جماعت پنجم اسسمنٹ ،امتحانی نظام کو تباہ کرنے کی سازش ہے ،امجد علی

جماعت پنجم اسسمنٹ ،امتحانی نظام کو تباہ کرنے کی سازش ہے ،امجد علی

بٹ خیلہ (بیورو رپورٹ )جماعت پنجم کا اسسمنٹ امتحان تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے ، این جی او کے ذریعے بنائی گئی تعلیمی نصاب کوپرائیویٹ تعلیمی اداروں پر مسلط کرناچاہتاہے ،پہلے اسسمنٹ پر جوکروڑوں روپے عوام کے جیبوں سے کٹے گئے ٹیکسوں سے اڑائے گئے ان کاحساب دیاجائے ۔حکومت صوبے کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے نمائندہ تنظیم پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN) کے تحفظات دورکریں بصورت دیگر اس کا ہرمیدان پر مقابلہ کیا جائے گا ۔ان خیالات کا اظہارپرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN) ضلع ملاکنڈکے صدرامجدعلی خان نے ڈسٹرکٹ پریس کلب ملاکنڈ ایٹ بٹ خیلہ کے ایک وفدکو بریفنگ دیتے ہو ئے کیا ۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی تعلیمی نصاب میں کئی ایک ایسی تبدیلیاں کی ہیں جو اسلام اور پشتون روایات کے خلاف ہیں ۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے اپنے محدودوسائل کے باوجود اپنے نصاب کو اسلامی اور پشتون روایات کے تحت جاری رکھا ہے جبکہ تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اسلامی بنیادوں پر بچوں کی نشوونماء کی تربیت کی جارہی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبائی حکومت سرکاری سکولوں کو تاحال نصاب کی کتابیں مہیا کرنے میں ناکام رہی ہیں تو پورے صوبے کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم پانچویں جماعت کے لاکھوں طلباء کو نصابی کتابیں کیسی فراہم کرسکیں گے ۔صوبائی حکومت نے گذشتہ سال جولائی میں صوبے کے تمام پرائییویٹ اداروں کو پانچویں جماعت کے اسسمنٹ کے حوالے سے نوٹیفیکشن جاری کیا جس کے تحت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو اس مختصروقت میں بچوں کو اسسمنٹ کے لئے تیارکرنا ممکن نہ تھا ۔اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ سال صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں کے پانچویں جماعت کی اسسمنٹ کے نتائج کا تاحال کوئی پتہ نہیں چلاجب کہ اس اسسمنٹ پر این جی اوزکے ذریعے کروڑوں روپے خرچ کئے گئے جس سے قومی خزانے کو فضول میں نقصان پہنچایا گیا ۔اُنہوں نے کہا کہ اگرحکومت واقعی پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی اسسمنٹ میں سنجیدہ ہے تو ہر ضلع پر مخصوص پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو مختص کرکے اس کے نتائج دیکھیں ۔اُنہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ بھرکے ہزاروں پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں مختلف پبلشرزاداروں کی مختلف سیریزچل رہی ہیں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی معیاراور اسلامی تشخص کو دیکھ کروالدین اپنے بچوں کو انہی اداروں میں داخل کرنے کو ترجیح دے رہی ہے ۔اُنہوں نے صوبائی حکومت کو خبردارکیا کہ وہ کسی بھی قسم کی تعلیمی پالیسی بنانے میں صوبہ بھرکے ہزاروں سکولوں کے نمائندوں کو ضرورشامل مشورہ کریں بصورت دیگر پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN) کسی بھی قسم کی قانونی اقدام سے گریز نہیں کرے گی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر