پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے افسران و اہلکاروں پر’’ مراعات کی با رش‘‘

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے افسران و اہلکاروں پر’’ مراعات کی با رش‘‘

لاہور(عامر بٹ سے )پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے افسران و اہلکاران کے ہو شربا سیلری پیکج اور مراعات نے وفاق اور صوبائی سطح پر تعینات گریڈ 21 اور 22کے اعلیٰ افسران سمیت آئی پنجاب پولیس،چیف آف آرمی سٹاف،چیف جسٹس ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ بشمول تمام ججز ،ارکان صوبائی و قومی اسمبلی ،سپیکر صوبائی و قومی اسمبلی سمیت صوبائی اور وفاقی وزرا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں اعلیٰ سیٹوں پر براجمان افسران کرپشن ،رشوت وصولی کے متعدد الزامات کے تحت محکمہ اینٹی کرپشن ،نیب سمیت دوسرے احتسابی اداروں میں انکوائریاں بھگتنے اور مقدمات کے اندراج کے باوجود لاکھوں روپے تنخواہ وصولی میں پیش پیش ، صوبائی اور وفاقی اداروں میں رائج سکیل سسٹم پر بھی بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ،تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پنجاب اسمبلی سے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی بل کی باقاعدہ منظوری ہو گئی ہے جس کے بعد اب یہ قانونی طور پر باقاعدہ ایک فعال ادارے کی شکل اختیار کر گیا ہے ،پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے اعلیٰ افسران کے لئے جاری کے گئے سیلری پیکج بشمول تمام مراعات نے ایک طرف تو خود صوبائی اور وفاقی سطح پر رائج سکیل سسٹم کے لئے مروج سیلری پیکج پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے تو دوسری طرف ایک ہی گریڈ میں کام کرنے والے گریڈ 20،21اور22افسران اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے افسران میں مراعات اور تنخواہ کے حوالے سے ایک بہت بڑا فرق بھی واضح کر دیا ہے اس وقت پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے لئے پرپوز سیلری پیکج 6لاکھ سے 9لاکھ ،ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر 4لاکھ سے 6لاکھ،ڈائریکٹر 3لاکھ سے 5لاکھ،ایچ آر ایم 2لاکھ 75سے 4لاکھ اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے لئے 1لاکھ 80ہزار 2لاکھ 20ہزارسیلری پیکج مختص کیا گیا ہے جس کا اگر دوسرے اداروں کے اعلی افسران سے موازنہ کیا جائے تو کسی حوالے سے بھی یہ ان سے مطابقت نہ رکھتا ہے اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق صوبائی اور وفاقی اداروں میں کام کرنے والے اعلیٰ بیورو کریٹس اور افسران کی گریڈ 21 کی تنخواہ تمام الاؤنس بشمول مینٹین الاؤنس،ٹوکن ٹیکس،ہاؤس رینٹ ،ٹیلی فون الاؤنس،ریلیف الاؤنس ماہانہ لیز الاؤنس 2لاکھ 72ہزا ر روپے ہے اسی طرح گریڈ 22 میں کام کرنے والے بیورو کریٹس اور اعلیٰ افسران کی تنخواہ بشمول تمام الاؤنس 3 لاکھ 27ہزار 5سو ہے جو کہ کسی بھی گریڈ میں بشمول تمام مراعات کے سب سے زیادہ تنخواہ ہے اسی طرح اگر سیکیورٹی اداروں میں رائج سکیل سسٹم میں تنخواہوں کا موازنہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے افسران سے کیا جائے تو بلاشبہ احساس کمتری کا احساس ہونے لگتاہے اس وقت پنجاب پولیس میں ایس ایس پی 85ہزار،ڈی آئی جی 95ہزار ،ایڈیشنل آئی جی گریڈ 21 1لاکھ 15ہزار اور آئی پنجاب پولیس جو کہ گریڈ 22کے افسران بنیادی تنخواہ 1لاکھ 30ہزار وصول کررہے ہیں جو کہ محتاط اندازے کے مطابق تمام الاؤنسز کو شامل کرکے 2لاکھ کے لگ بھگ بنتی ہے اس طرح پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور آئی جی پنجاب پولیس کی تنخواہ میں کم و بیش 7 لاکھ کا فرق ہے اسی طرح ہائی کورٹ کے ججز اور چیف جسٹس ہائی کورٹ سمیت چیف جسٹس سپریم کورٹ اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججزبھی 2لاکھ سے 3لاکھ 50ہزار بشمول تمام مراعات کے وصول کر رہے ہیں ،حتی کے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں رائج سیلری سسٹم نے چیف آف آرمی سٹاف اور جوائنٹ چیف آف آرمی سٹا ف کو بھی تنخواہ کی مد میں پیچھے چھوڑ دیا ہے اس وقت چیف آف آرمی سٹاف اور جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف کی تنخوا ہ کم و پیش 2لاکھ 25ہزار سے 2لاکھ 75ہزار ہے جس کا موازنہ اگر پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے افسران کی تنخواہ سے کیا جائے تو فرق لاکھوں میں بنتا ہے ،حیرت کی بات یہ ہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ میں متعدد ایسے افسران ہیں جو لاکھوں روپے تنخواہ وصول کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سیٹوں پر بھی کام کرنے میں مصروف ہیں جن پر کرپشن،رشوت وصولی سمیت متعدد الزامات سمیت محکمہ اینٹی کرپشن میں انکوائریوں سمیت مقدمات بھی درج ہیں بلکہ دوسرے احتسابی اداروں میں بھی انکوائریوں کا سامنا کر رہے ہیں ،جن میں اس وقت پراجیکٹ ڈائریکٹر فیض الحسن پر شناختی کارڈ کی تصدیق کی آڑ میں دو ارب روپے کی کرپشن کے الزام کے تحت اس وقت بھی نیب اور محکمہ اینٹی کرپشن میں انکوائری چل رہی ہے ، پنجاب میں اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے حوالے سے بھی ورلڈ بنک کو دی جانیوالی رپورٹس حقائق کے برعکس تھیں۔

مزید : صفحہ آخر