دل گرفتہ انفارمیشن گروپ !

دل گرفتہ انفارمیشن گروپ !
دل گرفتہ انفارمیشن گروپ !

  

کسی بھی حکومت پر جب کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو اس کا ذمہ دار میڈیا کو ٹھرایا جاتاہے اور بالآخر اس کا نزلہ وزارت اطلاعات پر گرتا ہے ، پاکستان میں آمریت اور جمہوری ادوار سمیت کسی بھی حکومت کے دورکو اٹھا کر دیکھ لیں تو یہی رویہ نظر آئے گا ، اس لئے ہر دور حکومت میں سب سے زیادہ تبدیلیاں وزارت اطلاعات میں دیکھنے کو ملتی ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آئینہ ترچھا کردیا جائے تو اس میں نظر آنے والی تصویر بھی ٹیڑھی نظر آئیگی ، جبکہ اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ میڈیا کے بعض حصے اپنے نام نہاد مقاصد کیلئے بعض اوقات آئینہ کو ترچھا کرنے سے بھی باز نہیں آ تے ، لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ اٹل حقیقت ہے کہ اکثر اوقات تصویر میں بھی سقم موجود ہوتا ہے لیکن اس سقم کو دور کرنے کے بجائے آئینہ تبدیل کرنے پر زور دیا جاتا ہے ، بار بار آئینے تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن ان میں نظر آنے والی تصویر بہتر نہیں ہوپاتی بالآخر ایک وقت ایسا آتاہے جب آئینہ تبدیل کرنیکی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ مدت یا ’’وقت‘‘ختم ہوجاتاہے او ر سقم والی تصویر کی بناء پر بالآخر حکومت تبدیل ہوجاتی ہے تاہم جب تک صرف پرنٹ میڈیا کا راج تھا تو ’’دو طرفہ لحاظ ‘‘کی بدولت معاملات قدرے قابو میں رہتے تھے لیکن جب سے الیکٹرانک میڈیا کا جن بوتل سے باہر آیا ہے آئینے تبدیل کرنیکا معاملہ شدت اختیار کرچکا ہے ، اگرجنرل (ر) پرویزمشرف کے دور پر نظر دوڑائیں تو ملک پر ایک شخصی آمریت تھی انہیں اپنے دور کے کسی بھی اقدام پر تنقید گوارانہیں تھی اس لئے جب بھی ان کے کسی اقدام پر میڈیا میں تنقید ہوتی تو وہ اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے بجائے وزیر اطلاعات تبدیل کردیتے تھے ، شروع شروع میں وہ میڈیا سے تعلق رکھنے والی ایک مشہور شخصیت جاوید جبار کو میدان میں لائے پھر شیخ رشید ، نثار میمن اور محمدعلی درانی کو یکے بعد دیگرے آزمایا گیا ، لیکن بات نہ بنی کیونکہ میڈیا کے ’’بندوبست ‘‘سے شائد صرف مہلت میں اضافہ تو ہوسکتا ہے لیکن بالآخر حقائق کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں بھی پرانا الزام دوہرایا جاتا تھا کہ میڈیا قابو میں نہیں آتا لیکن حکومت نے کرپشن اور گورنس کو بہتر بنانے پر توجہ مرکو ز کرنے کے بجائے توانائیاں میڈیا کے جن کو بوتل میں بند کرنے پر لگائے رکھیں، حکومت کی کوتاہیوں اور غلطیوں کا تمام ملبہ وزارت اطلاعات پر ڈال کر بار بار وزیر اطلاعات تبدیل کئے جاتے رہے ، محترمہ شیری رحمن ، محترمہ فردوس عاشق اعوان اور بالآخر قمر زمان کائرہ سمیت زنبیل میں موجود تمام میڈیا جادو گر آزمائے گئے لیکن کسی کا جادو نہ چل سکا ، تین وزرائے اطلاعات کی قربانی کے باجود پاکستان پیپلزپارٹی کے دو وزرائے اعظموں کی قربانی اور سابق صدر آصف علی زرداری پر حملہ آور ہونے والی اچانک بیماری کی بدولت حکومت نے خداخدا کرکے اپنی مدت پوری کی ، اس دور میں یہ امر بھی نہایت اہمیت کا حامل تھا کہ وزراء اطلاعات اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات کے پاس میڈیا کے بندوبست کی ذمہ داری ہوتی تھی لیکن ان کے پاس اختیار صرف پرچون کا ہوتا تھوک کا کاروبارا علیٰ ایوانوں میں ہوتا ، جبکہ مذکورہ دونوں ادوار میں متعدد سیکرٹری اطلاعات بھی تبدیل ہوتے رہے کئی دفعہ وزارت اطلاعات میں موجود اطلاعات کے افسران کو نظرانداز کرکے ڈی ایم جی گروپ کے افسران کو بھی آزمایا گیا لیکن صورتحال جوں کی توں ہی رہی ۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے قدرے مختلف اسلوب اپناتے ہوئے میڈیا سے اپنے مراسم نئے خطوط پر استوار کئے کیونکہ اس حکومت نے آتے ہی میڈیا کیلئے مختص ملکی تاریخ کے ایک متنازعہ سیکرٹ فنڈ کو ختم کردیا ، سیکرٹ فند کے سیاہ باب کو ختم کرنے کا کریڈٹ اس حکومت کو ضرور جاتاہے ، سینیٹر پرویز رشید کو وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپا گیا اور ڈی ایم جی کے ڈاکٹر نذیر سعید کو وفاقی سیکرٹری اطلاعات بنایا گیا ، سینیٹر پرویز رشید میں بطور وزیر اطلاعات کرو فر تھا نہ ہی وہ کسی قسم کے پروٹوکول کے خواہشمند ہوتے تھے جبکہ ڈاکٹر نذیر سعید بھی درویش منش شخصیت تھے ان دونوں شخصیات کے دور میں وزارت اطلاعات کا روایتی موئثرکردار بہت حد تک تبدیل ہوگیا ایسا لگتا تھا کہ حکومت کا اس وزارت پر انحصار ماضی کی حکومتوں کی نسبت قدرے کم ہوگیا ہے ،بلکہ یہ کہا جائے کہ اس حکومت نے شروع کے عرصہ میں وزارت اطلاعات پر زیادہ انحصار کرنے کے بجائے کارکردگی پر توجہ دی تو بے جا نہ ہوگا،جس کی وجہ سے رفتہ رفتہ وزارت اطلاعات آزاد میڈیا کیلئے بہت حدتک غیر متعلق ہوتی نظر آئی لیکن پھر دھرنوں کی افسوسناک سیاست نے وزارت اطلاعات کی اہمیت میں تو اضافہ کردیا لیکن حکومت کے عمومی رویہ سے پریس انفارمیشن گروپ کے افسران کا اپنے پروفیشن کے حوالے سے روایتی جوش و جذبہ ماند پڑگیا تھا اسے کسی نے جگانے کی کوشش نہیں کی ، اگرچہ اس حکومت کے دور میں بیرون ممالک پریس اتاشیوں کی تقرریاں شائدپہلی دفعہ خالصتاً میرٹ پر کی گئیں لیکن ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کی گرما گرمی بھی بیشتر وزراء کو مجبور نہ کر سکی کہ وہ پریس انفارمیشن گروپ کے اپنے افسران کے دلوں کو گرما سکیں ،جبکہ حکومت اور میڈیا کے مابین تعلقات کے حوالے سے اہم فیصلے بھی وزارت اطلاعات سے بالا بالا اعلی ایوانوں میں ہونے کی اطلاعات ہیں، پانامہ پیپرز کے کیس کے تناظر اور آئندہ سال کے عام انتخابات کے پیش نظر حکومت کیلئے سنگین نوعیت کے چیلنجز ہیں ان چیلنجز سے عہدہ برآں ہونے کیلئے وزارت اطلاعات کا آئندہ کردار مزید اہم ہوگا، اگرچہ حکومت سیاسی محاذ پر خاصی مصروف ہے لیکن پانامہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت سے مہلت پاتے ہی حکومت نے بیوروکریسی کے حوالے سے زیر التواء بعض معاملات کو نپٹانے کی ابتداء تو کی ہے جس میں گریڈ 22پر ترقیوں کے حوالے سے ہائی پاور بورڈ کے اجلاس کا انعقاد اہم ترین ہے ترقی پانے والے خوش قسمت افسرا ن کے نام منظر عام پر آنے والے ہیں ۔

دریں اثناء وزارت اطلاعات کی سیکرٹری انچارج صبا محسن کو انکے عہدے سے ہٹاکر ڈی جی ریڈیو لگادیا گیا ہے شنید ہے کہ وہ پی ٹی وی کے ’’ملبے ‘‘کا شکار ہوئیں ہیں ، انکا تعلق انفارمیشن گروپ سے تھا جبکہ وزارت کامرس میں ڈی ایم جی گروپ کے16ویں کامن کے ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر محمد عامرکو فوری طوپروزارت اطلاعات میں ایڈیشنل سیکرٹری لگا دیا گیا ہے،ڈاکٹر محمد عامر حامد یار ہراج کے کزن ہیں ، تاہم گزشتہ روز ہی ان کی ملاقات وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب سے ہوئی تھی لیکن واقفان حال کا کہنا ہے کہ ان سے وعد ہ کیا گیا تھا کہ انہیں ایڈیشنل سیکرٹری انچارج لگایا جائیگا ، لیکن جب نوٹیفیکیشن جاری ہوا تو صرف ایڈیشنل سیکرٹری کا تھامعلوم نہیں اس دوران کیا ماجرا ہوا، ڈاکٹرمحمد عامر کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ قواعد و ضوابط اور نظم و نسق پر سختی سے پابندی کی شہرت کے حامل افسر ہیں لیکن اگر ان سے کیا گیا وعدہ ایفا نہ ہو اتوشاید وہ دلگرفتہ ہوں،یہ بھی اطلاعات تھیں کہ وہ وزارت کامرس چھوڑنے کے خواہشمند تھے ، دوسری طرف وزارت اطلاعات میں اس یکایک تبدیلی پر انفارمیشن گروپ کے افسران خاصے دلبرداشتہ ہیں، موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں میڈیا کے پر خطر محاذ پر یہ افسران حکومت کی توقعات پر پورا اترتے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ کرنا کٹھن کام ہے تاہم اس کا انحصار آنیوالے سیکرٹری پر ہوگا کہ وہ کس طرح انفارمیشن گروپ کے افسران کی دل جوئی کرپاتے ہیں اور وزرات اطلاعات اور میڈیا کے درمیان روایتی تعلق کو بحال کرتے ہیں ۔

خبری بے خبری

مزید : کالم