ٹرمپ کے فیصلے امریکہ ٹوٹنے کی نوید

ٹرمپ کے فیصلے امریکہ ٹوٹنے کی نوید
ٹرمپ کے فیصلے امریکہ ٹوٹنے کی نوید

  

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر پہ سات ممالک کے شہریوں پہ سفری پابندیوں کا اطلاق شروع ہو اچاہتا تھا کہ امریکی عدلیہ نے بروقت ایکشن لیا اور صدر کے فیصلہ کو رد کردیا جس پر امریکی صدر ایک نیا آرڈر کرنے جارہے اور اس بات پر برہم ہیں کہ عدلیہ نے انکے فیصلے کو رد کیوں کیا۔امریکی صدر نے جب امیگریشن پالیسی کا اعلان کیا توویزا اور مکمل سفری دستاویزات کے باوجود بھی دنیا کے ہوائی اڈوں پہ روکے گئے مسافر اپنے مستقبل سے بے خبر رہے۔ کیونکہ کسی کو معلوم نہیں تھاکہ اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ سے جانے والوں کو طیاروں میں سوار ہونے سے ہی روکا گیا اور جو روانہ ہوئے ان کو پابندِ سلاسل کرکے چھان بین کی گئی بلکہ اب بھی ہو رہی ہے اور وکلاء گرفتار شدگان کی رہائی کی درخواستیں لئے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔ابھی تک حالات یہ ہیں کہ کینیڈا اور امریکہ کی دوہری شہریت رکھنے والے بھی ائر لائن کے دفاتر کے باہر لائن میں لگے مایوسی کا شکار ہیں کہ ان کو سفری سہولت سے انکار کی موثر وجہ کوئی نہیں بتا پا رہا ہے۔گرین کارڈ رکھنے والوں سے گھنٹوں کی پوچھ گچھ بھی لا حاصل ثابت ہو رہی ہے۔پناہ گزینوں سے ناروا سلوک ،نسلی امتیاز اور مذہب پرستی کے خلاف پھیلے ہوئے احتجاج نے سارے امریکہ کو میدان جنگ میں بدل دیا ہے۔ ان حالات میں منی سوٹا کا ٹریفک بلاک اورنیویارک میں روشن شمعیں صدارتی فیصلے کے خلاف بہت سے امریکی دلوں کی آواز ہیں 150 زمین و آسماں نے کب امریکہ کو دو دھڑوں میں کبھی تقسیم ہوتا ہوا دیکھا تھا۔ اور صدارتی حلف کے دوران دو مخالف گروپوں کے احتجاجی نعرے کب کانوں نے سنے تھے کہ دو لاکھ سے زیادہ افرادمظاہرے کرتے سڑکوں پہ نکل آئیں۔ٹرمپ کی اس متعصبانہ پالیسی کے خلاف عدالتوں کے فیصلے اور اٹارنی جنرل کے استعفیٰ نے ایک دفعہ پھر ٹرمپ انتظامیہ کی حکومتی گرفت کی قلعی کھول دی ہے۔ انسانی حقوق کی علمبردارتنظیموں نے بھی ان اقدام کو امتیازی اور متعصبانہ قرار دیتے ہوئے قانونی کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ کے فیصلے کا براہ راست مسلمانوں کو نشانہ بنانااس کی اس ذہنی سوچ کی غمازی کرتا ہے جس کا اظہار اس نے انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ اس سلسلے میں دارلحکومت واشنگٹن میں مارچ فار لائف ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں لوگوں کی شرکت مسلمانوں سے یکجہتی کا بین ثبوت ہے۔ گوانتانا موبے جیل کو بھر دینے کا پروگرام ہو یا بدنامِ زمانہ عقوبت خانوں سے رہائی پر عائد دوبارہ پابندی امریکی جیل خانہ جات کے ترجمان کیپٹن فلو سٹارٹ کے مطابق اسلامی شدت پسندی کے خلاف امریکی صدر کے ذہن کا عکاس ہے۔اسلام دشمن اقدامات بلا تفریق سب مسلمانوں کے خلاف اٹھائے جا رہے ہیں اور شہریت کی پابندیوں سے آزاد ہیں صرف مذہب اسلام اس کے اندراج خانوں میں لکھا ہونا چاہیئے۔ 

امریکہ کی سرحدیں غیر امریکیوں کے لئے بند ہیں اور اس کا عملی ثبوت میکسیکو کی دیوار اٹھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ناجائز تارکینِ وطن کی آمدو رفت پہ قابو پایا جا سکے۔لیکن شاید ٹرمپ صاحب برلن کے مئیر مائیکل ملر کے الفاظ بھول گئے کہ خاردار تاروں اور دیواروں کا درد اور اذیت برلن والوں سے زیادہ کون جان سکتا ہے۔ یہ دیواریں لوگوں کے مستقبل ہی تباہ نہیں کرتیں بلکہ قوموں کی تنہائی کا باعث بھی بن جایا کرتی ہیں اور ذہنوں میں جاری سرد جنگ دماغی خلفشار پیدا کرتی ہے۔ امریکی اور غیر امریکیوں میں ایسی تمیز یقیناً فی الوقت بہت سے لوگوں کے لیے بہت سی تکالیف پیدا کرے گی لیکن اس کا مستقبل کیا ہوگا کسی کو معلوم نہیں۔ یہ بات گرچہ بہت خوش آئند ہے کہ امریکی عوام مسلمانوں کے خلاف پابندیوں پہ سڑکوں پر یکجہتی کا جو پیغام دے رہے ہیں وہ واشگاف الفاظ میں بتا رہے ہیں کہ انسان دوست قوتیں ابھی زندہ ہیں۔ ہوائی اڈوں پہ جمع وکلاء اور ان کی تنظیمیں کے قایم کیے گئے دفاتر یہ بتا رہے ہیں کہ اس عفریت میں مسلمان اکیلے نہیں ہیں۔ ان ہوائی اڈوں پہ اترنے والے مسلمانوں کو مشکل کی صورت دی گئی ہنگامی قانونی مدد باعثِ تحسین ہے۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ امریکہ کو گریٹ امریکہ بنانے میں سب کی قربانیاں شامل ہیں اور دنیا بھر کے اذہان کو ملک میں داخلے سے روکنا کل امریکہ کی زبوں حالی کا سبب بن جائے گا 150 دوسروں کا مستقبل بنانے سے خود امریکہ کا اپنا مستقبل سنورتا ہے۔ دنیا بھر کی اقوام مل کر متحدہ ریاست ہائے امریکہ بناتی ہیں اور یہ سوچ ہر امریکی کو پریشان ضرور کر رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے ایک بعد ایک ایگزیکٹو آرڈر کہیں اس اتحاد کا شیرازہ تو نہیں بکھیر رہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