پندرہویں قسط، شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی

پندرہویں قسط، شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی
پندرہویں قسط، شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ترجمہ : راحیلہ خالد

1937 ء میں میرا داخلہ انجمن اسلام ہائی اسکول میں پانچویں جماعت میں کروا دیا گیا اور مجھے مزید گنجا بھی نہیں کروایا جاتا تھا۔ اب میں اپنے گھنے سیاہ بالوں پہ ٹوپی پہنتا تھا جس پہ اماں کے پاس آنے والی تمام خواتین میری تعریف کیا کرتی تھیں۔ وہ میرے بال بکھیرتیں اور اماں سے کچھ کہتیں اور اماں،دادی کے احکامات کے مطابق،ایک خاص عمل کے ذریعے مجھ پر سے بری نظر کے اثرات زائل کرنے کے لئے،ان کے جانے کا انتظار کرتیں۔

آج،میری عمر کے بانوے برس میں،ہر بار جب کوئی ملاقاتی میری شکل و صورت یا میری اچھی صحت بارے کچھ کہتا ہے یا جب ہم کسی سماجی تقریب میں شرکت کرتے ہیں اور درجنوں لوگ اپنی آٹو گراف بُکس میں میرے دستخط لینے کے لئے آتے ہیں اور میرے کام کی تعریف کرتے ہیں تو میری بیوی سائرہ اسی طرح میری نظر اتارتی ہے۔

 شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی، چودہویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس علاقے میں نور صاحب کا دوستوں کا اپنا ہی ایک گروہ تھا۔ ہمارے اپارٹمنٹ کے عین سامنے بوہرہ کے ایک مسلمان تاجر کی رہائش گاہ تھی۔ اس کی بیٹی نور صاحب کی محبوبہ بن گئی اور میں ان کے کمسنی کے اس معاشقے میں ان کا ساتھ دینے لگا۔ اور کافی افسوس کی بات ہے کہ دو پیار کرنے والوں کے درمیان اچانک علیحدگی کا سبب بھی میں ہی بنا۔ میں اس محبت کی کہانی کو ضرور بیان کرتا ہوں کیونکہ یہ میرے بچپن کا ایک ایسا باب ہے جسے میں نے اپنی یادداشت میں اس کے مایوس کن اختتام کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے رومانوی پن اور مزاح کی وجہ سے تروتازہ رکھا ہوا ہے۔

نور صاحب کا مجھ سے اپنے کام کروانے کا اپنا ہی ایک حاکمانہ انداز تھا۔ وہ ایک رعب دار جوان تھے اور وہ اپنا زیادہ تر وقت،ہمسائے میں رہنے والے اپنے دوستوں کے ساتھ گزارا کرتے تھے۔ جب ان کے دوست ان سے ملنے آتے تو وہ انہیں ٹیرس پر لے جاتے جہاں نہ تو اماں جاتی تھیں اور نہ ہی سکینہ آپا۔ ان کے دوست اکثر اپنے ساتھ سگریٹیں لاتے تھے اور نور صاحب ان کی طرف سے دی گئی سگریٹ لینا پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ مجھے بلاتے اور اپنے اور اپنے دوستوں کیلئے سگریٹ لینے باہر بھیج دیتے۔ وہ کیونڈر برانڈ کا سگریٹ پسند کرتے تھے۔ اور وہ مجھے کہتے کہ میں سگریٹ لینے کیلئے جتنی جلدی جا سکتا ہوں جاؤں۔ دوسرے اوقات میں،جب وہ اکیلے ہوتے تھے تو مجھے اپنے لئے کیلے لینے بھیج دیتے تھے اور تب وہ مجھے بڑے پیار سے کہتے کہ میں کیلے لانے کے لئے جتنا وقت چاہوں،لے سکتا ہوں۔ اور مجھے ان کے احکامات بِنا چوں چراں کیے مجبوراً ماننا پڑتے۔

