ٹرمپ کے ووٹر اس امریکی شہری کو مسلمانوں سے نفرت تھی لیکن پھر مسلمان خاندان آکر اس کی عمارت میں رہنے لگا تو اس نے ایسی چیز دیکھ لی کہ یکسر بدل گیا، اب مسلمانوں کا سب سے بڑا فین بن گیا کیونکہ۔۔۔

ٹرمپ کے ووٹر اس امریکی شہری کو مسلمانوں سے نفرت تھی لیکن پھر مسلمان خاندان ...
ٹرمپ کے ووٹر اس امریکی شہری کو مسلمانوں سے نفرت تھی لیکن پھر مسلمان خاندان آکر اس کی عمارت میں رہنے لگا تو اس نے ایسی چیز دیکھ لی کہ یکسر بدل گیا، اب مسلمانوں کا سب سے بڑا فین بن گیا کیونکہ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)اہل مغرب میں مسلمانوں کے خلاف تعصب بہت عام ہے۔ جسے دیکھو مسلمانوں کا دشمن ہوا ہے، چاہے عمر بھر ایک بھی مسلمان سے واسطہ نہ پڑا ہو۔ امریکی شہری جان ڈچر بھی مسلمانوں کے خلاف بہت سخت جذبات رکھتا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران تو اس کا تعصب انتہاﺅں کو چھونے لگا تھا، مگر پھر اس کی زندگی میں ایک حیرت انگیز انقلاب آ گیا۔

پی ایس ایل میچز انٹرنیٹ پر دیکھنے کے خواہشمندوں کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرزاور ٹیپ میڈ ٹی وی نے انتہائی شاندار خوشخبری سنا دی ،بہترین سروس متعارف کروا دی

جان ڈچرکا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اس وقت تبدیل ہوگیا جب شام، افغانستان اور کچھ دیگر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان شہری اس کے رہائشی بلاک میں منتقل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ 9/11 دہشتگردی کے بعد سے مسلمانوں سے شدید نفرت کرتے تھے، لیکن ان مسلمانوں سے ملتے ہی ان کی گزشتہ 16 سال کی نفرت جڑ سے ختم ہوگئی۔

جان ڈچر نے بتایا ”یہ اس وقت شروع ہوا جب دو مسلمان خواتین میرے ہاں آئیں اور مجھے محسوس ہوا کہ مجھے ان کی مدد کرنی چاہیے۔ وہ انگریزی نہیں بولتی ہیں اور میں نے انہیں پیشکش کی کہ اگر انہیں کوئی بھی ضرورت پیش آئے تو وہ مجھے ضرور بتائیں۔ اب میرے گھر کے آس پاس کا ماحول بچوں کے قہقہوں سے بھرا ہوتا ہے اور وہ سب مجھے ”بگ برادر“ کہتے ہیں۔ وہ ’جان، جان، جان‘ چلاتے ہوئے مجھے پکارتے ہیں۔ میرے کانوں کے لئے یہ مدھر موسیقی کی طرح ہے۔ یہ اس سب سے بہت بہتر ہے جو یہاں پہلے تھا۔ اگر ان کے یہاں آنے سے پہلے مجھ سے پوچھا جاتا تو میں کہتا انہیں دور ہی رہنے دو، لیکن ان سے ملنے کے بعد مجھے پتہ چلا ہے کہ یہ کتنے اچھے اور شاندار لوگ ہیں۔“

جان ڈچر نے بہت سے امریکیوں کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا لیکن اب انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے سخت اختلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان خاندانوں سے ملنے کے بعد وہ مسلم ممالک کے شہریوں پر لگائی گئی پابندی پر بہت افسردہ ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس