’میں ٹرین پر بیٹھ کر دفتر جارہی تھی کہ اچانک ایک جھٹکا لگا، ہوش میں آئی تو ہر چیز بھول چکی تھی لیکن پھر یہ لڑکا سامنے آیا تو۔۔۔‘ نوجوان لڑکی کی زندگی کی ایسی کہانی جو کسی فلم میں بھی دیکھنے کو نہ ملے

’میں ٹرین پر بیٹھ کر دفتر جارہی تھی کہ اچانک ایک جھٹکا لگا، ہوش میں آئی تو ہر ...
’میں ٹرین پر بیٹھ کر دفتر جارہی تھی کہ اچانک ایک جھٹکا لگا، ہوش میں آئی تو ہر چیز بھول چکی تھی لیکن پھر یہ لڑکا سامنے آیا تو۔۔۔‘ نوجوان لڑکی کی زندگی کی ایسی کہانی جو کسی فلم میں بھی دیکھنے کو نہ ملے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) پرانی فلموں میں ایسے سین دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں ہیرو یا ہیروئن کی یادداشت چلی جاتی ہے اور وہ اپنے گھروالوں کو بھی پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے، حقیقت میں وقتی نسیان تو ہو سکتا ہے لیکن سرے سے اپنا نام تک بھول جانا بہت کمیاب عمل ہے۔ تاہم چند ہفتے قبل برطانیہ میں یہ فلمی سین حقیقت میں دیکھنے کو مل گیا جہاں مرگی کی مریض ایک لڑکی دورہ پڑنے پر اپنے ماضی کو مکمل طور پر بھول گئی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 19سالہ جیسیکا شرمین کو 2010ءمیں پہلی بار مرگی کا دورہ پڑا تھا۔ تب سے جب بھی اسے دورہ پڑتا وہ کچھ وقت کے لیے سب کچھ بھول جاتی۔ آہستہ آہستہ اس کا یہ نسیان کا مرض اتنا شدید ہو گیا کہ گزشتہ دنوں جب اسے مرگی کا دورہ پڑا تووہ ایک بار پھر سب کچھ بھول گئی لیکن اس بار طویل عرصے کے لیے۔

’مجھے میرے خاندان والوں نے ہی جنسی غلام بنا کر رکھا، پہلے انتہائی شرمناک فلمیں بنانے پر مجبور کیا لیکن اسی پر بس نہیں کیا بلکہ پھر۔۔۔‘

جیسیکا اس روز دفتر جا رہی تھی کہ ٹرین میں اسے دورہ پڑا۔ لوگوں نے ایمرجنسی سروس کو اطلاع دی جنہوں نے اس کے پاس موجود شناختی کاغذات سے معلوم کرکے اس کے گھر والوں کو اطلاع دی جس پر اس کی ماں لیزا شرمین ہسپتال پہنچی لیکن جیسیکا نے ماں کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ طبی امداد مکمل ہوئی تو اس نے ماں کے ساتھ گھرجانے سے بھی انکار کر دیا۔ ماں نے اسے یقین دلانے کے لیے اپنے فون میں تصاویر دیکھنے کو کہا۔ جیسیکا نے اپنے موبائل میں تصاویر دیکھیں لیکن مطمئن نہ ہوئی۔ اس نے تصاویر میں موجود اس تیسرے شخص کو بلانے کو کہا۔ وہ شخص جیسیکا کا بوائے فرینڈ 25سالہ رچرڈ بشپ تھا۔ جب رچرڈ وہاں پہنچا تو جیسیکا نے اسے بھی پہنچاننے سے انکار کر دیاتاہم گھر جانے پر رضامند ہو گئی۔ دو ہفتے بعد اس کے لیے گئے ٹیسٹوں کے نتائج آئے تو گھروالوں کو یہ دیکھ کر صدمہ ہوا کہ اس کی یادداشت واپس آنے میں بہت وقت لگے گا، کم از کم 6مہینے، تب بھی اس کی یادداشت مکمل واپس نہیں آئے گی اور اس پر مستزاد یہ کہ مستقبل میں بھی اس کی یادداشت کھونے کے امکانات 50فیصد سے زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جب گھر والے جیسیکا کو تصاویر دکھا دکھا کر اور یاد دلادلا کر تھک گئے تو انہوں نے اسے رچرڈ کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا لیکن وہ بھی اس کے لیے اجنبی ہی تھا۔ تین ہفتے کی جدوجہد کے بعد جیسیکا کی یادداشت تو واپس نہ آئی لیکن اسے رچرڈ سے دوبارہ محبت ہو گئی۔ اب وہ یہی سمجھتی ہے کہ رچرڈ اسے ابھی ملا ہے اور گھروالوں کو بھی اپنے ماں باپ اور بہن بھائی سمجھنا شروع کر دیا ہے تاہم یہ سارے رشتے اس کے لیے نئے ہیں کیونکہ اس کی 19سالہ زندگی کی تمام یادیں اس کے ذہن سے محو ہو چکی ہیں جو تاحال واپس نہیں آئیں۔اس کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ’اس کی یادداشت واپس آنے کے امکانات محدود ہیں اور اگر آئی بھی تو کم از کم 6ماہ لگیں گے اور پھر بھی مکمل طور پر واپس نہیں آئے گی، اور اگر اسے دوبارہ مرگی کا دورہ پڑا تو پھر اس کی یادداشت دوبارہ کھونے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس