فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر357

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر357
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر357

  

پنّا کا شمار پاکستان کی چند ہنرمند رقاصاؤں میں ہوتا تھا۔ وہ بھی کلاسیکی رقص کرتی تھیں۔ بعد میں انہوں نے زرّیں نام اختیار کرلیا تھا اور معروف ہدایتکار ایس سلیمان سے شادی کے بعد زرّیں سلیمان کے نام سے جانی گئیں لیکن ابتدائی دنوں میں وہ پنّا کے نام سے ہی فلموں میں کام کرتی رہیں۔ انہیں بھی عموماً ڈانسر کے طور پر فلموں میں کاسٹ کیاجاتا تھا۔ وہ اور ایمی اس زمانے میں کلاسیکی رقص جاننے والی دو فلمی ڈانسرز تھیں۔ شاہِ ایران کے دورِ حکومت میں پاکستان سے ایک فلمی وفد تہران میں منعقد ہونیوالے فلمی میلے میں شرکت کی غرض سے تہران بھیجا گیا تو ایمی اور پنّا دونوں اس میں شامل تھیں۔ ان دونوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اعلیٰ ترین تقاریب میں شہنشاہ اور سربراہانِ مملکت کے سامنے رقص کیا اور داد حاصل کی۔ پاکستان سے بیرونِ ملک بھیجے جانیوالے ثقافتی وفود میں بھی رقاصاؤں کی حیثیت سے ان دونوں کو نمائندگی کا موقع ملتا رہا۔ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات میں ان کا بڑا کردار رہا ہے۔یہ دونوں کراچی ہی کی دین ہیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر356 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پاکستان کا سب سے بڑا‘ اہم اور بااثر فلمی جریدہ ’’نگار‘‘ بھی کراچی ہی سے شائع ہوتا ہے۔ ’’نگار‘‘ ویکلی کو پاکستان کی فلمی صنعت میں ایک اہم تعمیری مقام حاصل ہے اور یہ اس کے مالک اور مدیر الیاس رشیدی صاحب کی بدولت ہے۔ ایک وقت تھا جب ’’نگار‘‘ ویکلی پاکستان کی فلمی صنعت میں سب سے بلند‘ مضبوط اور موثر آواز تصور کیا جاتا تھا۔ اس کے تعاون کے بغیر بڑے بڑے فلم ساز اور اداکار خود کو نامکمّل اور بے بس خیال کرتے تھے۔ نگارکی آواز کو مسترد یا نظرانداز کرنے کی کسی میں جرأت نہ تھی۔ نگار کی معرفت بہت سے معروف اور کامیاب فنکار اور ہنرمند بھی فلمی صنعت کو میّسرآئے جنہوں نے پاکستان کی فلمی دنیا میں قابل تعریف کارنامے سرانجام دیئے۔ نگار کا سب سے بڑا کارنامہ ’’نگار فلم ایوارڈز‘‘ کا اجراء ہے۔ پہلے نگار ایوارڈز کی تقریب 1957ء میں لاہور میں منعقد ہوئی تھی۔ فلمی صنعت پہ کئی بار بُرا وقت آیا، ملکی سیاست میں ردوّبدل ہوا مگر نگار ایوارڈز حکومت کی امداد کے بغیرہی جاری رہے۔ کسی غیرسرکاری ادارے یا سرمایہ کار سے بھی اس کے لیے مالی امداد حاصل نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی نگار ایوارڈز کو ایک باوقار مقام حاصل ہے۔ لیکن آج کل یہ بند ہے۔

دراصل یہ کام حکومت یا کسی سرکاری تنظیم کا تھا جو ایڈیٹر نگار نے رضاکارانہ طور پر اپنے ذمّے لے لیا۔ حکومت نے فلمی صنعت کی بے شمار اپیلوں اور بے پناہ مطالبوں کے بعد صدارتی فلم ایوارڈز اور پھر نیشنل فلم ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا تھا مگر یہ بھی باقاعدگی سے جاری نہ رہ سکا۔ صدارتی فلم ایوارڈ تو صرف ایک ہی بار منعقد ہوا تھا۔ نیشنل فلم ایوارڈ بھی تین بار سے زائد تقسیم نہ کیا جا سکا۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو کام حکومت اپنے تمام تر وسائل کے باوجود انجام نہیں دے سکی وہ نگار ویکلی کے ایڈیٹرالیاس رشیدی نے سالہا سال سرانجام دیا۔

