’ہوائی جہاز کو حادثہ ہوجائے تو یہ کام کرکے آپ زندہ بچ سکتے ہیں‘ماہرین نے بہترین طریقہ بتادیا

’ہوائی جہاز کو حادثہ ہوجائے تو یہ کام کرکے آپ زندہ بچ سکتے ہیں‘ماہرین نے ...
’ہوائی جہاز کو حادثہ ہوجائے تو یہ کام کرکے آپ زندہ بچ سکتے ہیں‘ماہرین نے بہترین طریقہ بتادیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہوائی جہاز کا حادثہ اگرچہ بہت خطرناک ہوتا ہے لیکن اس میں زندہ بچ جانے کے امکانات ہلاکت سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اب تک ہونے والے ایسے حادثوں میں 87.7فیصد ایسے تھے جن میں ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔ صرف 12.3فیصد ہوائی حادثے جان لیوا تھے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی حادثات میں اگر مسافر ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے خود کو پہلے سے تیار کر لیں تو ان کے زندہ بچ جانے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ ان ماہرین نے ایک ایسا طریقہ بتایا ہے جس پر عمل کرنے سے بچنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

پی ایس ایل میچز انٹرنیٹ پر دیکھنے کے خواہشمندوں کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرزاور ٹیپ میڈ ٹی وی نے انتہائی شاندار خوشخبری سنا دی ،بہترین سروس متعارف کروا دی

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی ہوائی جہاز کو حادثہ پیش ہو اور پائلٹ کی طرف سے خطرے کا اعلان کیا جائے تو فوری طور پر اپنی سیٹ پر سامنے کی طرف جھک کر بیٹھ جائیں۔ آپ کی پوزیشن یہ ہو کہ آپ کا نچلا دھڑ آپ کی سیٹ کی پشت کے ساتھ اور سر آپ کے سامنے والی سیٹ کی پشت پر پوری طاقت کے ساتھ رکھا ہو۔ اپنے دونوں ہاتھ اوپر نیچے سامنے موجود سیٹ پر رکھیں اور ان کے اوپر اپنا ماتھا رکھ دیں۔ آپ کی سیٹ بیلٹ کندھے پر پوری طاقت کے ساتھ کھنچی ہوئی جبکہ نچلے حصے میں ڈھیلی ہونی چاہیے۔اس طرح بیٹھنے کو بریس پوزیشن (Brace Position)کہتے ہیں۔ جب طیارہ گرنے لگتا ہے تو پائلٹ کی طرف سے بھی ’بریس، بریس، بریس‘ کے الفاظ ادا کیے جاتے ہیں۔ جونہی سپیکر میں آپ کو یہ الفاظ سنائی دیں فوری طور پر خود کو اس پوزیشن میں کر لیں۔

ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ ”ایسی ہنگامی حالت میں کمبل اور تکیوں کا استعمال آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا لہٰذا انہیں اپنے آگے پیچھے سیٹ کرنے میں وقت ضائع مت کریں۔ جب جہاز زمین پر گرتا ہے تو مسافروں کو دو جھٹکے لگتے ہیں۔ پہلا جھٹکا ان کی سیٹ بیلٹ کسنے کا، کیونکہ جہاز زمین سے ٹکرا کر یک لخت رک جاتا ہے لیکن مسافروں کا جسم آگے کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے جسے سیٹ بیلٹ روکتی ہے، اور دوسرا جھٹکا جہاز کے زمین سے ٹکرانے کا۔ یہ دوسرا جھٹکا جان لیوا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر مسافر نے اپنا سر سامنے کی سیٹ اور اپنا نچلا دھڑ پوری قوت کے ساتھ اپنی سیٹ کی پشت کے ساتھ لگا رکھا ہو تو اس کے اس جھٹکے میں بچنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ دوسرے جھٹکے سے بچنے کے بعد مسافروں کو فوری طور پر طیارے سے باہر نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے، اس سے پہلے کہ وہ آگ پکڑ لے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس