کیمسٹ کونسل اور دیگر انڈسٹری کا 13فروری سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

کیمسٹ کونسل اور دیگر انڈسٹری کا 13فروری سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

 لاہور( بزنس رپورٹر)حکومت طب دشمن عناصر کے مشوروں پر عمل کرکے ملک کوٹیکسز کی مد میں کثیر سرمایہ فراہم کرنے والے طبی اداروں کو ختم کرنے پر تل گئی ہے لیکن ہم کسی ایسے کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے جو جبراً طبی انڈسٹری پر نافذ کیا جارہا ہے ۔ہم حکومت کے اس فیصلہ کو رد کرکے شٹر ڈاؤن کرنے پر مجبور ہوں گے جس کے نتیجہ میں عوام کو ادویات دستیاب نہ ہوسکیں تو اسکے نتیجہ میں مسائل پیدا ہونے کی ذمہ دار حکومت ہوگی ‘‘ ان خیالات کا اظہار پاکستان کیمسٹ کونسل کے صدر نثار چودھری نے لاثانی فارما میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈریپ کے حالیہ کالے قانون کی وجہ سے لاکھوں لوگ اور ماہرین بے روزگار ہورہے ہیں ۔ جبکہ صوبہ بھر میں شٹر ڈاؤن کی وجہ سے میڈیکل سٹورز پر ادویات دستیاب نہ ہوسکیں تو حکومت اس سنگینی سے پیدا ہونے والے حالات کا اندازہ کرسکتی ہے اس موقع پر لاثانی فارما کے چیف ایگزیکٹو مہر عبدالوحید نے کہا کہ شعبہ طب کو ڈرگ ایکٹ 1976 کے مطابق لاگو کیا جائے جبکہ اس میں کی جانے والی حالیہ ترامیم طب دشمن ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم جعلی اور ناقص ادویہ سازی کے خلاف ہیں اوراس معاملہ میں حکومت کے ساتھ ہیں مگرڈریپ نے اچانک کارروائیاں کرکے اپنی بددیانتی کا ثبوت دیا ہے ۔ڈریپ نے اپنی ویب سائٹ پر جن ضوابط کا اعلان کیا ان پر عمل کرنے کا وقت ہی نہیں دیا جبکہ ان قوانین پر عمل کرنے کے لئے پانچ سال کا وقت دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ڈریپ نے فوری طور پر جبراً طبی اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے ہزاروں اداروں کو بند کردیاجن کو عدالتی احکامات پر دوبارہ کھولا گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈریپ نے غیر قانونی اقدامات اٹھا کر طبی اداروں اور کیمسٹ و ہول سیلرز کو ہراساں کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن ادویہ ساز اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں انہیں فی الفور ختم کیا جائے ۔ہربل میڈیسن ایکسپرٹ جواد گل نے کہا کہ مجرمانہ ریکارڈ ہولڈرز ٹاؤٹ طب دشمن ماہرین کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جس کی وجہ سے غلط قسم کے قوانین بنوا کر ایلوپیتھک اور ہربل ویونانی ادویہ سازی کے ایک جیسے معیارات کا اطلاق کیا جارہا ہے جو کہ ہربل اور یونانی ادویہ سازی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور ایسا کسی بھی ملک میں نہیں ہوتا۔اس موقع پر لاثانی فارما کے ڈائریکٹر میاں عاطف وحید نے کہا کہ حکومت کا ڈرگ کورٹ کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کا قانون بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ پنجاب میں طبی ادویہ سازی کے خاتمہ کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1