فلمی صحافت میں بھی کراچی کا حصہ قابل ذکر ہے۔ لاہور پاکستان کی فلمی صنعت کا مرکز رہا ہے مگر یہاں سے کوئی بہت معیاری اور قابل ذکر اردو یا انگریزی فلمی میگزین نہیں نکالا جاسکا۔ وقتاً فوقتاً اردو اور انگریزی کے چند ہفت روزہ اور ماہانہ میگزین نکلتے رہے مگر ’نگار‘ جیسی باقاعدگی اور کارکردگی کسی کے حصّے میں نہ آسکی۔ کراچی ہی سے اردو کا ایک اور ہفت روزہ ’’کردار‘‘ بھی شائع ہوا کرتا تھا جس کے مالک و مدیر خواجہ بقا اللہ تھے۔ اب مرحوم ہوچکے ہیں۔ ایسٹرن اسٹوڈیوز کے تعاون سے ایک انگریزی ماہنامہ ’’ایسٹرن فلم‘‘ بھی کافی عرصے تک شائع ہوتا رہا۔ کسی زمانے میں یہ ایک قابل ذکر فلمی پرچہ تھا مگر پاکستانی روایات کے مطابق بالآخر بند ہوگیا۔ اس کے باوجود کراچی سے فلم‘ ٹی وی اور فیشن کے حوالے سے کئی میگزین نکالے گئے جن میں سے کچھ آج بھی باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔ اس شعبے میں بھی کراچی کی کارکردگی قابلِ ذکر اور لاہور کے مقابلے میں بہتر ہے۔ ان تمام قابلِ ذکر خوبیوں کے باوجود کراچی میں فلمی صنعت مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ کراچی میں چند سال تو فلمی گہما گہمی رہی اور لاہور کے فلم سازوں نے بھی کراچی کا رخ کرلیا تھا مگر مقامی طور پر کوئی مضبوط بنیاد مہیّا نہ ہونے کے باعث کراچی میں مقامی صنعت قائم ہوسکی۔ آج بھی یہی عالم ہے کہ کراچی میں کامیابی اور شہرت حاصل کرنے والا ہر شخص لاہور کا رخ کرتا ہے اور پھر یہیں کا ہوکر رہ جاتا ہے۔ ایسٹرن فلم اسٹوڈیوز کے مالک اور منتظم سعید ہارون اس بارے میں بہت شاکی رہا کرتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ کراچی بھی فلم صنعت کا مرکز بن جائے اور کراچی کے فنکار اور ہنرمند لاہور کا رخ کرنے کے بجائے کراچی ہی میں مصروف ہیں بلکہ لاہور کے فنکار بھی کراچی آنے پر مجبور ہو جائیں۔ کراچی سے آغاز کرنے اور پھر لاہور چلے جانے والوں کو وہ ’’نمک حرام‘‘ کہا کرتے تھے اور اس سلسلے میں کافی دلیلیں بھی دیا کرتے تھے لیکن سچ تو یہ ہے کہ شدید خواہش کے باوجود خود سعید ہارون بھی کراچی میں ایک مستحکم فلمی صنعت قائم کرنے کے سلسلے میں عملی اقدامات نہ کرسکے۔ محض خواہش سے کیا ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ کوشش بھی نہ کی جائے۔

لاہور پاکستان کی فلمی صنعت کا مرکز رہا ہے مگر یہاں سے کوئی بہت معیاری اور قابل ذکر اردو یا انگریزی فلمی میگزین نہیں نکالا جاسکا۔ وقتاً فوقتاً اردو اور انگریزی کے چند ہفت روزہ اور ماہانہ میگزین نکلتے رہے مگر نگار جیسی باقاعدگی اور کارکردگی کسی کے حصّے میں نہ آسکی۔ کراچی ہی سے اردو کا ایک اور ہفت روزہ ’’کردار‘‘ بھی شائع ہوا کرتا تھا جس کے مالک و مدیر خواجہ بقا اللہ تھے۔ اب مرحوم ہوچکے ہیں۔ ایسٹرن اسٹوڈیوز کے تعاون سے ایک انگریزی ماہنامہ ’’ایسٹرن فلم‘‘ بھی کافی عرصے تک شائع ہوتا رہا۔ کسی زمانے میں یہ ایک قابل ذکر فلمی پرچہ تھا مگر پاکستانی روایات کے مطابق بالآخر بند ہوگیا۔ اس کے باوجود کراچی سے فلم‘ ٹی وی اور فیشن کے حوالے سے کئی میگزین نکالے گئے جن میں سے کچھ آج بھی باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔ اس شعبے میں بھی کراچی کی کارکردگی قابل ذکر اور لاہور کے مقابلے میں بہتر ہے۔ ان تمام قابل ذکر خوبیوں کے باوجود کراچی میں فلمی صنعت مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔

کراچی میں چند سال تو فلمی گہما گہمی رہی اور لاہور کے فلم سازوں نے بھی کراچی کا رُخ کرلیا تھا مگر مقامی طور پر کوئی مضبوط بنیاد مہیّا نہ ہونے کے باعث کراچی میں صحیح معنوں میں نہ تو کوئی بہت اچھا فلم اسٹوڈیو بن سکا اور نہ ہی مقامی صنعت قائم ہوسکی۔

ایسٹرن فلم اسٹوڈیوز کے مالک اور منتظم سعید ہارون اس بارے میں بہت شاکی رہا کرتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ کراچی بھی فلم صنعت کا مرکز بن جائے اور کراچی کے فنکار اور ہنرمند لاہور کا رُخ کرنے کے بجائے کراچی ہی میں مصروف ہیں بلکہ لاہور کے فنکار بھی کراچی آنے پر مجبور ہو جائیں۔ کراچی سے آغاز کرنے اور پھر لاہور چلے جانے والوں کو وہ ’’نمک حرام‘‘ کہا کرتے تھے اور اس سلسلے میں کافی دلیلیں بھی دیا کرتے تھے لیکن سچ تو یہ ہے کہ شدید خواہش کے باوجود خود سعید ہارون بھی کراچی میں ایک مستحکم فلمی صنعت قائم کرنے کے سلسلے میں عملی اقدامات نہ کرسکے۔ محض خواہش سے کیا ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ کوشش بھی نہ کی جائے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر358 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -