مقبوضہ کشمیر ،افضل گورو کی برسی کے موقع پر حریت کانفرنس کی کال پر مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال

مقبوضہ کشمیر ،افضل گورو کی برسی کے موقع پر حریت کانفرنس کی کال پر مکمل ...

سری نگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں افضل گورو کی برسی کے موقع پر حریت کانفرنس کی کال پر مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ٗ کاروباری و تعلیمی ادارے بند ٗ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے پولیس کی سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ٗ ٹریفک کی نقل و حمل بھی معطل ٗ حریت قیادت کا بھارت سے افضل گورو کی باقیات کی واپسی کا مطالبہ ٗ جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے ٗ ریلیاں ٗ نوجوانوں نے پاکستانی پرچم لہرا دیئے ٗ وادی بھر میں تعزیتی و دعائیہ تقریبات کا سلسلہ بھی جاری رہا ٗ ریاستی انتظامیہ نے افضل گورو کے آبائی علاقے جاگیردوآب گاہ کو مکمل سیل کئے رکھا ٗ ریاستی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کا حریت رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن ٗ متعدد کو گرفتارکرکے گھروں میں نظربندکردیاگیا ٗ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بند ۔ تفصیلات کے مطابق حریت قیادت کی طرف سے محمد افضل گورو کی چوتھی برسی پر مکمل ہڑتال کی کال کے بیچ سرینگر کے پائین شہر اور سوپور میں بندشیں عائد کی گئیں جبکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے کپوارہ سے کولگام تک اضافی فورسز و پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ ہڑتال کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ ٹریفک کی نقل وحمل بھی متاثر رہی اور احتیاتی طور پر ریل سروس کو بھی معطل کیا گیا۔اس دوران سوپور،صدر کوٹ،پاپہ چھن سمیت دیگر چندعلاقوں میں سنگبازی کے واقعات پیش آئے جبکہ گاندربل میں سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا۔مشترکہ مزاحتمی قیادت نے محمد افضل گوروکی برسی کی مناسبت سے جمعرات کونہ صرف ہڑتال کی کال دی تھی بلکہ مرحوم کی باقیات کی واپسی کے حق میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے اور تعزیتی و دعائیہ تقاریب منعقد کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔پائین شہرمیں نصف درجن پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت بندشیں عائد کی گئی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ محمد افضل گورو کے آبائی علاقہ جاگیر دو آب گاہ سوپور کو پولیس اور فورسز نے چاروں اطراف سے سیل کر کے رکھا تھا ۔ پائین شہرکے خانیار، نوہٹہ، مہاراج گنج،رعناواری اورصفاکدل کے ساتھ ساتھ پولیس اسٹیشن مائسمہ اور کرالہ کھڈ کے تحت آنے والے علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد تھیں۔شہرخاص کے کم و بیش تمام علاقوں میں اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں کو خار دار تاروں سے سیل کیا گیا تھا اور لوگوں کی نقل وحرکت کو گھروں تک محدود کر کے رکھ دیا گیا تھا۔ ہڑتال اور بندشوں کے نتیجے میں شہر میں وسیع آبادی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی۔کرفیو جیسی پابندیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پائین شہر کے چپے چپے پر پولیس اورسی آر پی ایف اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی ۔شہر کے سول لائنز کے لال چوک ،ریگل چوک ،کوکر بازار ،آبی گذر ،کورٹ روڈ ،بڈشاہ چوک ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ،مہاراجہ بازار ،بٹہ مالو اور دیگر اہم بازاروں میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے اور ٹرانسپورٹ سروس معطل رہی۔ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر مائسمہ میں صبح سے ہی سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے ۔اس دوران مزاحتمی قیادت کی ہڑتالی کال پر شہر اور اسکے گردونواح میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہی،البتہ کچھ ایک جگہوں پر چھوٹی مسافر اور پرائیویٹ گاڑیاں سڑکوں پر نظر آئیں۔

مزید : صفحہ آخر