تو کون ؟؟ ....... میں خوامخواہ

تو کون ؟؟ ....... میں خوامخواہ
تو کون ؟؟ ....... میں خوامخواہ

  

سنیے! آپ وہی  نا جن کی پھوپھو کو پچھلے سال طلاق ہوگئی تھی " میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور منہ سے صرف ایک ہی لفظ نکلا " جی ؟ " حالانکہ لفظ  " جی  " میں استفسار تھا کہ محترمہ ہمسائی صا حبہ یہ تعارف کا طریقہ کس ملک کی ایجاد ہے مگر وہ کیونکہ پہلے ہی " باخبر " ذرا ئع سے تمام معلومات  اکھٹی کر چکی تھیں لہذا میری" جی" کو وہ میرا "اعتراف گناہ " سمجھیں! " ہاۓ ! سنا ہے سال بھر ہی ہوا تھا، اتنی دیر سے کیوں شادی کی ؟" . " دیر سے " ؟ میں نے پوچھنا چاہا کہ وہ کس صدی سے ہمارے خاندان کی جاسوسی کر رہی ہیں . "  ہاں نا ، دیر ہی ہوئی ، کیونکہ آپکی پھوپھو ہیں اور آپکی عمر بھی کافی لگ رہی ہے ، ویسے آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی ؟ ایک ڈیڑھ سال گزرگیا تو پھرکوئی نہیں پوچھے گا " . میں کونسا سوال ہوں جو کسی نے پوچھنا ہے ؟ میں نے بھی بدتمیزی کر ہی ڈالی ( کافی دیر نہیں ہوگئی انکے ڈرونز کا مقابلہ کرتے ، اب بس ) لیکن شاید انہیں اس بات سے زیادہ غرض تھی کہ اپنے بارود کو تیلی دیکھا کر اوجڑی کیمپ بنا ڈالیں ! میزایل اڑ ، اڑ کر دوسروں کو زخمی کریں تو انکے  دل کو اطمینان نصیب ہو.

  کوئی نوکری وغیرہ بھی کرتی ہو ، بہت پڑھ لینے والی لڑکیوں کا یہی مسلہ رہتا ہے"”

 فی الحال تو سب سے بڑا مسلہ آپ ہیں جونان سٹاپ ٹرین کی طرح چلتی ہی  جارہی ہیں شاید کسی ایکسیڈنٹ سے ہی  آپکو بریک ملے گی ، میں نے یہ سب دل ہی  دل میں کہا ! نیت تو یہی تھی کہ یہ سب جملے انکے گوش گزار کر دوں اور یہ بھی کہ جب بولیں تو دوسرے کے دلی جذبات کا نہیں تو کم از کم چہرے کے تاثرات کا مشاہدہ تو کر لیا کریں مگر میری تمیز اور برداشت انکو " شے " دے رہی تھی.

 یہ تھیں پاکستانی معاشرے کا ایک "نارمل " سا کردار جو ہرمحلے ہر گلی ، ہر تعلیمی اور دفتری ادارے میں  نہ صرف پایا جاتا ہےبلکہ بدرجہ اتم پایا جاتا ہے.انکی پرورش ایک خاص "درجہ حرارت "میں ہوتی ہے جہاں "اسٹیرو ٹایپنگ " کے جراثیم پھلتے پھولتے ہیں انہی جراثیم نے ایسی خواتین ؤ حضرات کے ذہن پر مکمل قابو پایا ہوا ہے وہ نہ صرف اپنے ارد گرد کے ماحول کو اپنی ذہنی سطح سے دیکھتے ہیں بلکہ اگر کوئی مختلف طبا ئع کے افراد ان جراثیم شدہ افراد سے ٹکرا جائیں تو یہ زبردستی ان افراد کو اپنی سطح پر گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہیں.

