لاہور کی ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے فلم اور ٹی وی سے وابستہ تمام لوگ پر عزم

لاہور کی ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے فلم اور ٹی وی سے وابستہ تمام لوگ پر ...

لاہور (فلم رپورٹر)لاہور میں ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے فلم اور ٹی وی سے وابستہ تمام لوگ پر عزم ہیں امید ہے کہ 2017 ء میں لاہور میں شوبز انڈسٹری دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے میں کامیاب ہو جائے گی۔اس سال لاہور میں بنائی جانی والی فلموں کی کامیابی فلم انڈسڑی میں نئی روح پھونک سکتی ہے اس کے علاوہ لاہور میں متعدد ڈرامہ سیریلز کی ریکارڈنگ جاری ہے۔پاکستان فلم انڈسٹری کو بحران سے نکالنے کیلئے ترجیح بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ فلم سے وابستہ تمام شراکت داروں نے بھی انڈسٹری کو بحران سے نکالنے کے لئے حکمت عملی ترتیب دی ہے اور اس سلسلہ میں عملی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں ایک مرتبہ پھر فلمیں اور ڈرامے بننا شروع ہوگئے ہیں۔لاہور کی ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی میں ڈائریکٹر سید فیصل بخاری،چوہدری اعجاز کامران ،راشد خواجہ،سہیل افتخار خان،کاشف نثار،یامین ملک،پروڈیوسر سہیل خان،شاہد ظہور،شہزاد چوہدری،ظہور حسین گیلانی ،نعمان اعجاز،شاہد عزیز اور آصف حنیف مہر کاوشیں قابل قدر ہیں۔ اس کے علاوہ پی ٹی وی لاہور مرکز میں بھی کئی ڈراموں کی تیاری جا ری ہے ۔اگر یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو ایک بار پھر لاہور کی ثقافتی رونقیں بحال ہوجائیں گی ۔ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں فلم اکیڈمی قائم کرنے کے لئے بھی سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں اور اس منصوبے پر بھی جلد کام شروع ہو جائے گا۔ پاکستانی فلم انڈسٹری گزشتہ کئی سالوں سے زوال کا شکار ہے اور انڈسٹری کو بحران سے نکالنے کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں ۔ تاہم موجودہ حکومت انڈسٹری کو بحران سے نکالنے کے لئے سنجیدہ ہے اور تمام شراکت دار بھی اس ضمن میں محترک ہوگئے ہیں یہی وجہ ہے کہ گذشتہ سال عیدالفطر اور عیدالضحیٰ پر نئی پاکستانی فلمیں ریلیز ہوئیں جنہوں نے عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔ فلمسٹار شان اور زیبا بختیار سمیت کئی فنکار پھر سے سرگرم ہوگئے ہیں اور ان کی فلمیں تیاری کے آخری مراحل میں ہیں جبکہ ٹیلی ویژن کے نامور فنکار بھی انڈسٹری کو بحران سے نکالنے کے لئے کمربستہ ہوگئے ہیں اور وہ پرعزم ہیں کہ سال 2017ء میں ایک مرتبہ پھر پاکستان میں اچھی اور معیاری فلمیں بنیں گی اور فلم انڈسٹری اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑی ہوگی۔

انہوں نے فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے انڈسٹری سے وابستہ پرانے اور تجربہ کار فلمسازوں کے علاوہ نوجوان فلم ساز بھی فلمیں تیار کررہے ہیں جن میں کئی فلمیں شامل ہیں یقیناً یہ فلمیں انڈسٹری کو بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ مسعود بٹ ‘ اقبال کشمیری ‘ حسن عسکری ‘ الطاف حسین ‘ سید نور ‘ شہزاد رفیق،ظہور حسین گیلانی اور پرویز کلیم کے بعد اب ٹیلی ویژن کے نوجوان اداکار ہمایوں سعید ‘ شمعون عباسی ‘ حمزہ علی ‘ ببرک شاہ ‘ شہزاد بٹ ‘ بلال لاشاری ‘ یاسر نواز ‘ عبداللہ کادوانی اور شعیب منصور بھی میدان میں اتر آئے اور انہوں نے نئی فلمیں تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس وقت لاہور اور کراچی دونوں شہروں میں فلمیں اور ڈرامے بن رہے ہیں۔ . فلم انڈسٹری کی بحالی کی امید پیدا ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستان میں سینما گھروں کے مالکان نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے اور وہ پرانے سینما گھروں کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ نئے سینما اور جدید طرز کے سینما گھر تعمیر کررہے ہیں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں نئے اور جدید طرز کے ڈیجیٹل سینما گھروں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ ڈائریکٹر سید فیصل بخاری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے اور پاکستان آج بھی عالمی معیار کی فلمیں بن سکتی ہیں لیکن اس کیلئے فلم انڈسٹری کی سرپرستی کرنے کی ضرورت ہے جبکہ بہت سارے لوگوں نے انڈسٹری کو بحران سے نکالنے کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں اور وہ خود بھی فلمیں بنا رہے ہیں۔

مزید : کلچر