اوبامہ انتظامیہ 41کھرب کا بجٹ پیش کر دیا ،پاکستان کیلئے 86کروڑ ڈالر مختص

اوبامہ انتظامیہ 41کھرب کا بجٹ پیش کر دیا ،پاکستان کیلئے 86کروڑ ڈالر مختص

واشنگٹن ( بیورو چیف،آئی این پی ) اوبامہ انتظامیہ نے آئندہ مالی سال کیلئے 41 کھرب ڈالر کا ریکارڈ بجٹ کانگریس میں پیش کردیا ہے۔ یکم اکتوبر 2016ء سے 30 ستمبر 2017ء تک محیط اس عرصے کیلئے بجٹ تجاویز میں دفاعی اخراجات کیلئے ساڑھے چھ سو ارب ڈالر کا مطالبہ شامل ہے۔ منظوری کی صورت میں امریکی فوجیوں اور دفاعی سویلین کی تنخواہ میں سولہ فیصد اضافہ ہوگا۔ اس بجٹ میں عراق، شام، افریقہ اور افغانستان میں فوجی آپریشن کیلئے 58 ارب 80 کروڑ ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔ بجٹ میں تعلیمی شعبے کے مجموعی اخراجات 79 ارب 40 کروڑ ڈالر، توانائی کیلئے 30 ارب 80 کروڑ ڈالر، ماحولیات کیلئے 8 ارب 60 کروڑ ڈالر اور صحت کیلئے ساڑھے گیارہ کھرب ڈالر اور ہوم لینڈ سکیورٹی کیلئے 47 ارب ڈالر شامل ہیں جبکہ وزارت خارجہ کیلئے 57 ارب 40 کروڑ ڈالر اخراجات کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ ان بجٹ تجاویز کی حتمی منظوری کا اختیار کانگریس کے پاس ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کے تحت ہائی سکول کے بارہ سال کی مفت تعلیم کے بعد کالج کے مزید دو سال کیلئے تعلیم بھی مفت کردی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس نے مزید بتایا کہ ملازمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور معیشت بہتر ہوئی ہے اور حکومت کی کامیاب پالیسیوں کے نتیجے میں اوبامہ کیئر کے تحت تقریباً ایک کروڑ اسی لاکھ مزید شہری رجسٹر ہوئے ہیں۔دوسری طرف آئندہ مالی سال کے امریکی بجٹ میں پاکستان کیلئے 86 کروڑڈالرکی رقم رکھنے کی تجویز دی گئی،پاکستان کیلئے معاشی سپورٹ فنڈ کے تحت 40 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کیے گئے ہیں۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے مختص رقم میں 26 کروڑ 50لاکھ ڈالرز فوجی سازوسامان کے لیے رکھے گئے ہیں، بجٹ میں مختص رقم سے پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ بنانے، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بھارت سے تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ عالمی انسداد منشیات کے تحت چار کروڑ ڈالر کی رقم بھی مختص کی گئی ہے جس کے تحت یہ رقم پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں خرچ ہوگی۔ترجمان محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی حکمت عملی میں پاکستان مرکزی حیثیت رکھتا ہے، افغانستان میں امن، جوہری عدم پھیلاؤ ، جنوبی اور وسطی ایشیا میں اقتصادی ترقی کے لیے امریکی کوششوں میں پاکستان کا اہم مقام ہے۔

مزید : علاقائی