ایل این جی معاہدے سے توانائی بحران پر قابوپانے ، ملکی خوشحالی میں مدد ملے گی،تجزیہ کاروں کا ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال

ایل این جی معاہدے سے توانائی بحران پر قابوپانے ، ملکی خوشحالی میں مدد ملے ...
ایل این جی معاہدے سے توانائی بحران پر قابوپانے ، ملکی خوشحالی میں مدد ملے گی،تجزیہ کاروں کا ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال

  

اسلام آباد (اے پی پی)تجزیہ کاروں نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے حوالے سے پاک قطر معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے توانائی بحران پر قابو اور ملک کی خوشحالی میں مدد ملے گی۔ سوئی سدرن گیس کے سابق جنرل منیجر بریگیڈیئر آغا گل نے ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایل این جی کی درآمد کے حوالے سے کوششوں کا آغاز 2004ء میں ہوا تھا لیکن اس کو حتمی شکل دینے کا سہرا وزیر اعظم محمد نواز شریف کے سر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس معاہدے کو توانائی بحران کے حل کے حوالے سے امید کی کرن سمجھتے ہیں ۔ آغا گل نے کہا کہ معاہدہ اس وقت کیا گیا جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہیں اور اس سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ سیاسی تجزیہ کار خالد خورشید نے اس حوالے سے کہا کہ پاکستان کو توانائی کی قلت کا سامنا تھا اور ملک کی تمام سیاسی قیادت پاکستان کے مفاد کیلئے معاہدے کو خوش آئند سمجھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کو اس حوالے سے مطمئن کیا کہ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق گیس مہنگے نرخ پر درآمد نہیں کی جا رہی ۔ اقتصادی تجزیہ کار فرحان نے کہا کہ معاہدے سے نہ صرف توانائی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے دونوں ممالک کے اقتصادی روابطہ مزید مستحکم ہونگے ۔ شعبہ کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی کے معاہدے کو قوم کیلئے روشن مستقبل کا پیغام قرار دیا ہے جس سے توانائی کے شعبہ کی ترقی اور ماحول دوست گیس کے ذریعے ملکی طلب کو بھی پورا کیا جا سکے اور اس سے سستی توانائی کے حصول کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اقتصادی راہداری منصوبہ کے بعد اسی معاہدے کو انرجی کی راہداری کا ایک اور تحفہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سستی گیس کی درآمد سے کھاد کی صنعت ، سی این جی ، سستی بجلی کی پیداوار اور لوڈشیڈنگ میں کمی کرنے میں مدد ملے گی اور ملک میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

مزید : بزنس