سپاٹ فکسنگ میں جتنے کھلاڑی ذمہ دار اس سے زیادہ انتظامیہ ہے،معین خان اور راشد لطیف کا کردار مشکوک ہے:سابق قومی کرکٹر ذوالقرنین حیدر

سپاٹ فکسنگ میں جتنے کھلاڑی ذمہ دار اس سے زیادہ انتظامیہ ہے،معین خان اور راشد ...
سپاٹ فکسنگ میں جتنے کھلاڑی ذمہ دار اس سے زیادہ انتظامیہ ہے،معین خان اور راشد لطیف کا کردار مشکوک ہے:سابق قومی کرکٹر ذوالقرنین حیدر

  

دبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق قومی کرکٹر ذوالقرنین حیدر نے کہا ہے کہ سپاٹ فکسنگ میں جتنے کھلاڑی ذمہ دار ہیں اس سے زیادہ انتظامیہ ہے،معین خان اور راشد لطیف کا کردار مشکوک ہے۔

سابق قومی کرکٹر ذوالقرنین حیدر نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب کچھ کرکٹرز پر ہی ڈال دیا جاتا ہے حالانکہ اس کی ذمہ دار ٹیم انتظامیہ بھی ہوسکتی ہے،جسٹس قیوم رپورٹ میں شامل ناموں کو ٹیم پر کوچ لگایا گیا ہے،معین خان جیسے ٹیم کے کوچ ہونگے تو ایسی خبریں تو سننے کو ملیں گی،جنتے قصور وار کھلاڑی ہیں اتنی ہی انتظامیہ ہے۔

6 سال پہلے پاکستانی ٹیم کو سیریز کے درمیان میں چھوڑ کر برطانیہ میں پناہ لینے والے وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر اب کس حال میں ہے اور کیا کر رہے ہیں؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی

آج کل کرکٹرز ملک کی عزت پر پیسے کو ترجیح دیتے ہیں،یہ تمام لوگوں کے بکیز کے ساتھ رابطے ہیں،معین خان نیوزی لینڈ میں پکڑے جاتے ہیں پہلے فارغ کیا جاتا ہے اور پھر چند دن بعد واپس لے لیا جاتا ہے اسی طرح راشد لطیف متعصب کردار ادا کرتے ہیں ان کا کراچی کے بکیز سے رابطہ ہے اور پنجابیوں پر الزامات لگانے میں دیر نہیں لگاتے ہیں،میں اپنے حوالے سے تمام باتیں کلیئر کرچکا ہوں۔

واضح رہے ذوالقرنین حیدر اس وقت بینکنگ کے شعبہ میں نوکری کیساتھ ساتھ امریکہ میں پرائیویٹ ٹینس بال T20 ٹورنامنٹس کھیل رہے ہیں، 6 سال قبل ذوالقرنین حیدر متحدہ عرب امارات میں جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کیلئے کھیل رہے تھے اور پانچویں ون ڈے میچ کی صبح ذوالقرنین حیدر اچانک غائب ہو گئے۔ انہوں نے قومی ٹیم کا ہوٹل چھوڑا اور برطانیہ جا کر سیاسی پناہ کی درخواست دیدی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔

مزید : T20