انقلاب اسلامی ایران کی کہانی

انقلاب اسلامی ایران کی کہانی
 انقلاب اسلامی ایران کی کہانی

  

ایران میں بر پا ہونے والے انقلاب اور اس انقلاب کے کچھ ہی عرصے میں مذہبی ، سیاسی سماجی اور ثقافتی سطح پر جو حالات واقع ہوے ہیں وہ عالمی توقعات اور تصورات کے بر عکس ہیں تاہم اس حقیقت پر سب متفق ہیں کہ انقلاب اور انقلاب کے بعد کی کامیابیوں کا سہرا ایران کے عظیم مذہبی ، سیاسی رہنما حضرت امام خمینی ؒ کی قیادت کے سر پر ہے ۔ حضرت امام خمینی ؒ کی جد و جہدنے ایران میں جس انقلاب کو برپا کیا اس پر ساری دنیا انگشت بدنداں ہے ۔ دُنیا کی سیاست میں تہلکہ مچادینے والے اس معمراور در و یش صفت رہنما حضرت امام خمینی ؒ کی زندگی شجاعت اور بے باکی کے ساتھ ساتھ ایک سادہ اور دُکھ بھری داستان ہے ۔ حضرت امام خمینی ؒ ایران کے شہر خمین میں پیدا ہو ئے ۔ آپ کے والد کا نام شہید مصطفی موسوی اور دادا کا نام سید احمد موسوی تھا۔ ایک روایت کے مطابق آپ کے دادا کا تعلق مشہور و معروف عالم ، محقق اور مصنف سیدمیر حامد حسین نیشاپوری کے خاندان سے ہے جو لکھنؤ میں آباد تھے ۔ سید مصطفی امام خمینی کے والد نے ابتدائی تعلیم نجف اشرف میں حاصل کیا ۔ ان کا شمار بہت ہی کم عمری میں نامور علماء اور مجتہدین میں کیا جانے لگا ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ خمین چلے آئے ۔ آیت اللہ سید مصطفی موسوی نے نہ صرف عوام کی رہنمائی کے فرائض انجام دیئے بلکہ وہ اس کے جاگیردارانہ نظام کے بھی سخت مخالف تھے چنانچہ آپ کے علاقے کے ایک مشہور جا گیر دارکی سازش کے تحت صرف 74سال عمر میں آپ کو قتل کردیاگیا۔ شہید سید مصطفی موسوی نے اپنے پیچھے چھ اولاد یں چھوڑیں جن میں تین لڑکے اور تیں لڑکیاں تھیں۔ ان میں سے ایک امام خمینی بھی تھے ۔والد کی شہادت کے وقت امام خمینی صرف نو ماہ کے تھے ۔ اس لئے آپ کی ابتدائی تربیت آپ کی والدہ گرامی بانو ہاجرہ اور پھوپھی بانو صاحبہ نے کی، لیکن ان دونوں کا بھی کچھ عرصے بعد انتقال ہوگیا۔حضرت امام خمینی نے ان مصائب اور مشکلات میں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ قم کی در گاہ یعنی حوزہ علمیہ میں معلم اور استاد مقرر ہو گئے ۔ جلد ہی آپ کا شمار قم کے منتخب علماء میں کیا جانے لگا ۔ عوام میں دینی رجحا نات کو فروغ دینے کے لئے آپ نے خصوصی اجتماعات کا آغاز کیا۔ آپ کے زور خطابت اور عالمانہ انداز گفتگو سے یہ اجتماعات اس قدر مقبول ہوئے کہ بیرون قم سے بھی لوگ آنے لگے ۔ امام خمینی کی عوام میں شہرت سے رضاخان کے کان کھڑے ہوگئے۔ اس نے پولیس کہ ذریعہ ان اجتماعات کو ختم کرنے کی ہدایت کی، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ یہ حکومت سے ان کی پہلی جھڑپ تھی جس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہا۔ اس وقت ایران کی زراعت اور معیشت مفلوج ہو کردہ گئی تھی درس گاہوں میں قرآن کی جگہ (انقلاب سفید) پڑھائی جارہی تھی اس وجہ سے عوام دین کی راہ سے دور ہٹ گئے تھے اس زمانے میں علمائے کرام کا مقصد صرف دین کی خدمت تھی جبکہ امام خمینی اور ان کے رفقاء اس خیال کے سخت مخا لف تھے وہ سیاست میں علمائے کرام کی شرکت کو ضروری سمجھتے تھے اور ایک ایسی حکومت کے قیام کو ضروری گردانتے تھے جو نہ صرف خود شعائر اسلام کی پابند ہو بلکہ عوام کو بھی ان کی طرف راغب کرے ۔