 حقیقت یہ ہے کہ  وقت اور حالات بدلتے  رہتے ہیں آج دنیا وہ نہیں رہی جو آج سے 25 سال پہلے تھی ٹیکنولوجی نے لوگوں کی صورتیں تک تبدیل کر دی ہیں آج تو آپ صبح اپنی

 طوطے سی ناک لے کر کاسمیٹک سرجری کی کسی "دکان " میں جائیں پیسے ہاتھ میں رکھیں اور شام کو ستواں ناک لے کر گھر واپس آجائیں ، جی مجھے معلوم ہے میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہی ہوں لیکن یہ بھی دور حاضر کی ایک سوغات ہے سو جہاں سچ نایاب ،مبالغہ آرائی اور جھوٹ آسان نرخوں پر دستیاب ہوں وہاں معاشرے  میں "خوامخواہ " نسل کے لوگ بافراط پاۓ جاتے ہیں .

جیسی محترمہ کا میں ذکر کر چکی ہوں ویسی خواتین آپکو اندرون ملک کے علاوہ بیرون پاکستان بھی دستیاب ہیں گو کہ پاکستان سے باہر قدم رکھتے ہی وہ دوسروں پر سوالات کے ڈرونز کے ساتھ ساتھ اپنی "شیخیوں "کے میزایل بھی داغتی رہتی ہیں ایسی خواتین کے حساب کتاب سے وہ "کامیاب ترین " مخلوق ہوتی ہیں انہیں اس  "کامیاب زندگی "کے سارے گر آتے ہیں جوانکے بقول "نارمل " زندگی ہے یعنی 26 سال کا شوہر 18 سال کی بیوی اور دو بچے ؟ زندگی نہ ہوئی پی ٹی وی پر آنے والا 70 کی دہائی کا کوئی اشتہار ہوگیا.

اسکے علاوہ جو بھی اس "اشتہار نما " زندگی سے دائیں بائیں ہوا وہ "ا بنارمل " کے زمرے میں آتا ہے اور اسپردراندازی کرتے ہوۓ ڈرونز پھینکنا ہمارے معاشرے میں آج  یعنی سن 2016 تک حلال ہے

کسی کی اولاد نہ ہو، بیروزگاری ، طلاق یا کوئی جسمانی معذوری...  حالاں کہ یہ سب واقعات کسی کی بھی زندگی میں معمول کا حصہ ہو سکتے ہیں مگرہمارے معاشرے میں افراد کی زندگی میں لوگوں کی انفرادی دخل اندازی اور اجتماعی بے حسی ایسے میں

مایوسی بیزاری اور خودکشی کی طرف دھکیل دیتی ہے  فرد کی زندگی  کو

حیرت کی بات یہ ہے کہ جب ہماری اپنی زندگی اس  معاشرے کی نظر میں " نارمل کٹ میں فٹ نہیں ہوتی تو ہم خود ایسے سوالوں سے جان چھوڑا کر یا تو سوسایٹی سے کٹ جاتےہیں یا زیادہ ہی  "ابنارمل " وقت پڑ جاۓ تو یورپ اور امریکہ کے "اپنے کام سے کام رکھو ٹائپ" معاشرے میں پہنچ جانے کی تگ ؤ دو شرو ع کر دیتے ہیں.

 لیکن ہم میں سےیہ کوشش بہت کم لوگ کرتے ہیں کہ اپنےھی  معاشرے کو ایسے "خوامخوہ " جراثیم سے بیمارپڑے  لوگوں سے نجات دلائیں جو ہمارے مسلوں کا حل نہیں جانتے مگر کرید ، جستجو اور بے مقصد سوالات سے ہماری زندگیوں کو تکلیف دہ ضرور بنا دیتے ہیں ایسے لوگوں کے سوالات اور نکتہ چینیوں سے گھبرا کر بہت سے کارآمد وجود معاشرے سے کٹ کر بےمقصدیت کا شکار ہوجاتے ہیں .انسان کی تخلیقی صلاحیتو ں پر منفی اثرات خود اذیتی یا خود رحمی جیسے نفسیاتی مسایل    ڈالتے ہیں اور وہ معاشرے میں آپنا وہ کردار ادا نہیں کر سکتا جو کہ ایک آزاد اور خود اعتماد انسان کر سکتا ہے .

یوں بھی اگر آپ دوسرے کے لیے پسند نہیں کرتے کہ وہ آپکے گھر کی کھڑکیوں سے اندر جھانکیں توآپ خود کیوں کسی دوسرے کے دروازے سے کان لگاۓ کھڑے ہیں.

