34 سال تک جسے اپنی بیٹی سمجھ کر پالتی رہی وہ دراصل کون تھی؟ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ پل بھر میں خاتون کو واقعی زندگی کا سب سب بڑا جھٹکا لگ گیا

34 سال تک جسے اپنی بیٹی سمجھ کر پالتی رہی وہ دراصل کون تھی؟ ایسی حقیقت سامنے ...
34 سال تک جسے اپنی بیٹی سمجھ کر پالتی رہی وہ دراصل کون تھی؟ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ پل بھر میں خاتون کو واقعی زندگی کا سب سب بڑا جھٹکا لگ گیا

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس میں ایک خاتون 34سال تک جس لڑکی کو اپنی بیٹی سمجھ کر پالتی رہی، گزشتہ روز اتفاقاً ڈی این اے ٹیسٹ کروانے پر اسے دوہرا جھٹکا لگ گیا کہ نہ صرف وہ لڑکی اس کی بیٹی نہیں تھی بلکہ وہ خاتون خود بھی ان ماں باپ کی بیٹی نہیں تھی جنہوں نے اسے پالا تھا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق روس کے شہر کرومکن (Kurumkan)کی رہائشی 56سالہ الیزا سیرینووا ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہوئی اور بوجوہ اسے اپنا اور اپنی بیٹی کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانا پڑ گیا۔ جب ٹیسٹ کے نتائج سامنے آئے تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ 34سالہ یولیا درحقیقت اس کی بیٹی نہیں تھی۔ اس پر الیزا نے اپنی بہن 53سالہ سائیتسیاگ پیوٹشکینا کے ساتھ اپنے ڈی این اے کا موازنہ کروایا تو وہاں سے بھی اسے شدید جھٹکا لگا کیونکہ جسے وہ تمام عمر اپنی بہن سمجھتی رہی تھی دراصل وہ اس کی بہن بھی نہیں تھی۔

پی ایس ایل میچز انٹرنیٹ پر دیکھنے کے خواہشمندوں کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرزاور ٹیپ میڈ ٹی وی نے انتہائی شاندار خوشخبری سنا دی ،بہترین سروس متعارف کروا دی

رپورٹ کے مطابق خود الیزا کی پیدائش بھی اسی کرومکن میٹرنٹی ہسپتال میں ہوئی تھی جہاں اس نے 34برس قبل اس بیٹی کو جنم دیا تھا۔ ممکنہ طور پر دونوں بار ہسپتال کی انتظامیہ نے ماﺅں کو غلط بچے تھما دیئے تھے۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ الیزا نے اس روز جس بیٹی کو جنم دیا تھا وہ بھی قریب ہی رہائش پذیر ہے۔ وہ ایک آرٹسٹ ہے جس کا نام دوگارما ہے۔ یہ انکشاف ہونے کے بعد34سال بعد پہلی بار الیزا نے دوگارما کو دیکھا جو اس کی حقیقی بیٹی ہے۔ اب الیزا کے اصل والدین کی تلاش کے لیے کام جاری ہے۔ الیزا کی یہ دردناک داستان ایک روسی ٹی وی ٹاک شو ”Let Them Speak“ میں بیان کی گئی جس میں الیزا، یولیا اور دوگارما نے شرکت کی اور اپنے اندوہناک احساسات بیان کیے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس