منصور طیب کی رحلت

منصور طیب کی رحلت

سینئر صحافی منصور طیب شیخ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ مرحوم نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز ساہیوال سے کیا تھا، ابتداء میں وہ خبر رساں ایجنسی پی پی آئی سے وابستہ رہے، اس نیوز ایجنسی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نامور صحافیوں کے ساتھ ساتھ ایسے نوجوان صحافیوں کو صحافت کے میدان میں متعارف کرایا جنہوں نے بعدازاں اس شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ منصور طیب بھی اسی نیوز ایجنسی میں تربیت پاکر صحافت کے میدان میں اترے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور میں جب طرح طرح کی پابندیاں صحافت کا مقدر بن گئی تھیں اخبارات و جرائد کے ڈیکلریشن منسوخ ہو رہے تھے اور نئے ڈیکلریشن ملنا ناممکن تھے نئی زندگی پبلی کیشنز نے اپنے سفر کا آغاز کیا اور مختلف جرائد کے مالکان سے رابطہ کرکے اشاعت کا آغاز کیا لیکن ان کی مسلسل اشاعت ممکن نہ ہوسکی اور ہر چند ہفتے بعد ایک ایک کرکے ان کی اشاعت ناممکن بنا دی جاتی۔ ان حالات میں منصور طیب خود نئی زندگی پبلی کیشنز کے دفتر آئے اور اپنے ہفت روزہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کو اس ادارے کے حوالے کردیا۔ انہیں خبردار کردیا گیا کہ یہ سفر بہت کٹھن ہے لیکن انہوں نے بخوشی نئی زندگی پبلی کیشنز کا ساتھ دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ اگرچہ ان پر بھی بعد میں بہت سا نفسیاتی دباؤ ڈالا جاتا رہا لیکن وہ ثابت قدم رہے۔ حکومتی حربوں کا مقابلہ بھی مقدور بھر کیا اور جب حکومت نے اس جریدے کی اشاعت بھی ناممکن بنا دی تو بھی وہ نئی زندگی پبلی کیشنز کے خلاف کسی سازش کا حصہ بننے کیلئے تیار نہ ہوئے۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے ساتھ ان کا تعلق آخری عمر تک رہا۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

مزید : اداریہ