دنیا کا وہ ملک جہاں دنیا کی تاریخ میں آج تک سب سے زیادہ بم برسائے گئے، جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

دنیا کا وہ ملک جہاں دنیا کی تاریخ میں آج تک سب سے زیادہ بم برسائے گئے، جواب آپ ...
دنیا کا وہ ملک جہاں دنیا کی تاریخ میں آج تک سب سے زیادہ بم برسائے گئے، جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وینتیان (نیوز ڈیسک) امریکی حکمرانوں کے بیانات سنیں تو لگتا ہے کہ یہ عالمی امن کے لئے دن رات پریشان پھرتے ہیں، لیکن تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ دنیا کو برباد کر دینے میں اس ملک نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ویت نام کی جنگ کے دوران ایشیائی ملک لاﺅس کی بربادی بھی امریکا کے سیاہ ترین کارناموں کا ایک بھیانک باب ہے۔

پی ایس ایل میچز انٹرنیٹ پر دیکھنے کے خواہشمندوں کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرزاور ٹیپ میڈ ٹی وی نے انتہائی شاندار خوشخبری سنا دی ،بہترین سروس متعارف کروا دی

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 1960ءاور 70ءکی دہائی میں ویتنام جنگ کے دوران لاﺅس پر امریکہ نے ہزاروں یا لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں بم گرائے۔ ایک اندازے کے مطابق 1964ءسے 1973ءکے دوران اس ملک پر تقریباً ہر منٹ کے دوران 8بم گرائے جاتے رہے۔ یہ تعداد دوسری جنگ عظیم میں گرائے گئے کل بموں کے تعداد سے بھی زیادہ تھی۔

لاﺅس پر بمباری کے لئے کل 580344 مشن روانہ کئے گئے جنہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 26کروڑ بم گرائے۔ ان بموں کی صورت میں لاﺅس کے جنوبی اور شمالی علاقوں پر 20 لاکھ ٹن بارود گرایا گیا۔ تاریخ کی اس سب سے بڑی بمباری کا مقصد کمیونسٹ شمالی ویتنامی فوجوں کو تنہا کرنا تھا۔

یہاں گرائے گئے بموں کی اکثریت اینٹی پرسنیل کلسٹر بم تھے۔ ایک اندازے کے مطابق ان میں سے 30 فیصد پھٹ نہیں سکے۔ بارودی سرنگیں صاف کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تقریباً 29 کروڑ کلسٹر ہتھیار اور ساڑھے سات کروڑ بم لاﺅس کی سرزمین پر موجود تھے۔

کلسٹر بموں کو عام طور پر فضاءسے گرایا جاتا ہے۔ یہ بموں کا مجموعہ ہوتے ہیں جو پھٹتے ہیں تو سینکڑوں چھوٹے بم وسیع و عریض علاقے میں پھیلادیتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد پھٹے بغیر وسیع و عریض رقبے پر کئی دہائیوں تک موجود رہتی ہے اور مدتوں تک تباہی کا باعث بنتی رہتی ہے۔ کلسٹر بموں کو بین الاقوامی قانون کے مطابق ممنوعہ ہتھیار قرار دیا گیا ہے اور 108ممالک نے اس پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں، جن میں امریکا شامل نہیں ہے.

مزید : بین الاقوامی