کرپشن کے خاتمے تک پاکستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل نہیں ہو گا: ماہرین معیشت

کرپشن کے خاتمے تک پاکستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل نہیں ہو گا: ماہرین ...

لاہور(اسد اقبال)ملک کے ممتاز ماہرین معیشت ، صنعتکار اور تاجر رہنماؤ ں نے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں بہتری کے حوالے سے حکومتی پالیسیاں اور 2025میں پاکستان کی معیشت کو دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شمار کر نے کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شر یف کا بیان خوش آئند ہے لیکن ملک سے کر پشن کے خاتمے ، امن و امان کی مخدوش صور تحال میں بہتری اور تعلیمی انقلاب کے دعوے درست ہونے تک وزیر اعظم کا خواب شر مندہ تعبیر نہیں ہو گا لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ لو کل انڈسٹری کی ترقی کیلئے صنعتکار وں کو ریلیف ، ٹیکسو ں کی شر ح میں کمی اور غیر ملکی سر مایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے ملک تر قی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گا ۔ان خیالات کا اظہار ماہرین معیشت ڈاکٹر قیس اسلم ، پیاف کے چیئر مین عرفان اقبال شیخ ،فیڈریشن آف چیمبر آف کامرس پنجاب کے ریجنل چیئر مین ملک منظور الحق ، لاہور چیمبر آف کامرس کے قائم مقام صدر ناصر حمید اورویمن چیمبر آف کامرس کی صدر شازیہ سلیمان نے پاکستان موبائل فورم میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کئی شعبوں کے اندر بیرونی سر مایہ کاری کے بڑے مواقع مو جو د ہیں جبکہ پاکستان یورپ اور امریکی منڈیوں میں ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر سامنے آرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سر مایہ کاروں کے لیے خصو صی صنعتی زو ن قائم کیے جائیں جبکہ کرپشن کا خاتمہ اور امن و امان کی فضا ء قائم کر کے ملکی و غیر ملکی سر مایہ کاری میں اضافہ کیا جاسکتا ہے کیو نکہ کرپشن نے ملکی معیشت کوکھو کھلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور حکومت میں فارن انویسٹمنٹ ایک ملین سے بڑھ کر تین ملین تک پہنچی جبکہ اب ہماری فارن انو یسٹمنٹ ایک ملین سے بھی نیچے ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اشیاء کے کوالٹی سٹینڈرڈ کے لیے ریسر چ سنٹر بنائے تاکہ غیر ملکی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کو اہمیت مل سکے ۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مو جو دہ حکومت کی معاشی پالیسیاں بہتر ہیں اور سی پیک منصوبے پر عملدرآمد ہو نے سے ملکی و غیر ملکی سر مایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے تاہم ملک میں انڈسٹر یل ایریاز میں گیس کی لو ڈشیڈنگ نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے جبکہ ایف بی آر کی جانب سے 38-8فارم نے تاجروں اور صنعتکاروں کے مسائل بڑھا دئیے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر