ملک میں یتیم بچوں کی رجسٹریشن کاکوئی قانون موجود نہیں،زمردخان

ملک میں یتیم بچوں کی رجسٹریشن کاکوئی قانون موجود نہیں،زمردخان

اسلام آباد (سٹاف روپرٹر) قومی اسمبلی کی قا ئمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس پاکستان سویٹ ہوم میں منعقد ہوا جس میں چیئرمین بابر نواز خان ، طاہرہ بخاری،فرزانہ قمر،کرن حیدر ،آسیہ ناز تنولی،زاہرا ودود فاطمی ، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ، مسرت رفیق،عالیہ کامران مرتضیٰ،کنور نوید جمیل ، زمرد خان (ہلال امتیاز)، ڈاکٹر شازیہ زیب، چوہدری زولفقار ،مجتبیٰ عباسی،عبدالواحد بابر،چوہدری حق نوازاور میڈم فرزانہ نے شرکت کی۔اجلاس میں زمرد خان(ہلا ل امتیاز) سرپرست اعلی پاکستان سویٹ ہوم نے چیئر مین و دیگر ممبران قا ئمہ کیمٹی برائے انسانی حقوق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ ملک میں یتیم بچوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہ ہے اور نہ ہی اب تک کوئی قانون سازی ہوئی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ لوگ مافیاکی شکل اختیار کر چکے ہیں جو یتیم اور لاوارث بچوں و بچیوں کاناجائز استعمال کرتے ہیں اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے اور ان کے لئے سخت سے سخت سزا مقرر ہونی چاہیے ۔ یتیم اور لاوارث بچوں و بچیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔تاکہ ان بچوں و بچیوں کا مستقبل محفوظ اور روشن بنایا جاسکے۔چیئرمین قا ئمہ کیمٹی برائے انسانی حقوق با بر نوازخان نے اجلاس کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زمرد خان یتیم بچوں کی جو خدمت کر رہے ہیں ا س کا کوئی ثانی نہ ہے ۔میں اور میرے تمام ممبران اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ زمرد خان نے یتیم اور لاوارث بچوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے جو تجاویز پیش کی ہیں اس کو بل کی شکل میں قومی اسمبلی میں نہ صرف پیش کریں گے بلکہ منظور بھی کروائیں گے۔ ا س کیمٹی نے پہلے بھی غیرت کے نام پر قتل پر قانون منظور کروایا ہے ۔ میں زمرد خان کی اس خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہو ں کہ اس ماہ کی تنخواہ پاکستان سویٹ ہوم کو دو نگا اور مزید بھی تعاون پاکستان سویٹ ہوم کے ساتھ کرتا رہونگا۔ دیگر ممبران نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم آج سے پاکستان سویٹ ہوم کا حصہ ہیں ،اس جیسا ادارہ ہم نے پہلی بار دیکھا ہے یہاں زمرد خا ن اور اسکی ٹیم کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر