بی آئی ایس پی خواتین کو بااختیار بنانے کا پلیٹ فارم ہے،ماروی میمن

بی آئی ایس پی خواتین کو بااختیار بنانے کا پلیٹ فارم ہے،ماروی میمن

کراچی (اسٹاف رپورٹر)بی آئی ایس پی خواتین کو بااختیار بنانے کا پلیٹ فارم ہے جو اپنی مستحقین کو مالی، سماجی اور سیاسی طور پر خودمختار بنانے کیلئے ایک اہم کردار ادا کررہا ہے۔ یہ ایک منفرد پروگرام ہے جو مستحقین کو آگاہی کے ذریعے بااختیار بناتے ہوئے عزت نفس اور مقصد حیات فراہم کرتا ہے اور انہیں غربت سے باہر نکالنے کیلئے دیگر فلاحی پروگراموں سے منسلک کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر مملکت و چیئرپرسن بی آئی ایس پی، ایم این اے ماروی میمن بی آئی ایس پی کے خواتین کو بااختیاربنانے کے اقدام کے افتتاح کے دوران کیا۔ عالمی بینک کے وفد میں سینئر ڈائریکٹر جینڈر Ms Caren Grown ، پریکٹس مینجر سوشل ڈویلپمنٹMr David Seth Warren اور سینئر سوشل ڈویلپمنٹ سپیشلسٹ Ms Helene Carlsson شامل تھیں۔ سندھ بھر سے مستحقین کی موجودگی میں ، خواتین کی بااختیاری سے متعلق خاص تربیتی مواد کی نقاب کشائی کی گئی۔ تربیتی مواد کوبی آئی ایس پی بینیفشری کیمٹیوں (BBCs) کی مدد سے خواتین کی آگاہی اوربااختیاری کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ یہ تربیت مستحقین کو بنیادی حساب کتاب، ATMکے استعمال، خواتین کے حقوق اور بائیومیٹرک تصدیق کے نظام (BVS)سے رقوم کی ادائیگی، غذائیت اور صحت کے معاملات پر آگاہی فراہم کرے گی۔ خواتین کو اسلامی اصولوں کے مطابق انکے حقوق اور استحقاق سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی جو حقیقی معنوں میں اسلامی معاشرے کی عکاسی ہے۔عالمی بینک سینئر ڈائریکٹر جینڈرMs Caren Grown نے مستحق خواتین سے ملاقات کی اور کہا کہ بی آئی ایس پی کا خواتین کی مالی نظام میں شمولیت اور انکی بااختیاری کا ایجنڈا قابل تعریف ہے کیونکہ اس سے نصف سے زائد آبادی کو منظم کرتے ہوئے پاکستان میں پائیدار ترقی کا حصول ممکن ہوگا۔ ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی نے بی آئی ایس پی کے تیسری Impact Evalucationرپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا پاکستان میں خواتین کی بااختیاری کیلئے بی آئی ایس پی کا کردار بہت بڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے CNICsکی فراہمی سے 5.4ملین خواتین کو انتخابی فہرستوں میں شامل کیا۔ سال 2011میں مستحق گھرانوں میں صرف 40% خواتین ووٹ کرسکتی تھیں جبکہ 2016میںیہ اختیار70%خواتین کو حاصل ہے جو جمہوری حقوق پر عمل درآمد میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے ۔ خواتین کی مالی اور سماجی نظام میں شمولیت میں بھی بہتری رونما ہوئی ہے کیونکہ 76%خواتین کو اپنے وظائف پر مکمل اختیار حاصل ہے۔ 2011-2016کے عرصے کے دوران مالی بچت میں 9%سے 13%کا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 7%غربت میں کمی ہوئی جبکہ 3%پاورٹی گیپ اور لڑکیوں کی ناقص غذا میں کمی پائی گئی۔ چیئرپرسن نے مزید کہا کہ 91%مستحقین انتہائی غریب یا غریب ہیں جن کی شرح خواندگی صرف 9% ہے ۔ اس صورتحال میں، بی آئی ایس پی کی 55,000بینیفشری کمیٹیاں بہت بڑی سونے کی کان اور ایک ایسا پلیٹ فارم ہیں جو خواتین کی معاشی و سماجی بااختیاری کو بڑھانے اور معاشرے سے تشدد کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور اسلا م کے اصولوں کے مطابق خواتین میں حقیقی انقلاب لانے کیلئے خواتین کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ بی آئی ایس پی مستحقین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بی آئی ایس پی کا وظیفہ انکی زندگیوں کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے کیوں کہ یہ خوراک اور صحت پر خرچ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم بلا سود قرضہ سکیم سے مستفید ہونے والی مستحق خواتین نے اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے پر وزیر اعظم کا انکی غریبوں کیلئے حکمت عملی پر شکریہ ادا کیا۔ تقریبا 50,000مستحقین PMIFLسے مستفید ہوئیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول