پی ایس ایل میں کرپشن، کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز آئی سی سی کے انویسٹی گیٹرز نے کیا

پی ایس ایل میں کرپشن، کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز آئی سی سی کے انویسٹی ...
پی ایس ایل میں کرپشن، کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز آئی سی سی کے انویسٹی گیٹرز نے کیا

  

دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) کو آغاز پر ہی ’نظر‘ لگ گئی ہے اور تین کھلاڑیوں کے کرپشن کے الزام میں پکڑے جانے کے بعد تہلکہ خیز انکشاف منظرعام پر آیا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز پی سی بی نے نہیں بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے انویسٹی گیٹرز نے کیا ۔

شرجیل خان اور خالدلطیف نے مایوس کیا ،متبادل کھلاڑی ڈھونڈ رہے ہیں :اسلام آباد یونائیٹڈ

تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل میں شریک کھلاڑیوں کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کا آغاز پی سی بی نے نہیں بلکہ آئی سی سی کے انویسٹی گیٹرز نے کیا جس دوران پی ایس ایل میں شریک کھلاڑیوں کے مشتبہ افراد سے رابطوں کا انکشاف ہوا۔

یہ کارروائی آئی سی سی کے گرینڈ آپریشن کا حصہ ہے جس دوران یہ تفصیلات سامنے آئیں کہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب سے قبل بکیز نے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور کئی کھلاڑیوں نے بکیز کو خراب کارکردگی کا یقین دلایا تھا۔

کچھ کھلاڑیوں نے سٹے بازوں کی پیشکش قبول کی جبکہ کچھ نے پیشکش سن کر آئی سی سی اینٹی کرپشن حکام یا پی سی بی حکام کو آگاہ نہیں کیا جبکہ کھلاڑیوں کے ایک گروپ نے بکیز سے متعلق تمام معلومات فراہم کر دیں۔

سپاٹ فکسنگ، پی سی بی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کردیا،دونوں وطن واپس روانہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد جن کھلاڑیوں کو واپس بھیجا گیا انہوں نے سٹے بازوں کی پیشکش قبول کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ذوالفقار بابر اور شاہ زیب حسن سے بھی پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔ اور شاہ زیب حسن نے ان کے موبائل کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آئی سی سی نے بھی دبئی میں موجود دیگر کھلاڑیوں پر نظریں جما لی ہیں اور تحقیقات کے دوران مزید کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

مزید : T20