لاہور کتاب میلہ۔۔۔مشاہدات

لاہور کتاب میلہ۔۔۔مشاہدات
 لاہور کتاب میلہ۔۔۔مشاہدات

  

گزشتہ کئی برسوں کی طرح اس سال بھی کتاب سے محبت کرنے والے انسانوں کی طرح مجھے بھی فروری کے آغاز میں ایکسپو سنٹر لاہور میں لگنے والے کتاب میلے کا شدت سے انتظار رہا۔ کتاب میلہ2فروری سے 6فروری تک اپنے بھر پور جوبن پر رہا اور کتاب سے محبت کرنے والوں کو تسکین فراہم کرتا رہا۔ لٹریری فیسٹول، لاہور کتاب میلہ اور پنجاب یونیورسٹی کتاب میلے میں ہر سال جس طرح کتاب سے محبت کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، مرد ، عورت حتیٰ کہ بچے اور بوڑھے افراد شرکت کر تے ہیں،ان کو دیکھ کر ایسے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے یہ دعوے غلط ثابت ہونے لگتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی (انٹرنیٹ، فیس بک، ٹویٹر وغیرہ) نے لوگوں کو کتاب سے دورکر دیا ہے۔ ایسی رائے رکھنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ ہر سال لاہور میں ہونے والے لٹریری فیسٹول، لاہورکتاب میلے اور پنجاب یونیورسٹی میں لگنے والے کتاب میلے میں ضرور شرکت کیا کریں تاکہ اُن کو بچشمِ خود نظر آئے کہ اُن کا تاثر بالکل غلط ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے کتاب کی اہمیت کوکم کردیا ہے۔گزشتہ سال مئی 2016ء میں پنجاب یونیورسٹی میں تین دن تک لگنے والے کتاب میلے میں 184,882کتابیں فروخت ہوئیں۔ اس دعوے کی بنیاد اس لئے بھی غلط ہے کہ جو ممالک پاکستان کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں، ان ممالک میں کتب بینی پاکستان سے بھی زیادہ ہے۔ جیسے امریکہ اس وقت ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بہت آگے ہے، اس کے باوجود امریکہ میں 2016ء میں 304,912نئی کتابیں، نئے ایڈیشنز کے ساتھ شائع ہوئیں۔ چین جیسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ملک میں2015ء میں 440,000 کتابیں شائع ہوئیں۔ اسی طریقہ کار کے تحت برطانیہ جیسے ملک میں، جس کی آبادی سات کروڑ کے لگ بھگ ،یعنی پاکستان کے مقابلے میں کم ہے، اس میں 2016ء میں 184,000 نئی کتابیں (نئے ایڈیشنز کے ساتھ) شائع ہوئیں۔2015ء کے اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں انگریزی اور ہندی کی 90,000 نئی کتابیں شائع ہوئیں، جبکہ پاکستان میں 2015ء میں 4000 کے لگ بھگ اردو اور انگریزی کتابیں شائع ہوئیں۔

