سفری پابندی،اپیل کورٹ نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ مسترد کردیا ، ماتحت عدالت کا حکم برقرار اب سپریم کورٹ میں ملاقات ہو گی : ٹرمپ

سفری پابندی،اپیل کورٹ نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ مسترد کردیا ، ماتحت ...

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این،آن لائن ،اے این پی )سان فرانسسکو میں قائم نویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلمان اکثریتی ملکوں کے تارکین وطن پر پابندی کے حکم نامے پر ماتحت عدالت کی عبوری معطلی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا ہے۔تین ارکان پر مشتمل اپیلز عدالت نے اس ہفتے کے اوائل میں اس معاملے پر زبانی دلائل سنے تھے اور جمعرات کی شام گئے اپنا فیصلہ سنایا۔متوقع طور پر اب امریکی عدالت عظمی مقدمے کا حتمی فیصلہ کرے گی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان ممالک سے دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں ثبوت ناکافی ہیں۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس کے بجائے کہ انتظامی حکم کی ضرورت سے متعلق ثبوت فراہم کیے جاتے حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ ’’ہمیں اس فیصلے پر نظرثانی نہیں کرنی چاہیے‘‘۔نویںیو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز کا کہنا ہے کہ وہ لوئرکورٹ کی جانب سے کیے گئے صدارتی حکم نامے کی معطلی کے فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ججوں نے انتظامیہ کا یہ دعوی مسترد کر دیا کہ پابندی کا محرک دہشت گردی کا ڈر ہے۔ تاہم انہوں نے ریاستوں کی جانب سے پیش کردہ اس دلیل کو بھی چیلنج کیا کہ اس اقدام کا مقصد مسلمانوں کو ہدف بنانا ہے۔دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں عدالتی فیصلے کو سیاسی قرار دیا اور اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہمارے ملک کی سلامتی داؤ پر لگی ہے اب آپ سے سپریم کورٹ میں ملاقات ہو گی ۔اس مقدمے میں وائٹ ہاؤس کی نمائندگی محکمہ انصاف نے کی تھی اور ان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ 'اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس سے متعلق غور کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی ضلعی عدالت کے جج، جیمز روبرٹ نے ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے پر عبوری حکمِ امتناع جاری کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن سے امریکہ آنے والوں کے ویزے 90 روز تک معطل کر دیے گئے تھے۔اس کے علاوہ شام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی امریکہ آمد پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ انتظامی حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو خطرہ ہے۔اس انتظامی حکم نامے کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور امریکی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر ایک افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔امریکی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلا کا کہنا تھا کہ صدارتی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے یہ پابندی قانونی ہے۔تاہم دو امریکی ریاستوں کا کہنا تھا کہ یہ پابند غیرآئینی اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ممکنہ طور پر یہ مقدمہ اب امریکی عدالت عظمی میں پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکی ریاست واشنگٹن کے ایک جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ آمد پر لگائی جانے والی پابندی کو ملک بھر میں عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ کی اپیل کا مقصد اس فیصلے کو پلٹنا تھا جسے ریاست واشنگٹن کے ایک وفاقی جج نے صادر کیا تھا۔امریکہ کے قانونی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ اگر ویزا قوانین میں سختی چاہتے ہیں تو اس کے لیے سب سے بہتر طریقہ ہو گا کہ اس پورے عمل کو دوبارہ شروع کریں اور کانگریس کی رضامندی کے ساتھ ایک بل لائیں جسے آئینی طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکے۔لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا۔ ان کی کوشش تو یہی ہوگی کہ کچھ ایسا ہو جسے وہ فورا اپنی جیت کے طور پر پیش کر سکیں۔امریکی محکمہ انصاف نے اس معطلی کے خلاف اپیلز کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ۔اب اپیلز کورٹ کے فیصلے کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا جہاں آٹھ رکنی بینچ اس کی سماعت کرے گا اور فیصلے میں ٹائی ہونے کی صورت میں اپیلز کورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا ۔

اپیل کورٹ

مزید : کراچی صفحہ اول