دوسری جانب امریکہ ، ایران میں تیل کے مفادات کی وجہ سے شہنشاہیت قائم رکھنا چاہتاتھا چنانچہ1961ء میں شہنشاہ ایران کو واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا تھا کہ امریکہ اسی صورت میں ایران کو امداد دے سکتا ہے جب اس کی تجویز کردہ اصلاحات ایران میں نافذ کردی جائیں۔ اگر چہ یہ تجاویز ( انقلاب سفید) کے نام سے نافذ کی گئیں لیکن انہیں امریکی حکومت کی بجائے شہنشا ہ ایران کے زور فکر کا نتیجہ بتا یا گیا ۔ امام خمینی اور دیگر علمائے قم نے (انقلاب سفید) کے پس منظر اور اس کے منفی اثرات سے عوام کو آگاہ کیا ۔ شہنشاہ اور وزیر اعظم کے نام اپنے ایک طویل تار میں انہوں نے لکھا :ملت اسلام کی خیر خواہی کی ہدایت پر اعلیٰ حضرت کو یہ مشورہ دوں گاکہ وہ چاپلوس اور خوشامدی عناصر پر بھر وسہ نہ کریں وہ تو اسلام اور ملک کے اساسی قانون کے خلاف اپنے تمام اقدامات کو اعلیٰ حضرت سے منسوب کرکے خود بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں وہ ناجائز قوانین و ضع کرکے قانون اساسی کو ختم کرنا چاہتے ہیں اب مسلمان عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ آپ وزیراعظم کو تاکید کریں کہ وہ قانون اسلام اور ملک کے قانون اساسی کی پا بندی کریں اور اس نے قرآن مقدس کے بارے میں جس جسارت سے کام لیا ہے اس سے استغفار کریں و رنہ مجھے آپ کے نام اپنے کھلے خط میں دوسری باتیں کہنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یہ شہنشاہ کی حکومت سے براہ راست ٹکر لینے کی ابتدا تھی۔ ایک اور موقعہ پر حضرت امام خمینی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ حکومت اسلام کے ضروری اور مقدس احکام سے تجاوزکرنا چاہتی ہے اور مساوات مرد وزن کا نعرہ لگا کر عورتوں کو بے حیائی اور بے راہ روی کی راہ پر ڈالنا چاہتی ہے ۔ میرے نزدیک بھلائی اسی میں ہے کہ یہ استبدادی حکومت ، احکام اسلام سے انحراف کی بناء پر ختم کر دی جائے اور ایسی حکومت قائم ہوجو احکام اسلام کی پابند اور ملت ایران کی غم خوار ہو۔

علمائے کرام کی اس جدوجہد کو شہنشاہ نے اپنے اقتدار کے لئے بہت بڑا خطرہ تصور کیا ۔ اس نے علمائے کرام پر نظر رکھی۔ ان کے اجتماعات کو در ہم برہم کیا ان کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور انہیں قید و بند کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑا، ان حالات میں آیت اللہ محسن طباطبائی اور آیت اللہ حکیم نے امام خمینی اور دیگر علماء کو عراق ہجرت کرنے کی دعوت دی ۔ امام خمینی نے ترک وطن کرنے کے بجائے ایران میں ہی رہ کر شہنشاہ کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے کو مناسب خیال کیا بعد میں امام خمینی اور ان کے رفقاء شاہ کی حکومت کے خلاف بر سر پیکار ہوگئے۔ امام خمینی کو قم سے گرفتار کر لیا گیا، عورت ، مرد ،بچے جوان اور بوڑھے غرض جس نے بھی یہ خبر سنی وہ سب نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ۔یہ نعرہ قم سے نکل کر ایران کے دوسرے شہروں میں بھی پہنچ گیا۔ احتجاج کرنے والوں پر ٹینک،توپ اور ہوائی جہازوں سے حملے کئے گئے، لیکن یہ ہنگامے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہی رہے عوام کے اس شدید رد عمل کے باعث بالآخر شہنشاہ کی حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور انہیں رہا کر دیا گیا عوام نے ان کی رہائی کا زبردست خیر مقدم کیا اس گرفتاری کے بعد حکومت کے خلاف ان کے لہجے میں مزید ترشی پیدا ہو گئی عوام میں اپنی بے پناہ مقبولیت کے باعث وہ شہنشاہ کے لئے قطعی ناقابل بر داشت ہوگئے ان دنوں یہ قیاس کیا جارہا تھا کہ شہنشاہ شاید کسی بھی وقت امام خمینی کو پھانسی دے دے ۔لہٰذا اس اندیشے کے پیش نظر قم کے پانچ آیت اللہ نے امام خمینی کو (آیت اللہ) بنانے کا اعلان کردیا۔ ایران کے رواج کے مطابق کسی آیت اللہ کو پھانسی نہیں دی جاسکتی تھی اس لئے شہنشاہ نے مجبورأ انتہائی اقدام کے طور پر امام خمینی کو 1962ء میں جلا وطن کر کے ترکی بھیج دیا ۔ ترکی میں ایک سال قیام کے بعد آپ عراق چلے گئے ۔ وہاں بھی آپ نے شہنشاہ کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی ۔ ان کے خطابات ٹیپ کر کے ایران بھیجے جاتے رہے ۔ اسی دوران رضاشاہ کی خفیہ پولیس (ساواک) کے کارندوں نے آپ کے بڑے فرزند مصطفی خمینی کو عراق ہی میں شہید کرادیا۔ 1978ء میں ایران کے ایک سرکاری اخبار میں مضمون شائع کیا گیا جس میں امام خمینی کی شان میں انتہائی گستاخانہ الفاظ استعمال کئے گئے اور ان کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ عوام رضاخان کی حکومت پہلے ہی بیزار تھے اس مضمون سے عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