ان اعداد وشمار کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کتب بینی کو خاص متاثر نہیں کررہی ،بلکہ جدید ٹیکنالوجی نے ایک طرح سے کتاب کی فراہمی کو مزید آسان کردیا ہے۔ آج پاکستان میں بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے ایسی ایسی کتابوں کو حاصل کیایا پڑھا جاسکتا ہے، جو پاکستان کے بازاروں میں دستیاب ہی نہیں۔کیا یہ ٹیکنالوجی کی دین نہیں کہ ’’کنڈل‘‘ کے باعث ایک چھوٹی سی مشین میں ہزاروں کتابیں دستیاب ہیں۔ ٹیکنالوجی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسے استعمال کن مقاصد کے لئے جا رہا ہے؟ اگر کوئی فرد علم کی پیاس بجھانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کررہا ہے تو یقیناً یہ ٹیکنالوجی اس کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔جیسا کہ آغاز میں ہی ذکرکیا جا چکا ہے کہ پاکستان میں کتاب میلے کتب بینی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس کے باوجود کچھ اقدامات کر کے ان کتاب میلوں کے ذریعے کتب بینی کو زیادہ فروغ دیاجاسکتا ہے۔ جیسے ان کتاب میلوں میں ہر اشاعتی ادارہ کتابوں پر رعایت دیتا ہے۔یہ رعایت10فیصد سے لے کر بعض کتابوں پر50فیصد تک کی ہوتی ہے، خاص طور پر عامیانہ مواد جیسے جاسوسی ناول، رومانوی ادب، بازاری عشق کی داستانوں وغیرہ پر مبنی کتابیں تو ہوتی ہی کم قیمت ہیں اور ان کتابوں میں رعایت بھی زیادہ دی جاتی ہے۔ جہاں تک معیاری مواد کا تعلق ہے تو کئی فیصد رعایت ملنے کے باوجود اچھی اور معیاری کتاب ایک عام آدمی کی جیب پر بھاری ہی پڑتی ہے۔ خاص طور پر انگریزی کتابیں بہت زیادہ مہنگی ہیں۔ معیاری انگریزی کتابوں پر 15یا 25 فیصد تک رعایت ہونے کے باوجود یہ کتاب ہزار، دوہزار روپے سے زائد میں دستیاب ہوتی ہے۔ اس کالم میں کسی اشاعتی ادارے کا نام لکھنا مناسب نہیں، مگر لاہور میں کئی اشاعتی ادارے ایسے ہیں جو کتابوں پر بہت زیادہ منافع لیتے ہیں، اس لئے ان اشاعتی اداروں کی کتابیں بہت زیادہ مہنگی ہیں۔جب ایسے اشاعتی اداروں سے اس بارے میں شکایت کی جائے تو وہ ادیبوں کی رائلٹی، کتابوں کی معیاری جلد اور صفحات کا عذر پیش کرتے ہیں، مگر دوسری طرف ادیبوں کا بھی یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ان کے لئے ایسے اشاعتی اداروں سے اپنا طے شدہ معاوضہ نکالنا باقاعدہ ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ یہی حال ترجمہ کی جانے والی کتابوں کا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ،لاہور میں کئی اشاعتی ادارے ایسے ہیں، جنہوں نے دُنیا بھر کے ادب، تاریخ، سیاسی و معاشی نظریات، فلسفے، مذاہب کی تاریخ، عمرانیات، سوانح عمری اور کلاسیکل ادب سمیت کئی شہرہ آفاق کتابوں کو اردو زبان میں منتقل کیا ہے۔ ترجمہ کی گئی ان کتابوں پر بہت زیادہ شرح منافع رکھی جاتی ہے اور اس کے لئے دوسری کئی وجوہات کے ساتھ اس بات کا عذر بھی پیش کیا جاتا ہے کہ کتابوں کا ترجمہ ہی بہت مہنگا کام ہے، مگر دوسری طرف مَیں خود بہت سے ایسے افراد کو جانتا ہوں جو بڑے بڑے اشاعتی اداروں کے لئے انتہائی معیاری کتا بوں کے ترجمے کرتے ہیں اور ان کے ترجموں کو علمی حلقوں میں سراہا بھی جاتا ہے، مگر اس کے باوجود ترجمہ کرنے والے بہت سے افراد کو اپنے معاوضے کے لئے کافی عرصے تک ان بڑے بڑے اشاعتی اداروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں، بعض صورتوں میں تو طے شدہ معا وضے سے بھی کم رقم دی جا تی ہے۔۔۔یہ تو رہا معاملہ مقامی اشاعتی اداروں کا، جہاں تک درآمد شدہ انگر یزی کتابوں کامعاملہ ہے تو ان کتابوں کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ایک متوسط طبقے کا فرد بھی ان کو لینے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتا ہے کہ کہیں اتنی مہنگی کتاب لینے سے اس کے پورے ماہ کا بجٹ متاثر تو نہیں ہوجائے گا۔ انگریزی کتابیں مہنگی ہونے کے باعث کئی ادارے غیر قانونی طور پر ان کتابوں کو انتہائی گھٹیا جلد اور صفحات کے ساتھ چھاپ کر بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں بھارت کی مثال دینا بہت ضروری ہے جہاں پر اس مسئلے کا حل نکالا گیا ہے۔ بھارت میں چونکہ انگریزی کتابوں کی کافی طلب ہے، وہاں پر کئی مغربی اشاعتی اداروں کو اپنی شاخیں قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ یوں عالمی معیار کی کئی کتابیں بھارت میں ہی چھپنا شروع ہوگئیں، جس کے باعث بھارت میں انگریزی معیاری کتابیں بھی پاکستان کے مقابلے میں کافی سستی ہیں۔ مَیں نے خود کتاب میلوں میں یہ مشاہدہ کیا ہے کہ بہت سے افراد کسی معیاری کتاب کی اہمیت جاننے کے باوجود اس کتاب کو صرف اس لئے نہیں خرید پاتے، کیونکہ یہ ان کی جیب پر بہت زیادہ بھاری پڑرہی ہوتی ہے، یعنی معاشی عامل کتب بینی پر بھی اثر انداز ہو تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن ملکوں میں کتاب سستی ہے، وہاں کتب بینی کا رجحان بھی زیادہ ہے اور جن ملکوں میں آمدنیاں کم ہیں، افراط زر اور مہنگائی ہے، وہاں پر کتاب مہنگی ہوتو کم پڑھی جاتی ہے، اس لئے ایسا میکنزم یا طریقہ کار بنا نا ضروری ہے جس سے عام آدمی بھی معیاری کتابوں سے لطف اندوز ہوسکے۔

مزید : کالم