تھوڑے عرصے بعد ہی مجھے پتہ چل گیا کہ وہ کیا کر رہے تھے۔ شام میں ایک مخصوص وقت پہ، نور صاحب ٹیرس پہ اکیلے ہوتے تو ان کی محبوبہ اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکی میں آ کھڑی ہوتی جو ہمارے ٹیرس کے سامنے کھلتی تھی۔ میں اتنا بڑا نہیں ہوا تھا کہ یہ سمجھ سکتا کہ وہاں کیا ہو رہا تھا لیکن میں اپنے ٹیرس سے ہونے والے ان نظروں کے تبادلوں کو سمجھ سکتا تھا جو حسین ہمسائی کے اپنی کھڑکی میں سلائی کے بہانے آنے پہ کیے جاتے تھے۔ وہی وہ وقت ہوتا تھا جب نور صاحب مجھے کیلے لانے کا حکم صادر فرماتے تھے تاکہ مجھے منظر سے ہٹا یا جا سکے۔ وہ اسکول کے کام والی کاپی سے پھاڑے گئے صفحے پر ایک چھوٹا سا پیغام لکھتے اور مجھ سے کہتے کہ میں واپسی پر وہ کاغذ اس لڑکی کو دے دوں۔

میں اس لڑکی سے بے انتہا خوش تھا کیونکہ ہر بار جب میں نور صاحب کا شاعرانہ پیغام لیے دوڑتے ہوئے گلی پار کرتا اس کے گھر پہنچتا تو وہ چپکے سے پودینے کے سَت اور لیموں والی ٹافیاں یا چاندی کے چمکتے کاغذ میں لپٹی چاکلیٹیں میرے ہاتھوں میں تھما دیتی اور محبت سے اپنی انگلیاں میرے بالوں میں پھیرتی لیکن کبھی بھی منہ سے ایک لفظ تک نہ کہتی۔

میرا ننھا دماغ یقینی طور پر اس بات سے آگاہ تھا کہ نور صاحب جو خوبصورت تھے اور ہلکے رنگ کی زندگی سے بھرپور آنکھوں کے مالک تھے،وہ اس لڑکی کو کوئی خفیہ یا اسی طرح کی کوئی بات پہنچایا کرتے تھے۔ چند بار میں نے شرارت کرتے ہوئے نور صاحب کو حیران کرنے کی ٹھانی۔ میں نے اپنے دوڑنے کی رفتار دوگنی کر دی اور ریکارڈ وقت میں کام مکمل کر کے،دو دو سیڑھیاں ایک ساتھ چڑھتا،پھولے ہوئے سانس کے ساتھ ہانپتا ہوا چھت پر پہنچا،صرف اس لئے تا کہ میں اس لڑکی کے ساتھ ان کی نگاہوں کے ذریعے ہونے والی عشق و عاشقی کو خراب کر پاؤں۔ ایسے مواقع پر وہ غصے سے میری طرف مڑتے اور مجھے ایسی نگاہوں سے دیکھتے جیسے کہہ رہے ہوں،

’’ اچھا! تم سمجھتے ہو،تم چالاکی سے مجھے ہرا سکتے ہو،میں تمہیں دکھاؤں گا۔‘‘

اگلا کام چنے والے سے چنے لانا ہوتا تھا جس کی ریڑھی کچھ فاصلے پر تھی۔ میں بھی ہار ماننے والا نہیں تھا،میں اپنی تمام تر طاقت تیز بھاگنے میں لگا دیتا اور کم سے کم وقت میں چنے لے آتا۔

میں دیکھتا کہ اس طرح کے ہر موقع پر وہ لڑکی نور صاحب کو دیکھ کر دبی دبی ہنسی ہنستی اور انہیں شرارتی نگاہوں سے دیکھتی تھی۔ نظروں،شکلوں اور خطوط،جو میں لے کر جاتا تھا،کے ذریعے چلائی جانے والی یہ خاموش محبت کی کہانی بہت جلد اختتام کو پہنچ گئی۔

ایک دوپہر جب میں ٹیرس پہ خاموشی سے اس لڑکی کی طرف سے دی جانے والی ٹافی سے لطف اندوز ہو رہا تھا تو اماں مجھے ڈھونڈتے ہوئے وہاں آ گئیں اور انہوں نے مجھے ٹافی کھاتے دیکھ لیا۔ وہ ہر حال میں یہ جاننا چاہتی تھیں کہ آخر میرے پاس وہ ٹافی کہاں سے آئی تھی۔ میں نے انہیں سب سچ سچ بتا دیا۔ (جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : میں ہوں دلیپ کمار