عراقی حکومت پہلے ہی بہانے کی تلاش میں تھی، وہ امام خمینی کی عراقی عوام میں مقبولیت کو اپنے لئے خطرہ سمجھتی تھی، اس لئے عراق سے رخصت کردیا گیا۔ اس کے بعد وہ پیرس چلے گئے ۔ یہاں آکر بھی وہ خاموش نہ بیٹھے بلکہ اپنی جدوجہد کو تیز تر کر دیا۔ یہاں مہدی بازرگان ، بنی صدر اور قطب زادہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے ۔ ادھر ایران میں رضاخان امام خمینی کے اثرات کو رو کنے میں قطعی ناکام ہو چکا تھا ۔ بالآ خرہ شہنشاہ ایران نے شاہ پور بختیار کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کر کے جنوری1979ء کو ایران سے نکلنے پر مجبور ہو گیا جس پر ایران کے عوام نے بڑی خوشی منائی۔ 19جنوری کو امام خمینی کی ایران آمد متوقع تھی۔ لیکن وزیراعظم کی ہدایت پر ہوائی اڈے کو بند کر دیا گیا ادھر پیرس میں حضرت امام خمینی نے اعلان کیا کہ وہ جمعہ کو ایران جائیں گے اور اسی روز جمعہ کی امامت کے بعد تہران کے مرکزی قبرستان بہشت زہرامیں جاکر رضاخان کے خلاف جدوجہد میں شہید ہونے والوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کریں گے یہ خبر سنتے ہی شاہ پور بختیار نے 25جنوری کی شب ہی سے ہوائی اڈے کوغیر معینہ مدت کے لئے بند کردیا ۔ شاہ پور بختیار خود پیرس جا کر امام خمینی سے مذاکرات کر نا چاہتا تھا چونکہ امام خمینی نے اس کی حکومت کو شیطان کی حکومت قرار دیا تھا اسی لئے شاہ پور بختیار پیرس نہ جاسکا ۔ بالآخر یکم فروری 1979ء کو امام خمینی تہران میں مہرآباد ائرپورٹ پر ایربس کے طیارے سے ایران پہنچے ۔ تہران پہنچنے پر 50 لاکھ سے زائد افراد نے (اللہ اکبر) اور (خمینی رہبر) کے فلک شگاف نعروں سے ان کا تاریخی استقبال کیا ۔ تاریخ بشریت میں آج تک کسی شخصیت کو اس قدر بڑا استقبال نصیب ہوا۔ ایران کے اس مرد آہن نے اندرونی اور بیرونی مزا حمتوں کونہایت پامردی سے برداشت کیا کوئی بھی ان کے خیالات کو تبدیل نہ کرسکا اندرونی سیاست ہو یا یرغمالی کا مسئلہ ، امریکہ مزاحمت ہو یا عراق سے جنگ، حضرت امام خمینی اپنے اصولوں پر سختی سے ڈٹے رہے ۔ حضرت امام خمینی کے انتقال کے بعد ان کے نائب بر حق حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای رہبر منتخب ہوئے، جو اب تک اسلامی جمہوریہ ایران کے اسلامی لیڈر ہیں۔

مزید : کالم