واسا کے بد دیانت اور کرپٹ افسران کے خلاف شکنجا کسنے کے لئے اہم اور حساس دستاویزات تک رسائی پر پابندی عائد کر دی گئی

واسا کے بد دیانت اور کرپٹ افسران کے خلاف شکنجا کسنے کے لئے اہم اور حساس ...
واسا کے بد دیانت اور کرپٹ افسران کے خلاف شکنجا کسنے کے لئے اہم اور حساس دستاویزات تک رسائی پر پابندی عائد کر دی گئی

  

لاہور(خالد شہزاد فاروقی)ایم ڈی واسا چوہدری نصیر احمد نے نکمے، کام چور اور کرپٹ واسا افسران کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے نوجوان افسروں میں پائی جانے والی بے چینی اور شکایات کا نوٹس لے لیا ، واسا کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کی مختلف سیکشن میں موجود اہم حساس دستاویزات اور فائلوں تک رسائی سمیت غیر مجاز اشخاص کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ، واسا کے بعض افسران کی جانب سے فائلوں اور ریکارڈ میں رد وبدل اور حساس دستاویزات کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کی شکایات کے بعد اہم اقدام اٹھایا گیا ،نوٹیفکشن جاری ۔

تفصیلات کے مطابق ایم ڈی واسا چوہدری نصیر احمدکو کچھ عرصہ سے مختلف تحریری شکایات موصول ہو رہیں تھیں کہ ادارے کے بعض سینئر افسران واسا کے مختلف سیکشنز میں موجود حساس دستاویزات ،اہم ریکارڈز اور پرانی فائلوں کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں ،جس سے نہ صرف ادارے کی بدنامی ہو رہی ہے بلکہ واسا کے نوجوان اور پڑھے لکھے افسران میں بھی بد دلی پھیل چکی ہے ۔ذرائع کے مطابق نکمے واسا افسران نے اپنی نا اہلی چھپانے کے لئے بعض ریٹائرڈ ملازمین کو ’’معقول معاوضے ‘‘پر اپنا کار خاص رکھا ہوا تھا جو اپنی سابقہ’’ افسری ‘‘کے رعب اور ’’خاص تعلقات ‘‘ کی بنیاد پر واسا کی اہم حساس دستاویزات اور سرکاری فائلوں کو با آسانی حاصل کر لیتے تھے ،اور پھر انہیں حساس دستاویزات اور فائلوں کو اپنے ذاتی اور مالی مفادات سمیت دیگر امور کے لئے استعمال کر کے واسا کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے تھے ۔نوجوان اور پڑھے لکھے افسران میں واسا کی ان ’’کالی بھیڑوں ‘‘ کے رویے اور غیر قانونی اقدامات سے کافی بد دلی پھیلی ہوئی تھی اور واسا کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی تھی ،جس پر تحریری درخواستیں موصول ہونے پر ایم ڈی چوہدری نصیر احمد نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واسا کے مختلف سیکشنز میں حاضر سروس ،ریٹائرڈ ملازمین اور غیر مجاز اشخاص کے غیر ضروری داخلے ، حساس دستاویزات ،اہم فائلوں اور سرکاری ریکارڈ تک رسائی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے ، اس سلسلہ میں باقاعدہ نوٹیفکشن بھی جاری کر دیا گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق واسا میں پائے جانے والی بے قاعدگیوں ،فائلوں میں ذاتی مفاد کے لئے کی جانے والی ردو بدل اور گھپلوں کے انکشاف کے بعد ایم ڈی واسا چوہدری نصیر احمدنے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن محمود احمد بھٹی کو احکامات جاری کئے جنہوں نے فوری طور پر اس حوالے سے 3صفحات پر مشتمل نوٹیفکشن جاری کر دیا ہے ۔اس حوالے سے جب محمود احمد بھٹی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈی چوہدری نصیر احمد نے واسا میں پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینے والے نوجوان افسروں کی حوصلہ افزائی ،کرپٹ اورکام چور اہلکاروں کے خلاف پیدا ہونے والی شکایات کے پیش نظر اہم حساس دستاویزات اور فائلوں تک رسائی ، مختلف سیکشنز میں غیر مجاز اشخاص کے داخلے کو بند کرنے اور واسا کی کار کردگی بہتر بنانے کے لئے یہ اقدام اٹھایا ہے ۔

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ’’پرانے اور کھلاڑی ‘‘ افسران اپنی انکوائریوں کے خوف ، ذاتی اور مالی مفادات کے لئے نہ صرف اہم اور حساس دستاویزات تک باآسانی رسائی حاصل کرتے ہوئے ریکارڈ میں مبینہ طور پر ردو بدل کر تے تھے بلکہ اکثر و بیشتر واسا کے ’’مشکوک کردار ‘‘ کے افسران خود یا ان کے ’’کار خاص ‘‘عوام سے بھی پیسے بٹور کر واسا کی بدنامی اور بری کارکردگی کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن واسا محمود احمد بھٹی سے جب اس حوالے سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم ادارے میں کرپشن کے تمام دروازے بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،جہاں ہمیں کوئی خامی محسوس ہوئی ہم اسے بھی ختم کریں گے اور واسا میں موجود کالی بھیڑوں کو کسی صورت بھی عوام کے استحصال کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے نوٹی فیکشن جاری کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب واسا کاکوئی بھی افسریا اس کا کار خاص کسی بھی فائل اور حساس دستاویزات تک رسائی سے پہلے تحریری طور پر جواز پیش کرے گا ،معقول جواز اور منظوری کے بعد ہی کوئی افسر اور اہلکارمذکورہ فائل تک رسائی حاصل کر سکے گا ،واسا میں اب کسی بھی ریٹائرڈ یا حاضر سروس افسر یا اہلکار کو کرپشن یا بد عنوانی کی چھوٹ نہیں دی جائے گی جبکہ ماضی میں بھی جو لوگ کرپشن یا بد دیانتی کے مرتکب ہوئے ہیں انہیں ہر صورت احتساب کے عمل سے گذرنا پڑے گا ۔

مزید : لاہور