بھارت کا خفیہ ایٹمی شہر، نفیس ذکریا کے چشم کشا انکشافات!

بھارت کا خفیہ ایٹمی شہر، نفیس ذکریا کے چشم کشا انکشافات!

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے حقیقتاً بڑا انکشاف کیا ہے، اس پر تو پوری دنیا کو چونکنا چاہئے اور خصوصاً اقوام متحدہ کی ایٹمی پھیلاؤ کوروکنے والی تنظیم کو باقاعدہ نوٹس لینا چاہئے، نفیس ذکریا کے مطابق بھارت نے اپنے ملک میں ایک ایٹمی شہر بسالیا ہے جسے دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رکھا گیا ہے، یہ ایک ذمہ دار ملک کے ذمہ دار عہدیدار کا بیان ہے جو ہوا میں نہیں، معلومات کی بنیاد پر ہے اور جہاں تک بھارت کی طرف سے پاکستان میں مداخلت کا سوال ہے تو نہ صرف دہشت گردی کے لئے مالی معاونت فراہم کی جارہی ہے بلکہ افغانستان میں ’’را‘‘ نے تربیتی مراکز بھی قائم کرر کھے ہیں، اور بلوچستان میں مداخلت کے ثبوت تو بھارتی جاسوس کلبھوشن کے ویڈیو بیان میں موجود ہیں۔

جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو وہاں کے انتہا پسندوں نے پاکستان کو دل سے کبھی قبول کیا اوربڑے بڑے روشن خیال واہگہ کی بین الاقوامی سرحد کو لکیرکہہ کر اسے ختم کرنے کی بات کرتے ہیں، یہ تو پاکستانیوں کا حوصلہ اور ہماری مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں کا فخر ہے کہ اب تک دشمن کی خواہش پوری نہیں ہو سکی، ورنہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد تو موجودہ پاکستان پر بھی مسلسل نظر بد رکھی گئی ہے، بھارت کی موجودہ حکمران جماعت بی،جے،پی مودی کی قیادت میں تو عزائم کو چھپا نہیں رہی، کنٹرول لائن پر مسلسل جارحیت اور خلاف ورزی جاری ہے، مسلح افواج مسلسل جواب بھی دے رہی ہیں لیکن مودی حکومت عالمی رائے عامہ کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور پاکستان دشمنی سے ہٹانے کے لئے اس چھیڑ چھاڑ کو جاری رکھے ہوئے ہے جس میں معصوم شہری نشانہ بنتے ہیں۔

یہ اللہ کا کرم ہے کہ ہماری مسلح افواج دفاعی صلاحیت کی حامل ہیں اور پر عزم بھی کہ کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے لیکن اس وقت حالات جو رخ اختیار کررہے ہیں اور مودی حکومت نے جن عزائم کی طرف پیش قدمی شروع کی وہ ظاہر بھی ہوتے جارہے ہیں، حال ہی میں دفاعی بجٹ میں بہت زیادہ افضافہ کیا گیا اور دو کھرب روپے سے زائد کے اسلحہ کے سودے کئے گئے ہیں، اس خریداری اور تیاری سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کا خدشہ بھی موجود ہے اور اسلحہ کی دوڑ بھی شروع ہو سکتی ہے اس پر عالمی رائے عامہ کو نوٹس لینا چاہئے اور ہمارے دفتر خارجہ نے جو انکشافات کئے ہیں وہ ہفتہ وار پر یس بریفنگ تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کو پوری دنیا کے سامنے رکھا جائے اور مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ ان عزائم کا بھی پردہ چاک کیا جائے۔

دوسری طرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پہل کی اور نئے امریکی وزیر دفاع کو فون کر کے عہدہ سنبھالنے کی مبارک باد دی، دونوں راہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال بھی ہوا اور امریکی وزیر دفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی خدمات اور قربانیوں کو سراہا، تاہم افغانستان میں متحدہ نیٹوافواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے ایک بار پھر ’’ڈو مور‘‘ والی بات کی اور کہا کہ پاکستان میں حقانی گروپ کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا، پاکستان کی طرف سے ہمیشہ اس سے انکار کیا گیا اور بتایا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جارہی ہے۔

یہ تو حالات اور پس منظر ہے اس میں مسلح افواج کی دفاعی صلاحیت اور حالات کے مقابلے کی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے یہ سب مسلح افواج پر چھوڑ دیا ہے اور ہماری کوئی ذمہ داری نہیں، اصولی طور پر تو حکومت، عوام اور فوج کو کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہے، کہ جارحیت کھل کر سامنے آرہی ہے لیکن ہم دفاع پاکستان کے لئے زبانی کلامی بات کرتے ہیں عملی اتحاد کا مظاہرہ نہیں کرتے جو سیاسی حالات اور چپقلش سے ظاہر ہے، ہونا تو یہ چاہئے کہ اختلافات اور اعتراضات جمہوری انداز میں کئے جائیں اور قومی امور پر الگ الگ بیان بازی کی بجائے مشترکہ موقف اپنایا جائے، حکومت کو اپنی ذمہ داری زیادہ نبھانا ہوگی اور اس سلسلے میں تو مشترکہ اجلاس بھی بلایا جاسکتا ہے اگر انتخابی اصلاحات اور دوسرے قوانین کے سلسلے میں یہ ممکن ہے تو دفاع پاکستان کے لئے کیوں نہیں؟

ایٹمی شہر

مزید : تجزیہ