خالد شیخ محمد نے خط کے ذریعے دوبارہ نائن الیون سانحہ کی ذمہ داری قبول کر لی

خالد شیخ محمد نے خط کے ذریعے دوبارہ نائن الیون سانحہ کی ذمہ داری قبول کر لی

واشنگٹن (اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ) نائن الیون سانحے کے مبینہ منصوبہ ساز اور القاعدہ کے اہم عہدیدار خالد شیخ محمد نے دوسری مرتبہ ’’آن دی ریکارڈ‘‘ اس سانحے کی ذمہ داری کا اعتراف کیا ہے۔ اس سانحے میں ملوث پانچ زندہ افراد کے خلاف گوانتا ناموبے جیل میں خصوصی امریکی فوجی عدالت مقدمے کی سماعت کر رہی ہے جس میں خالد شیخ محمد بھی شامل ہیں۔ اس عدالت میں اپنے شہادتی بیان میں خالد شیخ اس سانحے میں اپنی اور القاعدہ کی ذمہ داری پہلے بھی قبول کرچکے ہیں۔ اس کے بعد 2015ء میں انہوں نے اس وقت کے صدر بارک اوبامہ کے نام خط میں انتہائی جذباتی انداز میں اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کا اعتراف اس طرح کیا ہے کہ اس کے اسباب پیدا کرنے کی ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد کی ہے۔ امریکہ پر سب سے بڑا الزام اس نے یہ لگایا ہے کہ وہ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم میں اسرائیل کا ساتھ دیتا رہا ہے۔ اس خط کے معتبر ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے کیونکہ پینٹا گون کی طرف سے فراہم کردہ خالد شیخ کے اٹارنی نے اس خط کے بارے میں تمام تفصیلات میڈیا کو بتائی ہیں۔ خالد شیخ کے خط کو پینٹا گون نے پروپیگنڈہ قرار دے کر وائٹ ہاؤس پہنچانے سے انکار کردیا تھا تاہم فوجی عدالت نے اس کی اجازت دیدی لیکن جس وقت خط وائٹ ہاؤس پہنچا تو صدر اوبامہ رخصت ہونے کی تیاری کر رہے تھے اس لئے پتہ نہیں انہوں نے اسے پڑھا ہے یا نہیں۔ اب یہ خط ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ہے اور اسے پہلی مرتبہ ’’میامی ہیرالڈ‘‘ نے شائع کیا ہے جس کے بعد باقی اخبارات اور نیوز ایجنسیوں نے اس کے اقتباسات پر مبنی رپورٹیں جاری کی ہیں۔ امریکی میڈیا نے خاص طور پر اس خط کے اس حصے کو اچھالا ہے جس میں خالد شیخ محمد نے الزام لگایا ہے کہ القاعدہ نے نائن الیون سانحے کا جو منصوبہ بنایا تھا اس کے اسباب خود امریکہ نے پیدا کئے اس طرح اس سانحے کا ذمہ دار خود امریکہ بھی ہے اور بات آگے بڑھتے بڑھتے ایسا تاثر بنا دیا گیا جیسے خالد شیخ محمد نے سانحے کی ذمہ داری القاعدہ کی بجائے امریکہ پر ڈال دی ہے جو درست نہیں ہے۔ خالد شیخ محمد نے اپنے خط کے ذریعے جو ’’پروپیگنڈہ‘‘ کیا ہے اسے امریکی میڈیا نے ’’ڈاؤن پلے‘‘ کیا ہے لیکن اس نمائندے نے بھی انگریزی زبان میں لکھے اصل خط کی نقل حاصل کی جس میں درج کہانی کے ذریعے القاعدہ اور اس کے منصوبہ سازوں کی سوچ اور نظریئے سے صحیح آگاہی ہوتی ہے اور ان کے مؤقف کے مطابق امریکہ نے کیا خرابیاں کی تھیں جس کی اسے سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ نائن الیون سانحے کے مبینہ منصوبہ ساز 51 سالہ خالد شیخ محمد نے 2014ء میں یہ خط لکھنا شروع کیا درج تاریخ جنوری 2015ء ہے۔ اٹھارہ صفحات کے خط میں نائن الیون سانحے کے القاعدہ کے منصوبے کی تفصیلات بیان کرنے اور اس کا اعتراف کرنے کے بعد خالد شیخ نے اس کے اسباب پیدا کرنے کی ذمہ داری امریکہ پر ان الفاظ میں ڈالی ہے جس کا مخاطب صدر اوبامہ تھے۔ ’’نائن الیون کے روز صرف ہم نے ہی یہ جنگ شروع نہیں کی تھی۔ ہمارے (مسلمانوں کے) خطے میں آپ اور آپ کے آمر حکمرانوں کا بھی اس میں حصہ ہے‘‘۔ خالد شیخ نے صدر اوبامہ کو ’’سانپ کا سر‘‘ امریکہ کو ’’ظلم اور جبر کا ملک‘‘ اور اپنے آپ کو ’’قیدی مجاہد‘‘ قرار دیا ہے۔ نائن الیون کے سانحے میں اغوا شدہ طیاروں کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کی عمارت سے ٹکرانے کے نتیجے میں 2976 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک طیارہ پنسلوینیا کے میدان میں گرگیا تھا۔ نائن الیون کے سانحے کے دو ہفتے بعد ایف بی آئی نے ہائی جیکرز کا تعلق القاعدہ سے جوڑ دیا تھا اور بتایا تھا کہ 1999ء میں اسامہ بن لادن، خالد شیخ محمد اور محمد عاطف نے ایک میٹنگ میں یہ کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے مطابق مبینہ طور پر خالد نے اس کی منصوبہ سازی کی اور عاطف نے ہائی جیکروں کو منظم کیا۔ ایف بی آئی نے اس سانحے میں خود بھی ہلاک ہو جانے والے انیس ہائی جیکروں کی نشاندہی کردی تھی۔ اسامہ بن لادن نے امریکہ کے خلاف ’’جہاد‘‘ کرنے کے فتویٰ کی بہت پہلے حمایت کردی تھی۔ ’’ٹائم‘‘ میگزین نے اسامہ بن لادن کے ایک پاکستانی صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کے ساتھ انٹرویو کے اقتباس اپنی گیارہ جنوری 1999ء کی اشاعت میں جاری کئے تھے جن میں سے ایک کے الفاظ یہ تھے ’’امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جہاد کے انٹرنیشنل اسلامک فرنٹ نے ایک واضح فتویٰ جاری کیا ہے کہ پوری اسلامی قوم مقدس مقامات کو واگزار کرانے کیلئے جہاد کرے۔ حضرت محمد ؐ کی قوم نے اس اپیل پر لبیک کردیا ہے۔ اگر مسجد اقصیٰ اور مقدس مقامات کو واگزار کرانے کیلئے یہودیوں اور امریکیوں کے خلاف جہاد کی ترغیب دینا جرم ہے تو پھر تاریخ کو گواہی دینی ہوگی کہ میں مجرم ہوں‘‘۔ خالد شیخ محمد نے اپنے بھانجے رمزی یوسف کو 1993ء میں ورلڈ تریڈ سنٹر پر حملے کیلئے مبینہ طور پر فنڈز فراہم کئے تھے۔ نائن الیون کے سانحے کے بعد القاعدہ کے ایک ترجمان سلیمان ابو غوث نے ’’الجزیرہ ٹی وی‘‘ کو ایک ویڈیو بھیجی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’امریکیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ طیاروں کے ذریعے حملوں کا طوفان اب نہیں تھمے گا۔ اسلامی ممالک کے ہزاروں نوجوان اس طرح مرنے کے خواہشمند ہیں جس طرح امریکی زندہ رہنے کے خواہشمند ہیں‘‘۔ اکتوبر 2001ء میں ’’الجزیرہ‘‘ کے صحافی تاثیرالونی کو انٹرویو دیتے ہوئے اسامہ بن لادن نے نائن الیون سانحے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر لوگوں کو اس کام کیلئے اکسانا دہشت گردی ہے اور اگر ان لوگوں کو ہلاک کرنا جو ہمارے بچوں کو ہلاک کرتے ہیں دہشت گردی ہے تو تاریخ گواہ ہے کہ ہم دہشت گرد ہیں۔ ہم انشاء اللہ یہ جنگ جاری رکھیں گے۔ ہم انشاء اللہ فتح تک اور اس نتیجے پر پہنچنے سے پہلے خدا کے پاس پہنچ جانے تک اسے جاری رکھیں گے‘‘۔ 11 فروری 2003ء میں بھی ’’الجزیرہ‘‘ نے اسامہ کی ایک آڈیو ٹیپ جاری کی جس میں نائن الیون سانحے کی کارروائی کا جواز فراہم کیا گیا تھا۔ اب تازہ صورتحال یہ ہے کہ گوانتا ناموبے جیل کے زیادہ تر قیدی رہا ہوچکے ہیں اور باقی بچ جانے والوں میں سزائے موت کے منتظر پانچ قیدی بھی ہیں جن پر نائن الیون سانحے کی منصوبہ سازی کا الزام ہے۔ سب سے بڑے ملزم خالد شیخ محمد پہلے ہی مارچ 2007ء میں عدالت میں اپنے شہادتی بیان میں بڑے فخر کے ساتھ اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ نائن الیون آپریشن کے ’’اے سے زیڈ تک‘‘ تمام منصوبہ بندی کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستانی حکام نے اسے یکم مارچ 2003ء کو راولپنڈی سے گرفتار کیا تھا بعد میں سی آئی اے نے 2006ء میں اس پر قید کے دوران متنازعہ واٹر بورڈنگ کی تھی۔ خالد شیخ محمد کا تعلق کراچی سے ہے لیکن اس کا خاندان اس وقت کویت میں تھا جب وہ پیدا ہوا تھا۔ دوسرا اہم ملزم عمار بلوچی خالد شیخ کا بھانجا ہے جسے 29 اپریل 2003ء میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر الزام تھا کہ اس نے ہائی جیکرز کے اخراجات کیلئے ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر کا بندوبست کرکے انہیں بھجوائے تھے۔ عافیہ صدیقی جو ٹیکساس کے میڈیکل سنٹر میں 86 سال کی قید بھگت رہی ہے اس کے پہلے شوہر امجد خان نے طلاق دینے کے بعد بتایا تھا کہ عافیہ نے کراچی پہنچ کر عمار بلوچی سے دوسری شادی کرلی تھی۔ نائن الیون سانحے کا تیسرا ملزم یمنی باشندہ رمزی بن الشبھ ہے جو باہر سے ہائی جیکروں کی مدد کرتا رہا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس نے بھی ہائی جیکنگ کرنی تھی لیکن اسے ویزا دینے سے چار مرتبہ انکار ہوا تھا۔ چوتھا ملزم سعودی باشندہ مصطفی احمد ہاساوی ہے جو ہائی جیکرز کو مالی امداد فراہم کرتا رہا۔ پانچواں ملزم ولید بن عطاش افغانستان میں القاعدہ کے ایک تربیتی مرکز کا انچارج تھا جس نے دو ہائی جیکرز کو تربیت فراہم کی تھی۔ ’’میامی ہیرالڈ‘‘ نے خالد شیخ محمد کا خط اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کردیا ہے جس کے بعد پینٹا گون نے گزشتہ روز اس خط کی تشہیر پر پابندی لگا کر اسے ’’کلاسیفائیڈ‘‘ قرار دے دیا ہے۔ فوجی عدالت نے سزائے موت کے منتظر پانچوں ملزموں کے خلاف ابھی باقاعدہ مقدمہ شروع نہیں کیا اور ابتدائی پیشیاں جاری ہیں۔ فی الحال مزید سماعت مارچ تک ملتوی ہوچکی ہے۔ اپنے خط میں سابق صدر اوبامہ کو مخاطب کرتے ہوئے خالد شیخ محمد نے اپنے مقدمے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’میں بڑی خوشی سے اپنے جیل کے کمرے میں اپنی باقی زندگی گزارنے کیلئے تیار ہوں جہاں میں اللہ کی عبادت کروں گا اور اپنے گناہوں اور جرائم کی مغفرت کیلئے دعا مانگوں گا۔ اگر عدالت نے مجھے سزائے موت سنا دی تو پھر میں زیادہ خوش ہو جاؤں گا کیونکہ اس صورت میں میں اللہ، اس کے پیغمبروں اور اپنے ان بہترین دوستوں سے ملوں گا جنہیں آپ نے دنیا بھر میں قتل کیا تھا اور پھر میں شیخ اسامہ بن لادن سے بھی مل سکوں گا‘‘۔ خالد شیخ محمد نے اپنے خط میں بار بار فلسطین کا حوالہ دیا اور صدر اوبامہ سے مخاطب ہوتے ہوئے الزام لگایا کہ آپ خود ایک کامیاب اٹارنی ہیں اور انسانی حقوق سے آگاہ ہیں لیکن آپ نے اپنے دشمن (اسامہ) کو مقدمہ چلائے بغیر ہلاک کیا اور اس کی لاش اس کے خاندان کے حوالے کرنے کی بجائے سمندر میں پھینک دی۔

مزید : صفحہ آخر