وہ مسلمان جس نے بھارت کے اندر ہی اسلامی ریاست قائم کردی، ایسی خبر آگئی کہ بھارتیوں کے پیروں تلے زمین نکل گئی

وہ مسلمان جس نے بھارت کے اندر ہی اسلامی ریاست قائم کردی، ایسی خبر آگئی کہ ...
وہ مسلمان جس نے بھارت کے اندر ہی اسلامی ریاست قائم کردی، ایسی خبر آگئی کہ بھارتیوں کے پیروں تلے زمین نکل گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ایک مسلمان شخص کی ملک کے اندر ہی اسلامی ریاست قائم کرنے کی ایسی خبر سامنے آ گئی ہے جسے سن کر بھارتیوں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہے۔ویب سائٹ swarajyamag.com کی رپورٹ کے مطابق اس 44سالہ شخص کا نام ’مولانا نصر شیخ‘ ہے جو ریاست مغربی بنگال کا رہنے والا ہے۔ مولانا نصر ریاستی دارالحکومت کلکتہ سے 400کلومیٹر دور بنگلہ دیش کے بارڈر کے قریب واقع ایک گاﺅں کیبلہ میں امام مسجد ہے اور ایک مدرسہ بھی چلاتا ہے۔مولانا نصر بنگالی اور بہاری زبانوں کو بالکل گڈ مڈ کرکے بولتا ہے لیکن عربی زبان پوری روانی کے ساتھ بول سکتا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک میں خواجہ سراﺅں کے لئے ایسی شاندار چیز بنادی جو دنیا میں اور کہیں نہیں، جان کر ہر مسلمان تعریف کرنے پر مجبور ہوجائے

رپورٹ کے مطابق مولانا نصر شیخ اس قدر ”پختہ عقیدہ“ رکھتا ہے کہ زندگی میں اس نے نہ کبھی اپنی تصویر بنوائی اور نہ اپنے خاندان، شاگردوں اور پیروکاروں میں سے کسی کو بنوانے دی۔ اس کے مدرسے میں صرف ایک تصویر دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے اور وہ حجر اسود کی ہے۔اس کے مدرسے میں 72طالب علم قرآن مجید حفظ کرتے ہیں۔ اس کے حلقہ¿ اثر میں اسلامی شعار کی سخت پابندی کی جاتی ہے۔ مرد لمبے کرتے اور ٹخنوں سے اونچے پاجامے پہنتے ہیں۔ خواتین مکمل پردہ کرتی ہیں اور کبھی اکیلی باہر نہیں نکلتیں۔ بھارت میں کیبلہ اور اس کے شرعی ماحول کو ریاست کے اندر اسلامی ریاست کے قیام سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اسے شام میں ابوبکر البغدادی کی اسلامی ریاست سے بھی تشبیہہ دی جا رہی ہے۔

مزید : بین الاقوامی