توبہ ، توبہ ، توبہ ، دنیا کی موٹی ترین اور ساڑھے 12 من وزنی مصری خاتون ایمان احمد علاج کے لئے بھارت پہنچ گئی ،جہاز سے کرین کے ذریعے باہر اور پھر ٹرک میں لٹا کر ہسپتال منتقل کیا گیا

توبہ ، توبہ ، توبہ ، دنیا کی موٹی ترین اور ساڑھے 12 من وزنی مصری خاتون ایمان ...
توبہ ، توبہ ، توبہ ، دنیا کی موٹی ترین اور ساڑھے 12 من وزنی مصری خاتون ایمان احمد علاج کے لئے بھارت پہنچ گئی ،جہاز سے کرین کے ذریعے باہر اور پھر ٹرک میں لٹا کر ہسپتال منتقل کیا گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن)موٹی عورت ہو یا مردد،سب کو ہی سمارٹ اور سلم نظر آنے کے لئے ہزار جتن کرتے دیکھا گیا ہے ،لیکن اگر ’’موٹاپا ‘‘ ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو پھر یقیناًآپ تندرست نہیں ہیں کیونکہ موٹاپا بذات خود ایک بیماری اور کئی دوسرے امراض کی بنیاد کہلاتا ہے ،ایسی ہی دنیا کی ’’موٹی ترین ‘‘ مصر کی رہائشی خاتون ایمان احمد ہیں جو اپنے موٹاپے سے نجات پانے کے لئے بھارتی شہر ممبئی پہنچ گئیں ہیں ،36سالہ ایمان کا وزن 500کلوگرام ہے اور وہ گذشتہ25سال سے مصری علاقے اسکندریہ میں واقع اپنے گھر سے باہر نہیں نکلی لیکن اب ’’گوشت کا پہاڑ ‘‘ نظر آنے والی ایمان احمد ’’موٹاپے کے عذاب‘‘ سے نجات حاصل کرنے کے لئے ممبئی ائیرپورٹ پہنچیں تو انہیں جہاز سے اتارنے کے لئے کرین استعمال کرنا پڑی ،جبکہ ہسپتال منتقل کرنے کے لئے ایمبولنس کی بجائے ٹرک استعمال کیا گیا ۔

اب کوئی بھی آپ کو نامعلوم نمبر سے فون کر کے تنگ نہیں کر سکتا کیونکہ۔۔۔,کلک کریں

ہندوستانی نجی ٹی وی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق شائد کسی کے لئے اس بات کا یقین کرنا مشکل ہو کہ دنیا میں کوئی عورت ایسی بھی ہے جس کا وزن 500کلو گرام یعنی 5من ہے ،جی ہاں مصر کے شہر اسکندریہ کی36سالہ رہائشی خاتون ایمان احمد کا وجود ’’گوشت کا ایسا پہاڑ ‘‘ بن چکا ہے کہ یہ موٹاپا اس بیچاری خاتون کے لئے یقیناًکسی عذاب سے کم نہیں ہے ،دنیا کی سب سے ’’موٹی ‘‘ خاتون کہلانے والی ایمان احمد کو گذشتہ25سال سے اسکندریہ میں واقع اپنے گھر سے باہر نکلنا نصیب نہیں ہوا ،جبکہ اپنے بھاری بھرکم وجود کی وجہ سے ایمان احمد اپنے بستر سے اَز خود اٹھنے یا ہلنے جلنے سے بھی قاصر ہے ،ایمان کو کھانا کھانے ،کپڑے تبدیل کرنے اور صفائی سمیت دیگر حاجات کے لئے اپنی ماں اور بہن صائمہ احمد کی مدد کی ضرورت رہتی ہے جو گذشتہ 25سال سے’’ موٹاپے سے معذوری ‘‘کی سی زندگی گزارنے والی ایمان کی خدمت کر رہی ہیں ۔

موٹاپے کی خطرناک بیماری میں مبتلا 36 سالہ ایمان عبدالعاطی کو علاج کے لیےاس کے آبائی شہر اسکندریہ کے برج العرب ہوائی اڈے سے خصوصی طیارے کے ذریعے بھارتی شہر ممبئی لایا گیا،مصر کے ہسپتالوں میں ایمان کی بیماری کا علاج نہیں کیاجاسکا۔مصری ایئرلائن کے چیئرمین صفوت مسلم نے بتایا کہ شہری ہوابازی کے وزیر شریف فتحی کی خصوصی ہدایت پر موٹاپے کی  شکار لڑکی ایمان کو بھارت لے جانے کے لیے خصوصی پرواز کا اہتمام کیا گیا،جس کے بعد اسے براہ راست اسکندریہ سے بھارت کے شہر ممبئی منتقل کیا گیا ہے۔موٹاپے اور بھاری بھرکم حجم کی وجہ سے ایمان عبدالعاطی کو ہوائی جہاز کے دروازے سے اندر لے جانا مشکل تھا، اس لیے جہاز میں خصوصی دروازہ تیار کیا گیا۔صفوت مسلم کا کہنا ہے کہ مریضہ کی حالت کے پیش نظر  دوران پرواز بھی اس کی انتہائی نگہداشت کی ضرورت تھی ،اسی لئے سفر کے دوران بھی اسے انتہائی احتیاط کے ساتھ ایک خاص ماحول میں رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی، جبکہ جہاز میں بھی ایمان کا بیڈ خصوصی طور پر لگا یا گیا تھا ، اسے گھر سے ہوائی جہاز تک لے جانے کے لیے خصوصی گاڑی تیار کی گئی  جبکہ مصر سے ممبئی پہنچنے والی ایمان احمد کو طیارے سے باہر نکالنے کے لئے ائیر پورٹ انتظامیہ نے کرین کی مدد حاصل کی۔جہاز سے کرین کی مدد سے باہر نکالنے کے بعد ایمان احمد کو نجی ہسپتال میں کسی ایمبولینس کی مدد سے نہیں بلکہ ایک ٹرک کے ذریعے منتقل کیا گیا ۔

ایمان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ پیدائش کے وقت ہی اس کا وزن عام بچوں سے غیر معمولی طور پر زیادہ تھا اور جب وہ پیدا ہوئی تو اس کا وزن حیرت انگیز طور پر 5 کلو گرام تھا،ایمان جب چھوٹی تھی تو وہ اپنے ہاتھوں کے سہارے ادھر ادھر گھوم پھر لیتی تھی، لیکن 11 سال کی عمر ہوتے ہوتے وہ اپنے بھاری بھرکم وزن کی وجہ سے کھڑی بھی نہیں ہو پاتی تھی اور گھر میں صرف رینگتی ہی تھی ۔موٹاپے کی وجہ سے دماغی فالج ہونے کے بعد اس کو پرائمری سکول بھی چھوڑنا پڑا اور وہ مکمل طور پر بستر پر رہنے لگی، اس کے بعد سے ایمان بالکل مفلوج اور کچھ بھی کر پانے سے قاصر ہو کر صرف اپنے گھر میں ہی پڑی رہتی ہے۔ ایمان احمد ممبئی کے معروف سرجن ڈاکٹر مفضل لکھنڈوالاکی سربراہی میں ڈاکٹرز کی ٹیم سے گذشتہ 3ماہ سے علاج کروا رہی تھی اب باقاعدہ آپریشن کے لئے وہ اپنی بہن ،والدہ اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ ہندوستان پہنچی ہیں ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس