پاکستان۔۔۔ اُبھرتی ہوئی معیشت

پاکستان۔۔۔ اُبھرتی ہوئی معیشت

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے ساز گار ماحول اور مراعات سے فائدہ اٹھائیں، جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان کو شدید مالی اور توانائی بحران کا سامنا تھا، افراطِ زر کا دباؤ تھا، ایکسچینج ریٹ اور سیکیورٹی صورتِ حال خراب تھی، ناموافق عالمی معاشی حالات کے باوجود اب ہماری حکومت نے معیشت کو مستحکم کیا ہے، پہلے میکرو اقتصادی صورتِ حال کو بہتر بنایا گیا اور بڑے چیلنجوں کے باوجود اپنی کوششوں میں کامیابی حاصل کی جس کے نتیجے میں پاکستان کی معاشی صورتِ حال میں مسلسل بہتری آئی، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، صنعتی شعبے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی، غربت میں کمی ہوئی اور متوسط طبقے کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا۔2013ء سے قبل جی ڈی پی کی شرح نمو3فیصد تھی جو رواں سال کے دوران5.5فیصد ہونے کا امکان ہے۔2025ء تک پاکستان دُنیا کی بیس معیشتوں میں شامل ہو گا، پرائس وائر ہاؤس کوپرز نے2030ء میں دُنیا کی انتہائی32طاقتور معیشتوں میں پاکستان کا شمار بیس انتہائی طاقتور معیشتوں میں کیا ہے۔ جنوری2017ء میں پاکستان سٹاک ایکسچینج 100انڈیکس 49ہزار سے عبور کر گیاجو اب نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے، پاکستان میں صارف مارکیٹ میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، آٹو موبائل،ہاؤسنگ اور الیکٹرانکس کے لئے صارفین کی طلب بڑھ رہی ہے جو کارپوریٹ سیکٹر کو نمایاں منافع فراہم کر رہی ہے۔ عالمی سرمایہ کاروں کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔انہوں نے یہ باتیں عالمی کارپوریٹ رہنماؤں اور عالمی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہیں اور اُنہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اُٹھانے کی دعوت دی۔

عالمی شہرت کے اخبارات اور معاشی امور پر گہری نظر رکھنے والے جرائد بھی پاکستان کی اقتصادی شرح ترقی کی رفتار سے مطمئن نظر آتے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ اگر پاکستان معیشت کے میدان میں اسی طرح آگے بڑھتا رہا تو بہت جلد مضبوط عالمی معیشتوں میں اس کا شمار ہو گا۔ 2025ء کی تاریخ تو خود وزیراعظم نواز شریف نے دی، گویا ایک عشرے سے بھی کم وقت میں پاکستان دُنیا کی عالمی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔ جنوبی ایشیا میں مثبت معاشی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کی کارکردگی کی ہر جانب تعریف ہو رہی ہے اور سرمایہ کاری کرنے والوں کو یہ مشورے بھی دیئے جا رہے ہیں کہ وہ بھارت کو بھول جائیں اور پاکستان کے ساتھ ساتھ سری لنکا اور دیگر ہمسایہ ممالک میں سرمایہ کاری زیادہ سود مند ہے، بنگلہ دیش بھی اس لحاظ سے پُرکشش ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سرمایہ اُن ممالک سے فرار ہو جاتا ہے جہاں بدامنی ہوتی ہے۔پاکستان چونکہ گزشتہ دو عشروں سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا تھا ایک وقت تو وہ بھی آ گیا تھا، جب ہر روز کسی نہ کسی شہر میں دھماکے ہوتے تھے۔ مسجدیں محفوظ تھیں نہ دوسری عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے محفوظ تھے نہ ہسپتال، بازار محفوظ تھے نہ سیر گاہیں، یہ تو عمومی صورتِ حال تھی کراچی تو بہت پہلے سے بدامنی کی آگ میں اس طرح جل رہا تھا کہ پوری پوری فیکٹری نذرِ آتش کر دی جاتی اور اس کے اندر زندہ انسانوں کو جلا کر کوئلہ کر دیا جاتا، اِن حالات میں فیکٹریاں کس نے لگانی تھیں اور باہر سے سرمایہ لے کر کون آتا؟ قرضہ دینے والے ادارے اپنے اجلاس تک بیرون مُلک کرنے لگے تھے۔ پاکستان میں جن لوگوں نے صنعتیں لگا رکھی تھیں وہ بھتے کے خوف سے اپنا کاروبار کراچی سے باہر منتقل کر رہے تھے یا پھر مُلک سے باہر جا رہے تھے، کئی سال کے بعد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور دوسرے اداروں کے سربراہ پاکستان آ کر اس امر پر خوشگوار حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ جس مُلک پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر دیا گیا تھا اس کی بہادر افواج نے اپنی جانیں دے کر یہ داغ دھو ڈالا اور جو شہر دس منٹ کے نوٹس پر قبرستان کے سناٹے میں بدل جاتا تھا اُس کی روشنیاں واپس آ گئی ہیں اور اِن روشنیوں کو بجھانے والے اب خود ہی ایک دوسرے کے چہرے پر پڑے ہوئے نقاب بیچ چوراہے کے اُتار رہے ہیں یہ مکافات عمل بھی ہے اور اُن بے گناہوں کا خون سر چڑھ کر بول رہا ہے جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔

بدامنی اور بعدازاں پورے مُلک کو امر بیل کی طرح چمٹ جانے والی دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو100ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا،اس دہشت گردی کی وجہ وہ جنگ بھی تھی جو امریکہ کی محبت میں ہم نے اپنے گلے میں ڈال لی تھی، لیکن اس کے بدلے میں کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں جو رقم پاکستان کو ملی وہ اگرچہ پاکستان کو پہنچنے والے نقصان کے مقابل تو بہت ہی معمولی تھی،لیکن اس کا تذکرہ یوں کیا جاتا ہے جیسے یہ معیشت کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے کافی ہو۔پاکستان اِن سب مشکل حالات سے بڑی پامردی سے نکل چکا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کا جو سلسلہ سی پیک کے ساتھ شروع ہو چکا ہے وہ وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف بڑھ رہا ہے، بلکہ چین کے علاوہ بہت سے مُلک اس منصوبے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ و ن روڈ ون وژن کا چینی قیادت کا تصور تو بہت ہی وسیع ہے اور اس کے تحت یورپی ممالک تک گڈز ٹرین بھی چلنی شروع ہو گئی، گوادر کی بندرگاہ پر چینی جہازوں کی آمدورفت کا آغاز بھی ہو چکا ہے، ابتدائی طور پر46ملین ڈالر کی سرمایہ کاری بڑھ کر60ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے ایسے میں غیر ملکی سرمایہ کار مسلسل پاکستان کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے آ رہے ہیں، وزیراعظم نواز شریف نے کارپوریٹ سیکٹر کے جن سربراہوں سے ملاقات کی اور انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے کی کوشش کی وہ سرمایہ کاری کے لئے سازگار فضا کا خود جائزہ لے رہے ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اِس جانب متوجہ ہوں گے۔

سی پیک سے سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور توانائی پرجو سرمایہ کاری ہو رہی ہے اس میں چین کے علاوہ کئی دوسرے ملکوں کی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس منصوبے کو پھولتاپھلتادیکھ رہے ہیں پاکستان سٹاک ایکسچینج تاریخی بلندیوں کو چھو رہا ہے، اس سلسلے میں پاکستان ایک اُبھرتی ہوئی مارکیٹ بن چکا ہے۔ سال رواں میں جی ڈی پی کی شرح نمو کئی برس بعد5.5کے لگ بھگ رہنے کا امکان ہے۔تین برس کے دور ان بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور لوڈشیڈنگ میں معتدبہ کمی ہوئی ہے، کئی سال بعد پہلی مرتبہ صنعتوں کے لئے بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی اور عام صارفین کے لئے بھی اس میں بڑی حد تک کمی ہو چکی ہے، فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں ہر ماہ صارفین کو اربوں روپے کا ریلیف بھی مل رہا ہے۔ چند برس پہلے کے حالات سے موازنہ کیا جائے تو معیشت کی ایک روشن تصویر سامنے آتی ہے جو عالمی سرمایہ کاروں کو نظر بھی آ رہی ہے اور معیشت کے موضوع پر شائع ہونے والے شہرت یافتہ جرائد اس جانب توجہ بھی مبذول کرا رہے ہیں یہاں تک کہ ایک بھارتی اخبار نے وزیراعظم مودی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سی پیک کی مخالفت کی حماقت نہ کریں اور یہ دیکھیں کہ دُنیا کے66ممالک اس سے مستفید ہوں گے۔اِن حالات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی بہتر فضا کی جانب بروقت توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ وہ پاکستانی سرمایہ کار جو سرمایہ بیرون مُلک لے گئے تھے اُنہیں بھی اپنا سرمایہ واپس لانا چاہئے۔

مزید : اداریہ