سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف مہم جوئی؟

سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف مہم جوئی؟

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ رولز کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور اس حوالے سے کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم کے ساتھ تمام معاملات پر بات کریں گے۔ مجھے پتہ نہیں کہ شیخ رشید کا کیا مسئلہ ہے وہ کچھ بھی کہتے رہیں ان کی اپنی مرضی ہے اور ان کی اپنی پارٹی ہے، میں اپنی پارٹی کے اصولوں کے مطابق چلوں گا۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے مسئلے پرمسلسل جو بیان بازی کر رہے ہیں اس میں کبھی تو وہ وزیراعظم کو رگید دیتے ہیں اور کبھی سپیکر کو ’’ڈاک خانہ‘‘ قراردے دیتے ہیں۔ غالباً ایسی ہی باتوں سے اکتا کر سپیکر کو کہنا پڑا کہ وہ نہیں جانتے کہ شیخ رشید کا کیا مسئلہ ہے، اس سارے تنازعے نے اس وقت جنم لیا جب کافی ردّ وکد کے بعد شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ یہ فیصلہ شیخ رشید اور بعض دوسروں کو پسند نہیں آیا۔ فیصلے کے بعد سے اب تک وہ اس پر کسی نہ کسی پہلو سے حملہ آور ہیں اور درمیان درمیان میں حسب عادت وزیراعظم کے خلاف بھی کوئی نہ کوئی بات کردیتے ہیں، اور پھر ’’بیلنس‘‘ کرنے کے لئے کہہ دیتے ہیں وزیراعظم ان کے دوست ہیں۔ انہوں نے بار بار اعلان کیا کہ وہ اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ جا رہے ہیں لیکن تاحال ایسا نہیں کرسکے، پھر انہوں نے کوشش کی کہ انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا رکن بنا دیا جائے اور اس مقصد کیلئے غالباً وزیراعظم سے بھی بات کرلی، ابھی ان کی رکنیت کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ انہوں نے ایسے بیانات دینا شروع کردیئے جنہیں نرم سے نرم الفاظ میں مضحکہ خیز قرار دیا جاسکتا تھا، تاہم سپیکر نے انہیں اس بنیاد پر رکن نہیں بنایا کہ وفاقی وزیر کسی کمیٹی کا رکن نہیں بن سکتا۔ اب اس پر شیخ رشید احمد غصے سے آگ بگولہ ہو کر سپیکر کے خلاف بیان بازی پر اتر آئے ہیں۔ جب کہ سپیکر کا موقف نہ صرف رولز کے عین مطابق ہے بلکہ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ کوئی وزیر پارلیمینٹ کی کسی کمیٹی کا رکن بھی بن جائے، لیکن شیخ صاحب ہر حالت میں ایسا کرنا چاہتے ہیں، وزارت بھی نہیں چھوڑنا چاہتے اور پی اے سی کی رکنیت بھی لینا چاہتے ہیں جس پر سپیکر تیار نہیں۔

دیکھا جائے تو پی اے سی کی چیئرمین شپ کا معاملہ ایک لحاظ سے ختم ہوگیا تھا اپوزیشن کے ساتھ دوسری کمیٹیوں کی رکنیت کے معاملات بھی طے پا گئے تھے اور کمیٹیاں تشکیل پا رہی تھیں لیکن یکایک ایک طے شدہ معاملے کو دوبارہ اٹھا دیا گیا، ادھر علیم خان کا وزارت سے استعفا آیا اور ادھر کورس کے انداز میں یہ راگ الاپا جانے لگا کہ اب شہباز شریف بھی استعفا دیدیں۔ حالانکہ دونوں کیسوں میں کوئی مماثلت ہی نہیں، جب شہبازشریف کو چیئرمین بنایا گیا وہ اس وقت بھی نیب کی حراست میں تھے جن لوگوں نے انہیں چیئرمین بنایا تھا، جو اب تو انہیں دینا چاہئے، کہ ایک زیرتفتیش رکن کو چیئرمین بنانے کی راہ میں اگر کوئی ضابطہ حائل تھا تو انہیں بنایا ہی کیوں گیا تھا، اور اگر بنا ہی دیا گیا تھا تو اب بالغ نظری کے ساتھ اس فیصلے کو نبھایا جاتا، شہبازشریف نے تو کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا کہ انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا جائے، یہ مطالبہ تو اپوزیشن جماعتوں کا تھا کہ چیئرمین بننا قائد حزب اختلاف کا حق ہے اور دس سال سے یہ روایت بھی چلی آرہی ہے، یہ درست ہے کہ اپوزیشن اپنا مطالبہ منوانے کے لئے دباؤ ڈال رہی تھی اور اس وقت تک کسی کمیٹی کی رکنیت اور سربراہی قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھی جب تک شہبازشریف کو چیئرمین نہیں بنا دیا جاتا، اس مقصد کیلئے اپوزیشن ارکان اسمبلی نے واک آؤٹ بھی کئے، اسمبلی کے اندر احتجاج بھی کیا اور بالآخر اپوزیشن کی بات مان لی گئی، حکومت کا تو دعویٰ ہے کہ وہ کوئی دباؤ نہیں مانتی تو پھر یہ دباؤ کیوں قبول کرلیا گیا؟ یہ درست ہے کہ اس معاملے میں حکومت کو شکست ہوئی اور اپوزیشن جماعتیں اپنی بات منوانے میں کامیاب ٹھہریں، لیکن بعد کے حالات سے لگتا یوں ہے کہ حکومت کو اپنی یہ شکست ہضم نہیں ہو رہی اور بعض وزراء اس سارے معاملے پر جس تنک تابی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ اس بات کی غماز ہے۔

شیخ رشید نے شاید اب سپریم کورٹ جانے کا آپشن ختم کردیا ہے اور کہا ہے کہ شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد کا راستہ موجود ہے۔ بات تو ان کی درست ہے لیکن انہیں اس پر ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرلینا چاہئے کہ کیا صرف شہبازشریف کے خلاف ہی عدم اعتماد کا آپشن موجود ہے یا یہ کسی اور کے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے، کیا وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لانے کی جسارت نہیں کی جاسکتی۔ جنہیں صرف 4ووٹوں کی اکثریت سے وزیراعظم چنا گیا تھا اور ان کی حلیف جماعتوں میں سے کبھی ایک اور کبھی دوسری ان کا ساتھ چھوڑنے کے اشارے دیتی رہتی ہیں اور اگر کسی نے یہ راستہ اختیار کرلیا تو وزیراعظم کے خلاف نہ صرف تحریک عدم اعتماد لائی جاسکتی ہے بلکہ تھوڑی سی کوشش کے بعد کامیاب بھی کرائی جاسکتی ہے۔ حکومت کو تو اپوزیشن کا ممنون ہونا چاہئے جو علانیہ کہتی ہے کہ وہ حکومت گرانا نہیں چاہتی، شیخ رشید احمد کا کیا ہے ان کی تو صرف ایک وزارت جائے گی اپوزیشن ’’تنگ آمد، بجنگ آمد‘‘ کے مصداق وزیراعظم کی پوری حکومت کی جڑوں میں بیٹھ سکتی ہے، اس لئے شہباز شریف کے خلاف اگرعدم اعتماد کی رولز اجازت دیتے ہیں تو ضرور لے آئیں اور ہوسکے تو انہیں ہٹا بھی دیں، اس طرح شیخ رشید کا شوق تو پورا ہو جائے گا، لیکن پھر ایسی صورت میں اپوزیشن کا میوزک فیس کرنے کے لئے بھی تیاری رکھنی چاہئے۔

وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں ایسے بہت سے لوگ شامل ہیں جو نیب کے زیرتفتیش ہیں، خود ان کے خلاف سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کا کیس بھی نیب میں پڑا ہوا ہے، جس پر وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ یہ وزیراعظم کی توہین ہے، کئی اہم وفاقی وزراء کے خلاف بھی نیب میں کیس چل رہے ہیں اگر اس بنیاد پر شہباز شریف کو ہٹانا درست ہے تو پھر وزراء کو کیسے استثنا حاصل ہوگا، حکومت جو فیصلے کر رہی ہے ان پر پہرہ بھی دینا چاہئے۔ بیورو کریسی کے تقرر و تبادلے جلدی جلدی کئے جا رہے ہیں، پنجاب میں دو دن پہلے مومن آغا کو سیکرٹری اطلاعات بنایا گیا، اب انہیں ہائر ایجوکیشن کا سیکرٹری لگا کر اطلاعات کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ تین دن پہلے جب انہیں سیکرٹری اطلاعات بنایا جا رہا تھا اسی وقت سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لیا جاتا، اسی طرح درجنوں ایسے دوسرے افسر ہیں جن کے تبادلے کے احکامات بار بار بدلے گئے، صوبہ کے پی کے میں چیف سیکرٹری اور آئی جی کو محض اس بنیاد پر تبدیل کردیا گیا کہ وہ لیویز اور پولیس کے درمیان کسی متوازی سسٹم کی مخالفت کر رہے تھے، کیا بیورو کریٹس کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی معاملے میں اپنی رائے کا اظہار کریں، جسے ماننا یا نہ ماننا حکومت کا کام ہے، لیکن اظہار رائے پر تو کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ شہباز شریف کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ایک فیصلہ کرنے کے بعد اب ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ استعفا دیدیں ورنہ انہیں ووٹ کے ذریعے ہٹا دیا جائے گا، لیکن اس کے مضمرات پربھی شاید حکومت کو تشویش ہے اسی لئے کہا جارہا ہے کہ اسمبلی چلتی ہے تو چلے نہیں چلتی تو نہ چلے، اس بیان سے بھی مایوسی جھلکتی ہے۔ حکومت کے سارے اقتدار کی بنیاد تو یہی قومی اسمبلی ہے، اگر یہی نہیں چلتی تو پھر کیسی حکومت اور کیسی سیاست؟ اس لئے بہتر یہ ہے کہ سپیکر کو آزادی اور رولز کے مطابق ایوان کو چلانے دیا جائے اور ’’ڈاک خانہ‘‘ کہہ کر ان کی تضحیک نہ کی جائے، وہ کسی سرکاری محکمے کے سربراہ نہیں ہیں جن کا پلک جھپکنے میں تبادلہ کردیا جائیگا۔ وہ ایوان کے کسٹوڈین ہیں اور آئینی عہدے پر فائز ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت نے ایسا ہی رویہ سابق سپیکر کے خلاف اختیار کیا تھا جب یہ کہا تھا کہ انہیں ’’مسٹر سپیکر سر‘‘ کہہ کر مخاطب نہیں کیا جائے گا، حالانکہ یہ ایوان کے بہت سے آدابوں میں سے ایک معمولی آداب ہے کہ سپیکر کا نام احترام سے پکارا جائے۔ لیکن سابق سپیکر اس پر بھی آزردہ خاطر نہ ہوئے اور انہوں نے بڑی فراخ دلی سے کہا کہ اگر آپ ’’مسٹر سپیکر سر‘‘ نہیں کہنا چاہتے تو ’’مسٹر ایاز صادق‘‘ کہہ لیا کریں۔ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، چلئے ایاز صادق کا تعلق تو مخالف جماعت سے تھا لیکن یہ کیسے دانش مند لوگ ہیں جو اپنی ہی حکومت اور اپنے ہی اسمبلی سپیکر کے خلاف لٹھ لے کر میدان میں آگئے ہیں جس کا اظہار شیخ رشید احمد بار بار تضحیک آمیز انداز میں کر رہے ہیں اور بعض وفاقی وزیر بھی شیخ رشید کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ ذرا سوچئے اگر سپیکر متنازع ہوتے ہیں تو اس کا نقصان حکومت کو ہے یا اپوزیشن کو؟ لیکن ہوا کے گھوڑے پر سوار وزیروں کو شاید اس سے کوئی سروکار نہیں، وہ شاید یہ رویہ اس وقت تک جاری رکھنا چاہتے ہیں جب تک ان کی حکومت کسی ناخوشگوار حادثے سے دوچار نہیں ہو جاتی۔

مزید : رائے /اداریہ