ڈی،آئی،جی بنام ڈی،آئی،جی: شکوہ، جواب ندارد!

ڈی،آئی،جی بنام ڈی،آئی،جی: شکوہ، جواب ندارد!
ڈی،آئی،جی بنام ڈی،آئی،جی: شکوہ، جواب ندارد!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ڈپٹی انسپکٹر پولیس (ٹریفک) لاہور کی طرف سے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (آپریشنز) لاہورکو باقاعدہ چھٹی لکھ کر بتایا گیا ہے کہ ان کی ماتحت پولیس شہر میں جو ناکے لگاتی ہے ان کی وجہ سے ٹریفک میں بہت رکاوٹ ہوتی ہے اس حوالے سے باقاعدہ خبر شائع اور نشر ہوئی اور یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ خبر خود ٹریفک پولیس کے شعبہ کی طرف سے ہی مہیا کی گئی، ہمارے میڈیا والے بھائیوں نے اس پر مزید کام کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اور نہ ہی ہمارے اینکر پرسنز حضرات کو اس میں کوئی دلچسپی نظر آئی، اگر ایسا ہوتا تو اب تک اس مسئلہ پر بہت کچھ کہا اور سنا جاچکا ہوتا، لیکن یہاں خاموشی ہے ، حالانکہ یہ بڑی دلچسپ صورت حال ہے کہ خود محکمہ ہی کے ایک شعبہ نے دوسرے کے بارے میں شکائت کردی ہے ویسے ہم اگر عرض کرتے تو شکائت ہوتی کہ جہاں ٹریفک جام حقیقت اور اس سے شہری پریشان ہیں وہاں یہ ناکے بھی اس دکھ میں کہیں زیادہ اضافے کا باعث بنتے ہیں اور شہری صبر شکر سے یہ بھی برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

ہم خود اس صورت حال کا ایک سے زیادہ بارشکار ہوئے اور خصوصی طور پر ڈیفنس جاتے اور آتے ہوئے مشکل سے سفر تمام ہوا، پہلے پہل جب گاڑی شامی روڈ سے ہوتے ہوئے ڈیفنس کی طرف مڑنے لگی توسٹرک گاڑیوں سے بھری ہوئی تھی، دوسری طرف سے تو ٹریفک جاری تھی اور اِدھر سے رینگ رہی تھی، آپس میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے سوچا کہ شاید کوئی حادثہ نہ ہوگیا ہو، دیر بعد جب ڈیفنس والے گیٹ سے سومیٹر دور تھے کہ سامنے پولیس کا ناکہ تھا، لوہے کے دو بیریر ٹیٹرھے کر کے رکھے گئے تھے اور گاڑیوں کو زگ زیگ کرکے گزرنا پڑتا پیچھے سے سب لوگ تین تین چار چار کی قطار میں آتے اور یہاں سنگل لین بنا کر گزرنا پڑتا تھا چنانچہ ٹریفک کا جام ہونا لازم تھا اور یوں بڑی تاخیر سے باری آئی، پھر ہم جب رات کے وقت اس طرف گئے تو یہی صورت حال پائی، جہاں تک ناکہ والوں کا تعلق ہے تو وہاں دو رائفل بردار اور دو تین سادہ طریقے سے کانسٹیبل کھڑے ہوتے تھے یہ حضرات یوں بھی ڈھیلے ڈھالے انداز میں نظر آتے اور یہ احساس ہوتا کہ وہ اس ڈیوٹی سے تنگ ہیں، یہ صورت حال ہر اس سٹرک پر پائی جاتی ہے جہاں بھی یہ ناکہ لگایا جاتا ہے ، تاہم ڈی ، آئی، جی(ٹریفک) نے لاہور کینٹ کی انتظامیہ کو کوئی خط نہیں لکھا کہ اس کی حدود کے ہر داخلی راستے پر چیک پوسٹ ہیں اور یہاں سے گاڑیاں خاص انداز کی پٹرتال کے بعد گزرتی ہیں اور یہاں بھی ٹریفک جوں کی چال سے چلتی اور تاخیر ہوتی ہے لیکن تحفظ کی خاطر برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اب ذرا خود شعبہ ٹریفک کے حالات کا جائیزہ لیں تو ہمارے پیارے وارڈن حضرات تو اب سرے سے ٹریفک کنٹرول ہی نہیں کرتے وہ تو سارا دن موبائل پر گفتگو یا پھر چالان کرتے نظر آتے ہیں اور اگر کسی مصروف چوک پر کوئی وارڈن یہ فرائض انجام دے توسگنل بند کرکے ٹریفک گزارتا ہے اور اس کا یہ انداز چلتی ٹریفک کوبھی جام کردیتا ہے، اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہر مرکزی یا بڑے چوک میں چارچھ ٹریفک وارڈنز نظر آتے ہیں تاہم یہ حضرات چوک کے ایک کونے میں کھڑے موٹر سائیکل سوار نوجوانوں یا بیلٹ کے بغیر کار ڈرائیور حضرات کے چالان کرتے رہتے ہیں، انہی میں کوئی اکا دکا شہری ٹریفک قواعدگی خلاف ورزی کرتا ہوا بھی قابو آجاتا ہے، ان حضرات کی اس ’’خود ساختہ ڈیوٹی‘‘ کے باعث لوگ سگنل کی مکمل پابندی نہیں کرتے اور سگنل سرخ ہونے کے باوجود چلتے رہتے ہیں تاوقتیکہ دوسری طرف کی ٹریفک جبراً گزرنا نہ شروع کرے کئی بار تو یہ بھی ہوتا ہے کہ اس سے افراتفری مچ جاتی ہے لوگ آمنے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں اور چوک میں تماشہ لگ جاتا ہے پھر کہیں ٹریفک وارڈن تشریف لاتے اور مشکل سے گاڑیاں رواں ہوتی ہیں حالانکہ اگریہ صاحب چوک میں کھڑے ہوں تو اشارے کی خلاف ورزی میں بہت کمی واقع ہو جاتی ہے اور اگر پھر بھی کوئی غلطی کرے تو اگلے وارڈن کو اسے روک کر چالان کرنے کا موقع مل جاتاہے، قارئین! یہ سین تو سب نے دیکھا ہوگا کہ مصروف اوقات میں وارڈن فرض شناسی کا ثبوت دیں تو حالات مزید ابتر نظر آتے ہیں اشارہ بند کردیا جاتا ہے اور وارڈن خود ٹریفک گزارتا ہے اور جب یہ صورت حال ہو تو ایک طرف سے زیادہ گاڑیاں گزاری جاتی ہیں اس کے نتیجے میں تین اطراف لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں ان کو کلئیر کرانے میں وقت لگتا ہے حالانکہ اشارہ چل رہا ہو تو ہر طرف سے ٹریفک کو مناسب وقت ملتا ہے، ضرورت یہ ہوتی ہے کہ وارڈن حضرات چوکس ہوں، درمیان میں اور کناروں پر گاڑی والوں کو نظر آئیں تو سگنل کی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور ٹریفک رواں رہتی ہے۔

یہ حالات ایک جگہ نہیں، شہر کے ہر حصے میں ہیں اور ابھی تک مسئلہ حل نہیں ہوا کہ اب ڈی،آئی،جی کا ڈی،آئی،جی کے نام خط سامنے آگیا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ذمہ داری کا بوجھ ایک کندھے سے دوسرے پر منتقل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، حالانکہ نہ تو ٹریفک وارڈن اپنے فرائض ادا کررہے ہیں اور نہ ہی ناکوں کے مطلوبہ نتائج برآمد ہوئے ہیں، اب ایک اور صورت حال سامنے آئی ہے کہ شملہ پہاڑی پر احتجاج کے باعث مسلسل جام رہنے والی ٹریفک کے سدِباب کے لئے اسے ری ڈیزائن کرنے کا منصوبہ ہے، اس حوالے سے جو پہلے تجربہ کیا گیا اس کے نتائج جیل روڈ اور فیروز پور روڈ پر ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں کہ سگنل فری کے نام پر سٹرکوں کا جو حال ہوا اس کی وجہ سے حادثات ہوتے اور ٹریفک پھر بھی رکتی اور پھنستی ہے ، اب اگر شملہ پہاڑی کا سوچا جارہا وہے تو اسی جگہ تعلیمی اداروں کے طلباء وطالبات کو لانے والی گاڑیوں اور ٹریفک کے سدِباب کے لئے کیا ہوگا، کچھ نہیں بتایا گیا، ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ٹریفک انجینئرنگ(ٹیپا) اتھارٹی ٹریفک پولیس اور انجینئرنگ کونسل کے تعاون سے پورے شہر کا سروے کرکے مربوط پروگرام اور منصوبہ بندی کی جائے اور جہاں جہاں ممکن ہو جاپانی طرز پر انٹر چینج بنائے جائیں، کبھی مولانا شوکت علی روڈ پر جناح ہسپتال والے چوک اور اب کریم بلاک چوک کو بھی دیکھ لیں تو شاید شدت کا اندازہ ہو اور یہ سب جلد ہو سکے۔

مزید : کالم