افغانستان بھی پاکستان کو صحرا بنانے کی سازش میں شامل ہو گیا ہے،میاں ز اہد

افغانستان بھی پاکستان کو صحرا بنانے کی سازش میں شامل ہو گیا ہے،میاں ز اہد

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے بعد اب افغانستان بھی پاکستان کو صحرا بنانے کی سازش میں شامل ہو گیا ہے جس کا نوٹس لیا جائے۔بھارت درجنوں ڈیم بنا چکا ہے جبکہ سینکڑوں زیر تعمیر ہیں جس سے دونوں ممالک کے مابین 18.5 ملین ایکڑ فٹ کی تقسیم کا فارمولا متوازن نہیں رہا ہے جس سے پاکستان کی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کا نتیجہ جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اب افغان حکومت سات ارب ڈالر کی لاگت سے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زیادہ ڈیم بنا رہی ہے جس سے دریائے کابل کے پانی میں پاکستان کا حصہ سترہ فیصد کم ہو جائے گا جس سے عوام،صنعت اورزراعت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ یہ ڈیم پانچ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کے حامل ہونگے جس سے ڈیورنڈ لائن کے اس طرف صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں رہنے والی پختون آبادی بری طرح متاثر ہو گی۔گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کا پہلو نمایاں رہا ہے جس سے دونوں ممالک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے جبکہ دونوں ممالک کی پشتون آبادی جو پانچ کروڑ سے زیادہ ہے میں بہت سے افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف کی آبادی اس سے پہلے ہی استحصال، مواقع کی کمی، قدرتی آفات اور فوجی آپریشنز کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے اور انکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔دونوں ممالک کے مابین اعتماد سازی کی ضرورت ہے اور اگر اس مسئلے کو دونوں ملکوں نے مل کر حل نہ کیا تو عوام کے مصائب اور دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا جو کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر