ڈاکٹر نے ماں کے پیٹ میں ہی پیدا ہونے والے بچوں کے جسموں میں غبارے لگانا شروع کردئیے، اس کا فائدہ کیا ہوتا ہے؟ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایسابھی ممکن ہے

ڈاکٹر نے ماں کے پیٹ میں ہی پیدا ہونے والے بچوں کے جسموں میں غبارے لگانا شروع ...

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) طبی سائنس خیرہ کن حد تک ترقی کر چکی ہے اور اب ایک امریکی ڈاکٹر نے ایسا اعجاز دکھانا شروع کر دیا ہے کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ کنگز کالج ہسپتال لندن کے پروفیسر ڈاکٹر کائپروس نکولیڈس ہیں جو ماں کے پیٹ میں موجود بچوں کے جسم میں غبارے لگا رہے ہیں۔ یہ غبارے بچوں کو Congenital diaphragmatic herniaنامی بیماری سے بچاتے ہیں۔ یہ بیماری ماں کے پیٹ میں بچوں کو لاحق ہوتی ہے اور ان میں سے 60فیصد بچے ماں کے پیٹ میں ہی مر جاتے ہیں جبکہ باقی سنگین طبی عارضوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اوران میں سے بھی اکثر پیدا ہو کر مر جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس بیماری کا شکار ہونے والے بچوں کے ڈایا فرام میں بڑا سا سوراخ ہو جاتا ہے۔ ڈایافرام پٹھوں کی وہ شیٹ ہے جو پھیپھڑوں کو پیڈو کے اعضاء سے الگ کرتی ہے۔ یہ جینیاتی مرض ہے اور دو ہزار میں سے ایک بچے کو لاحق ہوتی ہے۔یہ غبارے لگانے سے ماں کے پیٹ میں بچوں کی شرح اموات آدھی سے بھی کم ہو گئی ہے اوراس مرض کے متاثر بچوں کی بقاء میں 17سے 50فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بچے کے سینے میں یہ غبارہ حمل کے 28ہفتے مکمل ہونے پر لگایا جاتا ہے۔ حمل کے 34ہفتے مکمل ہونے پر یہ غبارہ پھٹ جاتا ہے اور بچے کے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔پروفیسر کائپروس اب تک 2ہزار بچوں میں یہ غبارے لگا چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جتنے بچوں کو بھی غبارے لگائے ان کے صحت مند پیداہونے کی شرح میں 49فیصد تک اضافہ ہوا۔یہ غبارہ بچے کو ماں کے پیٹ میں سانس لینے میں مدد دیتا ہے۔ ایک بار اس مرض کا شکار بچہ پیدا ہو جائے اور اپنے آپ سانس لینے لگے تو اس کے زندہ رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس /سائنس اور ٹیکنالوجی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...