اس سےاچھا  نہیں کہ آپ اپنے لیے کوئی بہتر مصروفیت ڈھونڈیں ؟

افسوسناک خبر یہ ہے کہ آج سے دس بارہ سال پہلے تک جو بیماری اپنے محلے کی  محترمہ اور محترم "خوامخواہ " کو تھی آج ہمارے ما رنگ شوز کی ٹیموں کو ملکی سطح پر  لگ چکی  ہے  دنیا آگے جارہی ہے اور ہم پیچھے کی طرف تیزی سے دوڑ رہے ہیں. مہذب دنیا اور ہمارے درمیان جو فاصلہ پہلے کچھ سالوں کا تھا اب بڑھ کر دہایوں کا ہوچکا ہے کیونکہ اب ہم مہذب دنیا کی دی ہوئی ٹیکنولوجی کے ذریعے جہالت پھیلا رہے ہیں مثلا ایک  صاحبہ کیمرے اور مائیک  سمیت شہر کے کونوں کھدروں میں چھاپے مارنا شروع ہوگیں سمارٹ فونز کے ذریعے بازاروں اور پارکس میں بیٹھے افراد کی سرگرمیوں کو انکی اجازت کے بغیر کبھی اینٹرٹینمنٹ چینلز اور کبھی نیوز چینلز تک پہنچا دیا جاتا رہا.

گھروں کا بھی یہی حال ہے مثلا ایک صاحبہ نے تو جاپان اور امریکہ کی مشترکہ کوشش کا "کامیاب تجربہ " کر ڈالا ، اپنے بھائی کے لیے  رشتہ لے کر آئیں گھروالوں کی اجازت کےبغیر گھرمیں چکرلگاتی ہوئی،کچن میں کام کرتی لڑکی  کی تصویریں"اپلوڈ "کر کے بھائی تک پہنچا دیں کہ "اصلی مال " یہ ہے پھر شکایت نہ کرنا..

 اب کوئی پوچھے کہ آپ نے جو اپنا  اصلی مال" یورپ میں گاڑیوں کا بزنس کرتا ہے"، کی پہچان  سے پردے میں چھپا رکھا ہے جو حقیقت میں گیس اسٹیشن پرکھڑا آنےجانےوالوں سے ٹپ وصول کرتا ہے  اسکی "حقیقت" کب اپلوڈ  ہو رہی ہے ؟

سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسی جہالت کے ساتھ دنیا سے بحیثیت  قوم رخصت ہوجائیں گے ؟ کیونکہ ہم اخلاقیات کےپہاڑ   پر چڑھنے کی کوشش نہیں کر رہے بلکہ اونچائی سے لڑھکتے ہوۓ نیچے کی طرف آرہے ہیں ایک دو افراد اس طرح اونچائی سے پھسلیں تو چڑھائی کی طرف جانے والے شاید سہارا دے دیں مگر یہاں تو ایک مجمع ہے اورافسوسناک حقیقت یہ ہے کہ  اس میں ایسے ایسے دین و دنیا کے  ہیوی ویٹ لڑھکتے چلے آرہے ہیں کہ سنبھالنے والا بھی انکے بوجھ سے انہی کے ساتھ نیچےپستی میں گرتا چلا آ رہا ہے.

تعلیم تواب ڈگریوں سے لد جانے کا نام ہوچکی ہے یا جیب بھا ری ہونے کا اور بس

ہم نے شعور اور آگہی سے اپنے  ذہنوں کو روشن کیا ہوتا تو ہم بھی مہذب معاشروں کی طرح دوسروں پر تنقید ،انکی زندگیوں میں دخل اور اجتماعی بے حسی کے ا علی شاہکار  بننے کی بجاۓ سوسایٹی کے مفید شہری بنتے اور یقینا ٦٨ سال گزرنے کے بعد پیچھے کی طرف نہیں بلکہ آگے کی طرف سفر کرتے.

کچھ لکھاری بارے۔۔

آئینہ سید کراچی سے تعلق رکھتی ہیں، پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں، معاشرتی تلخیوں پر عموما قلم اٹھاتی ہیں۔ ان سے رابطہ ٹوئٹر پر اس ہینڈل کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

Twitter: @A_ProudCivilian

مزید : بلاگ