسی کے ذہن اور دل میں جو کچھ آ رہا تھا کہے جا رہا تھا، پارلیمنٹ کے ارکان بھی اپنے اپنے انداز میں ایسے ایسے تبصرے کر رہے تھے، جن میں مزاح کے بھی کئی پہلو سامنے آتے تھے لیکن آج جب دوحہ میں قطر سے ایل این جی (مائع قدرتی گیس) درآمد کرنے کے معاہدے پر دستخط ہوئے تو پتہ چلا کہ یہ گیس پاکستان جس قیمت پر خرید رہا ہے، اتنی سستی قطر نے کبھی کسی دوسرے ملک کو فروخت نہیں کی۔ اب معلوم نہیں یار لوگ اس پر کیا تبصرہ کریں گے اور اس کی کیا تاویلات سامنے آئیں گی لیکن یہ جو سودا ہوا ہے اس کا فوری طور پر فائدہ ان بجلی گھروں کو ہوگا جو گیس نہ ملنے کی وجہ سے بند پڑے تھے، اب جب گیس میسر ہوگی تو وہ چل پڑیں گے اور اس طرح دو ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی امید ہے جو گیس کی آمد کے ساتھ ہی سسٹم میں آ جائے گی۔ دوسرا فوری فائدہ یہ ہوگا کہ گیس نہ ملنے کی وجہ سے کھاد بنانے کے جو کارخانے بند پڑے تھے، وہ بھی چل پڑیں گے اور کھاد کی درآمد پر جو زرمبادلہ خرچ ہو رہا تھا اس کی بچت ہو جائے گی۔ موازنے کی خاطر یہاں بتا دیا جائے کہ جن نرخوں پر قطر سے گیس درآمد ہوگی، وہ ایران اور ترکمانستان دونوں سے سستے ہیں، ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ تو 2013ء کے عام انتخابات سے تھوڑا عرصہ پہلے ہوگیا تھا، لیکن پاکستان کے اندر اس گیس پائپ لائن کی تعمیر ابھی شروع نہیں ہوئی، تاخیر کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ جس زمانے میں ایران کے ساتھ پائپ لائن کی تعمیر کا معاہدہ ہوا، اس وقت ایران پر عالمی اور امریکی پابندیاں لگی ہوئی تھیں اور خدشہ تھا کہ پائپ لائن بچھانے کی صورت میں پابندیوں کا رخ پاکستان کی جانب نہ موڑ دیا جائے حالانکہ محض پائپ لائن بچھانے پر تو پابندیوں کا اطلاق ہو ہی نہیں سکتا، جب تک اس پائپ لائن کو ایران کے ساتھ جوڑ کر باقاعدہ چالو نہ کردیا جائے، اب بھی جب ایران پر پابندیوں کا خاتمہ ہوچکا ہے اور پوری دنیا کے بزنس مین اور کاروباری کمپنیوں کے نمائندے ایران کی جانب کھنچے چلے آ رہے ہیں کہ ایرانی ہوٹلوں میں کمرے نہیں مل رہے، امریکہ اب اس پائپ لائن کا ’’جائزہ‘‘ لے رہا ہے۔ تاہم اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اس ضمن میں اپنی پوزیشن اندرون اور بیرون ملک واضح کرے اور یہ بتایا جائے کہ یہ ایرانی گیس پائپ لائن تعمیر ہوگی بھی یا نہیں۔ ترکمانستان سے گیس کی درآمد (تاپی) کے لیے جو پائپ لائن تعمیر کرنے کے کام کا سنگ بنیاد دو ماہ پہلے رکھا گیا ہے اس کی تعمیر بھی 2019ء سے پہلے ممکن نہیں ہوگی۔ اس پس منظر میں یہ غنیمت ہے کہ قطر کے ساتھ گیس کی درآمد کا معاہدہ ہوگیا ہے۔ یہ ایل پی جی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گی اور یہاں سے پائپ لائنوں کے ذریعے صارفین تک پہنچائی جائے گی۔ گاڑیوں میں ا ستعمال کیلئے اس ایل این جی کو سی این جی کی شکل میں ڈھالا جائے گا۔ اس طرح امید ہے کہ پنجاب کے صارفین کو بھی طویل عرصے کے بعد سی این جی ملنا شروع ہو جائے گی، جو اس وقت بند ہے۔ ایل این جی کو کراچی سے لاہور پہنچانے کیلئے روس ایک پائپ لائن تعمیر کرے گا جس کا افتتاح مارچ یا اپریل میں متوقع ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ افتتاح کیلئے روسی صدر پیوٹن خود پاکستان آئیں گے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک تاریخی موقع ہوگا اور روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

ایل این جی کی درآمد کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم، ریڈیو اور ٹی وی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ الثانی کے درمیان ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ قطر پاکستانیوں کیلئے دوسرا گھر ہے، دونوں ملکوں نے تجارت کا حجم بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور ممکنہ طور پر قطر پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر اور سپر مشاق طیاروں کا خریدار بھی ہوسکتا ہے، دوحہ میں دونوں طیاروں کی پرواز کا مظاہرہ امیر قطر اور وزیراعظم نوازشریف نے دیکھا، اس متاثر کن فضائی مظاہرے میں پاکستان میں تیار ہونے والے دونوں طیاروں نے حصہ لیا، جے ایف 17 تھنڈر اپنے مدمقابل طیاروں میں بہترین کارکردگی کا حامل ہے اور اس کی قیمت بھی مقابلتاً بہت کم ہے، سپر مشاق طیاروں کو بھی فرانس اور دبئی ایئر شوز میں خصوصی پذیرائی ملی تھی۔ اب اگر دوحہ میں دونوں طیاروں نے فضائی مظاہرے کئے ہیں تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قطر ان طیاروں کی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے، اگر ان کی فروخت کا سودا ہوتا ہے تو تجارتی توازن پاکستان کے حق میں بہت بہتر ہو جائے گا۔ گیس سے پاکستان کی ضروریات پوری ہوں گی تو سپر مشاق اور جے ایف 17 تھنڈر طیارے قطری ایئر فورس کی ضروریات پوری کریں گے اور اس طرح دونوں ملکوں میں نہ صرف تجارتی حجم بڑھے گا بلکہ قطر کے ساتھ پاکستان کا تجارتی توازن بہت متوازن ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے گزشتہ ماہ وزیراعظم نوازشریف کے دورۂ سری لنکا کے موقع پر سری لنکا نے آٹھ جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے اور سری لنکا اس سلسلے میں بھارتی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جو سری لنکا کو اپنے طیارے فروخت کرنا چاہتا تھا، لیکن سری لنکا نے بہتر کارکردگی کی بنا پر جے ایف 17 تھنڈر خریدنے کو ترجیح دی۔ گیس کی درآمد سے پاکستان کو تیل کی درآمدکی مد میں بہت بچت ہوگی، تیل کی قیمتیں کم ہونے اور گیس کی درآمد کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو بڑا سہارا ملا ہے۔ اس کا فوری فائدہ یہ بھی ہوگا کہ تیل کا درآمدی بل مزید کم ہوگا جو گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پہلے ہی کافی کم ہوچکا ہے اور جس کی وجہ سے پاکستان میں پٹرول کی قیمت 71 روپے فی لیٹر تک گرچکی ہے حالانکہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس پہلے کی نسبت بہت بڑھا دیئے ہیں۔

مزید : تجزیہ