شہید پولیس افسران کے قاتلوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے : فیصل سبزواری

شہید پولیس افسران کے قاتلوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے : فیصل سبزواری

کراچی (اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان ) کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی حالیہ تقریر میں 95ء اور96ء کے کراچی آپریشن میں سرکردہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی شہادت کے واقعات میں ایم کیوایم کے ملوث ہونے کے تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح الفاظ میں مطالبہ کیا کہ شہید پولیس افسران اور اہلکاروں کے قاتلوں کو پکڑا جائے اور دنیا کے سامنے لایاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ آئی جی سندھ کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ نے بھی ٹی وی پر اعتراف کیا ہے کہ 1995ء کا نصیر اللہ بابر کا آپریشن ایک زبا ن بولنے والوں کیخلاف تھا ، 5دسمبر 96ء کو بے نظیر بھٹو کی حکومت کو جب فاروق لغاری نے برطرف کیا تو اس کا بنیادی نکتہ کراچی میں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہی تھابعد ازاں عدالت عظمی نے فاروق لغاری کی چارج شیٹ کو درست قرار دیا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے جمعہ کے روز ایم کیوایم (پاکستان ) کے عارضی مرکز واقع پی آئی بی کالونی میں رابطہ کمیٹی کے رکن سید امین الحق کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنان کی ماورائے عدالت ہلاکتیں ہوئیں ہیں ، ایم کیو ایم سے وابستگی کی بنیاد د پربغیر کسی مقدمے کے کارکنان کو آبادیوں کے محاصرے کرکے گرفتار کیا گیاجو دنیا کے سامنے ہے،تاریخ کو احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ بیان کرنا چاہئے ،ایم کیو ایم اورنگی ٹاؤن کے کارکن وسیم راجہ کو اے ڈی خواجہ صاحب کی حالیہ تقرری کے دوران ہی پولیس نے گرفتار کیا اور ایک تھانے سے دوسرے تھانے لیجایا گیا اور اس کے بعد تشدد زدہ لاش تھانے سے ملی ، اس کے خلاف ہم نے دھرنا دیا ، ایک آدھ پولیس اہلکارکومعطل کردیا گیا اور کارکن کے غریب اہل خانہ کو پولیس کی طرف سے سیٹل منٹ پر آمادہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ لیاری میں ایس ایچ او شہید کئے گئے لیکن کراچی پولیس لیاری کے گینگسٹر کے ہاتھوں کھیلتی رہی ہے ، گینگسٹر پولیس کی موبائلوں میں مخالفین کو پکڑکر لاتے رہے اور ان کے سروں سے فٹ بال کھیلتے رہے ۔ انہوں نے کہاکہ پولیس غیر سیاسی ہونی چاہئے ،اگر ایم کیوایم نے یہ جرم کیا ہے توایسے تمام پولیس افسران کو بر طرف کردیاجائے ،لیکن دنیا جانتی ہے کہ براہِ راست ڈی ایس پی کس نے بھرتی کیئے ہیں ، جب پیپلز پارٹی کے نثار مورائی کے گھر سے اسلحہ نکلا ہو کہا جاتا ہے کہ خالی کچرا کنڈی سے ملا ، نامی گرامی گینگسٹر کی سرپرستی سابق وزیراعلیٰ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے پولیس سے درخواست ہے کہ پولیس کو معصوم شہریوں کیلئے خوف کا باعث نہیں ہونا چاہئے ، اورنگی ٹاؤن جیسی دیگر غریب آبادیوں سے پچا س پچاس ہزار کی رشوت لیکر چھوڑنے کامذموم کاروباربند کیا جائے ، پولیس کوذمہ داری کا ثبوت دینا چاہئے ، ایم کیوایم کی صفوں میں اگر کوئی لاقانونیت میں ملوث ہے تو اسے پولیس ضرور گرفتار کرے ، اس کے خلاف مقدمہ چلایاجائے لیکن قانون کانفاذ قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے لئے حکومت کہتی ہے کہ ٹارگٹ کلنگ ختم ہوگئی ہے لیکن کراچی کے شہریوں کوکراچی کی سڑکوں پر نشانہ بنایاجارہا ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، ڈرائیورزحضرات کو کس نے لائسنس دیا ہے ، منی بسوں کی کون فٹنس جاری کرتا ہے ، منی بسوں کے مالکان اور پولیس کے درمیان پارٹنر شپ ہے ۔ کراچی میں گاڑیوں کو شہریوں کے اوپر چڑھنے اور موت کا رقص کرنے کی آزادی ہے ، شہر کی سڑکیں نہ بنا کر کراچی کے شہریوں کو پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ دینے کی سزا دی جاتی رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ شہر میں سڑکیں بنانے کے نام پر جو کیا جارہاہے وہ کراچی کے شہریوں کے ساتھ سراسر ظلم ہے ، جن ڈرائیور کے خلاف ایف آئی آر ز درج ہوتی ہے ان کے مالکان تک پہنچا جائے اور کراچی کے شہریوں کو ریلیف دیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک لیڈر ایک ، دو سال بعد آتے ہیں کراچی کا دورہ کرنے کیلئے اور آگ لگانے والے بیانات دیتے ہیں ،عمران خان کے مہاجر اور کراچی دشمن بیانات سے کراچی کو فتح کرنے کی بو آتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کچھ صاحبان پشاور جاکر یہ فرماتے ہیں کہ ایم کیوایم پاکستان اور لندن ایک ہیں، ایم کیوایم پاکستان کی کسی کے ساتھ دشمنی کی پالیسی ہے اورنہ ہم دشمنی کی سیاست کریں گے ، اگر کوئی چاہتا ہے کہ ہم گالی گفتار کی زبان استعمال کریں تو ایسا ہم نہیں کریں گے ، تقسیم کی سیاست کو فروغ نہیں دیں گے ، ایم کیوایم لندن سے ہماری راہیں اور پالیسی بھی الگ ہیں ، ہم مثبت پالیسی کو فروغ دیتے رہیں گے ، مہاجروں نے جو اعتماد ہمیں دیا ہے اسے نہیں ٹھکرائیں گے ۔ وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست ہے کہ کل وقتی وزیرداخلہ کو صوبہ سندھ میں تعینات کیاجائے ، شہریوں کو پولیس کے محکمے کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے ، ایسے وزیرداخلہ کو تعینات کیا جائے جنہیں لوگوں کا درد ہو ، جو متعصب افسران کو پوسٹنگ سے ہٹائیں ۔ فیصل سبزواری نے آئی جی سندھ سے دوبارہ درخواست کرتے ہوئے کہاکہ کراچی کی بعض آبادیوں میں باقاعدہ پالیسی کے تحت ایم کیوایم کے کارکنان کو تنگ کیاجارہا ہے ،کارکنان کو گرفتار کرکے پیسے بنانے کی مشین سمجھ لیا گیا ہے ، اس صورتحال پر قابو پانے کی ذمہ داری بھی سندھ پولیس کے افسر ان کی ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول