ایک یہ بھی اندازِ حکمرانی تھا

ایک یہ بھی اندازِ حکمرانی تھا
ایک یہ بھی اندازِ حکمرانی تھا

  

1958 ء سے 1969ء تک پاکستان میں صدر جنرل محمد ایوب خان کی حکومت رہی ۔ اس وقت پاکستان کے دو صوبے تھے ایک مشرقی پاکستان تھا جو 1971ء میں بنگلہ دیش کے نام سے ایک خود مختار ملک بن گیا تھا اور دوسرا صوبہ مغربی پاکستان تھا جو پاکستان کے موجودہ چاروں صوبوں پر مشتمل تھا۔ 1960ء سے 1966ء تک مغربی پاکستان میں نواب امیر محمد خاں آف کالا باغ گورنر تھے ۔ ان کے دور میں کر اچی سے خیبر تک بڑاپُر امن ماحول تھا ۔ نواب صاحب اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں ،اور وطن سے محبت کے جذبہ سے سرشار تھے۔ ان کا چھ سالہ دور حکومت ملکی تاریخ کا سنہرا باب سمجھا جاتا ہے ، نواب امیر محمد خاں خاندانی نواب تھے اس لئے کسی بھی سطح پر ان کا کوئی مالی سکینڈل کبھی سامنے نہیں آیا ۔ اپنے چھ سالہ دورمیں انہوں نے سرکاری خزانہ سے کوئی معاوضہ وصول نہیں کیا اور گورنر ہاؤس میں قیام کے دوران ان کے تمام اخراجات ان کے ذاتی جیب خرچ سے کئے جاتے تھے ۔حتیٰ کہ تمام کھانے پینے کی اشیاء ،سبزیاں ،گوشت ، دودھ ان کی ریاست کا لاباغ سے آتے تھے ۔ 23 مارچ 1940ء میں منٹو پارک لاہور میں یوم قرارداد پاکستان کے موقع پر قائداعظم ؒ کی قیادت میں پنجاب کے امراء کو جمع کیا اور انہیں تمام صورت حال سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ باور کرایا گیا کہ کوئی بھی تنظیم یا تحریک سرمائے کے بغیر نہیں چلائی جا سکتی۔ تمام صاحب حیثیت لوگ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق چندہ دیں تاکہ ہم اپنے مقصد کو منزل تک پہنچا سکیں ۔ شرکا ء میں نواب امیر محمد خاں بھی موجود تھے جو پچھلی نشستوں پر بیٹھ کر قائد کی تقریر غور سے سنتے رہے۔ تمام بڑے بڑے نوابین ،جاگیر داروں اور صنعتکار وں نے چندہ جمع کرادیا تو نواب آف کالا با غ نے بلند آواز میں کہا کہ کل جتنا چندہ جمع ہوا ہے اس کے برابر میری طرف سے قوم کے لئے نذرانہ قبول کریں ۔ قائداعظم ؒ نے حیرانگی سے پوچھا یہ نوجوان کون ہے؟ ساتھیوں نے تعارف کرایا تو قائد نے نواب امیر محمد خاں کو بلاکر اپنے پاس بٹھا یا اور سب کے سامنے ان کا شکریہ ادا کیا ۔اس وقت نواب صاحب کی عمر تیس سال تھی۔ ان کی انہی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خاں نے وزارتِ عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد نواب صاحب کی دعوت پر کالا باغ کا دورہ کیا۔

ملک امیر محمد خاں اپنے والد ملک عطا محمد خاں کے اکلوتے بیٹے تھے ، اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی اس لئے اسٹیٹ کا انتظام انگریزی قانون کے مطابق ڈپٹی کمشنر کو سونپ دیا گیا ۔ اس دوران ملک امیر محمد خاں نے 1928ء میں ایچی سن کالج لاہور سے تعلیم مکمل کی اور مزید تعلیم کے لئے انگلستا ن چلے گئے۔ 1932ء میں ان کی ایک سو دس مربع میل پر پھیلی ہوئی کالا باغ اسٹیٹ انہیں واپس دیدی کئی اس وقت ان کی عمر بائیس ساتھی ۔ 1935ء میں انہیں سول جوبلی میڈل کا مستحق قرار دیا گیا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ نواب صاحب کے دور کا اہم ترین واقع تھا ۔ انہوں نے قوم اور فوج کا حوصلہ بلند کرنے کے لئے ریڈیو پر عوام سے خطاب کیا ۔ تاجروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اشیائے خو ردو نوش کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور کسی صورت ان کے نرخ بڑھنے نہیں چاہئیں۔ ریلوے اسٹیشن پر جا کر خود فوجی سامان کی ترسیل کا جائز ہ لیتے رہے ۔ ملٹری سیکرٹری کرنل محمد شریف سے کہا کل صبح شہر کے تمام بڑے بڑے تاجروں کو بلاکر لے آؤ ان سے ضروری میٹنگ کرنی ہے ۔ ایک بڑے ہال میں تمام تاجروں کو جمع ہونے کا کہا گیا ۔ ہال میں کوئی کرسی نہیں تھی ۔تمام دکاندار کھڑے رہے ۔ نواب صاحب کی کرسی درمیان میں لگادی گئی ۔تاجروں سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ لمبی چوڑی گفتگو کی گنجائش نہیں ہے ۔آپ سب لوگ جانتے ہیں ملک حالتِ جنگ میں ہے ۔ قوم کے لئے قربانی کا وقت آگیا ہے ۔ مجھے اگر کہیں سے یہ شکایت ملی کہ کسی دکاندار نے سامان ذخیرہ کیا ہوا ہے یا عام نر خوں سے زیادہ پیے وصول کر رہا ہے تو اس کا میرے پاس ایک ہی حل ہے ۔ دکان ہمیشہ کے لئے سیل کر دی جائیگی اور اس میں موجود سامان عوام میں مفت تقسیم کر دیا جائے گا ۔ دوسرے دن تمام ڈپٹی کمشنر ز اور ایس پی صاحبان کو بلایا گیا اور انہیں کہا کہ حالات پر نظر رکھیں ۔ جس افسر کے علاقے میں لوٹ مار کی کوئی شکایت ملی وہ صرف نوکری سے ہی نہیں بلکہ قومی جرم کی پاداش میں اسے سزا بھی ہوگی ۔ جنگ صرف فوج نے نہیں ، ہم سب نے مل کر لڑنی ہے ۔ سیکرٹری سطح کے عہدوں پر تعینات بڑے آفیسرز کو بلاکر ہدایت کی کہ جنگ کے دوران اگر مجھے کسی کی کوئی شکایت ملی کہ وہ ان حالا ت میں بھی شراب و کباب کی محفلیں سجائے بیٹھا ہے تو میں اس کو تمام دوسرے آفیسرز کے لئے نشانِ عبر ت بنادوں گا ۔ نواب صاحب کی قدآور شخصیت نوکیلی مونچھیں اور اس پر طرہ دار پگڑی سے ا ن کے فطری رعب او ر سنجیدگی کا اظہار ہوتا تھا ۔جس کے پیچھے ایک انتہائی نر م دل اور نرم گفتار شخصیت پوشیدہ تھی ۔

1965ء کی جنگ کے دوران جنرل شیر علی واہگہ بارڈر کی نگرانی پر مامور تھے ۔ جنرل شیر علی نے ایک آدمی کو پرائیویٹ کپڑوں میں دیکھا کہ وہ مورچوں میں تعینات فوجی جوانوں کے ساتھ مصافحہ کر رہا ہے ،انہوں نے ہیلی کاپٹر کے پائیلٹ سے کہا کسی مناسب جگہ پر ہیلی کاپٹر اتار دو۔ ان حالا ت میں جب ہر طرف سے گولیاں برس رہی ہیں ، فضا سے جہاز آگ اُگل رہے ہیں ، میں بھی جا کر دیکھوں کہ یہ قوم کا ہمدرد کون ہے؟ جنرل شیرعلی نیچے اترے تو نواب امیر محمد خاں فوجیوں میں بسکٹ تقسیم کر رہے تھے ۔جنرل شیر علی نے نواب صاحب سے کہا جناب آپ جیسے لیڈروں کی قوم کو ضرورت ہے ۔ جو لوگ اس طرح کے کٹھن حالات میں اپنی فوج کے ساتھ اظہا ر یک جہتی کے لئے دشمن کی گولی کے سامنے کھڑے ہو سکیں وہ اپنے ملک کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ نواب صاحب نے جواب دیا جنگیں ہمیشہ قومیں لڑا کرتی ہیں اور میں اس قوم کا ایک فرد ہوں۔نواب صاحب نے جنرل شیر علی کو بتایا کہ میں نے اپنے جوانوں کے لئے سوجی ،السی اور دیسی گھی کی آمیزش سے خاص بسکٹ تیار کرائے ہیں ، ان میں توانائی بہت ہوتی ہے۔ یہ جوانوں کو تازہ دم رکھیں گے ۔

جنگ کے دوران صدر جنرل محمد ایوب خاں نے نواب صاحب کوپیش کش کی کہ وہ گورنر ہاؤس کے بجائے ملٹری ہاؤس میں قیام کریں ۔ وہاں سے انتظامات چلاتے رہیں ۔ لاہور میں مزید رہنا خطرے سے خالی نہ ہوگا ۔ نواب صاحب نے اس پیش کش کو ٹھکرادیا اور کہا ہم اپنے جوانوں کو محاذ پر بھیج کر خود چھپ کر بیٹھ جائیں کم ازکم میرے لئے تویہممکن نہیں ہوگا۔ نواب صاحب اپنی سرکاری گاڑی میں سوار ہو کر معمولی کی گشت پر نکلے تو کوہالہ پل کے نزدیک ان کی گاڑی ایک فوجی جیپ سے ٹکرا گئی ۔ملٹری سیکرٹری کرنل محمد شریف نے گاڑی سے اتر کر فوجی جوانوں کی سرزنش کی تو نواب صاحب نے یہ کہہ کر منع کر دیا ۔ ان کو جانے دو یہ ہم سے زیادہ اہم کام کے لئے جارہے ہیں ۔حادثہ کی وجہ سے نواب صاحب بھی زخمی ہوئے مگر کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے ۔گورنر ہاؤس کی ڈسپنسری سے علاج کرا کے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے نواب صاحب نے کہا کہ میرے ہسپتال جانے کی دیر ہے۔خبر عام ہوجائیگی لوگ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے ۔افواہوں کا بازار گرم ہو جائے گا جس کے باعث عوام میں مایوسی پھیلنے کا خطرہ ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -