متاثرہ قبائلیوں کی بحالی اور واپسی اہم ، جلد ہونا چاہئے!

متاثرہ قبائلیوں کی بحالی اور واپسی اہم ، جلد ہونا چاہئے!

تجزیہ:چودھری خادم حسین

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے خیبرپختونخوا کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اس عزم کو پھر دہرایا ہے کہ پاک فوج نے عوام کے تعاون سے قربانیاں دے کر دہشت گردوں کو مار بھگایا اس سلسلے میں قبائلی عوام کی قربانیاں اور تعاون بھی کم نہیں، اب ان دہشت گردوں کو کسی قیمت پر واپس نہیںآنے دیا جائے گا۔ جنرل راحیل شریف نے بہرحال اس طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بے گھر ہونے والوں کی واپسی اور آباد کاری بہت بڑا چیلنج ہے کہ جائیدادوں کو جو نقصان ہوا ان کو بھی بحال کرنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکومتوں اور اداروں سے کہا کہ وہ اس مسئلے کو توجہ اور تندہی سے حل کریں۔

دوسری طرف یہ اطلاع ہے کہ حکومت نے30لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ یہ مدت31دسمبر2015ء کو ختم ہو گئی تھی، اب ان کی واپسی کا فیصلہ وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے تعاون سے کرنا ہے۔ اگر ذرا غور کیا جائے تو یہ دونوں مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ افغان مہاجروں کی رجسٹر تعداد 30لاکھ بتائی جاتی ہے، لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ تعداد میں ہیں اور پھر یہ مقررہ کیمپوں میں بھی مقیم نہیں، پورے مُلک میں پھیل چکے ہیں، بلکہ افغان باشندوں نے پاکستان کے شناختی کارڈ حاصل کئے، پاسپورٹ بنوا کر دوسرے ممالک میں پاکستان کے شہریوں کی حیثیت سے گئے، جبکہ انہی میں سے بے شمار وہ ہیں جو جائیدادیں خرید کر باقاعدہ کاروبار کر رہے ہیں۔ یہ راولپنڈی لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں بھی ہیں۔ یہ باقاعدہ ایک مسئلہ ہے جس پر پوری توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے، حال ہی میں نادرا کے بعض ملازمین کو افغان باشندوں کو شناختی کارڈ بنوا کر دینے کے الزام میں پکڑا گیا، جبکہ دہشت گردی کے حوالے سے مہم کے دوران کئی غیر قانونی مقیم افغان باشندے حراست میں لئے گئے، چنانچہ اس طرف مکمل توجہ دینا ہی ضروری ہے۔ انسانی ہمدردی اور ہمسایہ ہونے کا عمل اپنی جگہ تاہم یہ بھی تو دیکھا جائے کہ ان کی وجہ سے معاشرتی مسئلہ کیا ہے اور جرائم میں کیا حصہ ہے۔

جہاں تک بے گھر ہونے والے قبائلیوں کا تعلق ہے تو ان میں بہت تھوڑے لوگ گھروں کو واپس جا سکے ہیں، ان کی بستیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے ملبہ کا ڈھیر بن چکی ہیں، ان کی تعمیر نو کے لئے رقوم مختص ہونے کی خبریں اور اطلاعات بھی ہیں، لیکن عملی طور پر ابھی کام کی رفتار وہ نہیں جو ہونا چاہئے، چنانچہ جب جنرل راحیل شریف توجہ دلاتے ہیں تو غور کی ضرورت ہے، صوبائی اور وفاقی حکومت کو مل کر یہ مسئلہ جلد از جل حل کرنا چاہئے کہ لوگ اپنے گھروں میں بسیں، اسی صورت میں ان کا تعاون بھی حاصل ہو گا اور جذبہ بھی برقرار رہے گا۔

پی آئی اے کا مسئلہ حل ہو گیا، بعد از خرابی بسیار آپریشن شروع ہو چکا اب بعد از ہڑتال کے معاملات میں ملازمین کی ایکشن کمیٹی کے وفد نے گزشتہ روز پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف ملاقات اور تبادلہ خیال کیا۔ یہ وفد بات چیت سے مطمئن ہے اور ان کی طرف سے بہتری کا یقین دلایا گیا ہے تاہم ایک بات جو ہم نے پہلے بھی واضح کی تھی۔ وہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت نجکاری کا عمل ہر صورت پورا کرے گی کہ یہ ان کا ارادہ اور یقین بھی ہے۔ وزیراعظم نے عالمی بنک کے صدر سے ملاقات کے دوران پھر کہا ہے کہ کاروبار حکومتوں کا کام نہیں، جبکہ نجکاری کمیشن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ نجکاری ہو گی،ملازمین کے نمائندہ حضرات کو اسی ماحول اور ارادے کے پیش نظر اپنی حکمت عملی وضع اور مطالبات ترتیب دینا چاہئیں۔

مزید : تجزیہ