کون سا نیا بنگلہ دیش؟

کون سا نیا بنگلہ دیش؟
کون سا نیا بنگلہ دیش؟

  

آصف علی زرداری کی زبان سے کچھ ایسی باتیں جن کا گمان ہے نہ امکان، سرزد ہو رہی ہیں۔ بڑھتے بڑھتے ان کا بیانیہ مایوسی کی آخری حدوں کو چھونے لگا ہے، اپنے ذاتی مسائل کو وہ زبردستی سندھ کے مسائل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس سے بھی بڑھ کر وہ سندھی عوام کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر اپنی حفاظت کے درپے ہیں، حالانکہ سندھ کے لوگوں کو تو پچھلے دس برسوں میں وہ کچوکے لگائے گئے ہیں کہ ان کی چیخیں پورے ملک میں سنائی دے رہی ہیں۔

آصف علی زرداری آج کل زور و شور سے سندھی عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ حکومت ان کے حقوق چھیننے کی کوشش کر رہی ہے، عوام کو بھی ہنسی آتی ہو گی کہ آصف علی زرداری کن حقوق کی بات کر رہے ہیں؟ دس سال سے تو سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جن میں سے پانچ سال تو آصف علی زرداری ملک کے صدر بھی رہے اور حکومت بھی ان کے اشارۂ ابرو کی محتاج تھی۔ ایسی کون سی محرومیاں تھیں جو آصف علی زرداری نے ختم کر دیں اور موجودہ حکومت کے آنے سے پھر عوام کا مقدر بن گئی ہیں۔

ابھی تک یہی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں کہ منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے ملک سے باہر بھجوائے گئے اور اس کے لئے غریبوں کے شناختی کارڈ استعمال ہوئے۔ تھر میں بچوں کے بھوک سے مرنے کی خبریں کب رکی ہیں، حالانکہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بھی ان کا نوٹس لے کر تھر پہنچے، مگر جعلی انتظامات کے ذریعے انہیں دھوکہ دیا گیا۔

جب آصف علی زرداری کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا تو سندھ کی پسماندگی کا ذکر دوسرے کرتے تھے، جبکہ وہ اور ان کی پارٹی تو سندھ میں دودھ اور شہد کی نہروں کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتی تھی۔ سندھ میں تو آج بھی ان کی حکومت ہے ،پھر وہ اپوزیشن لیڈر کی طرح بیان بازی کیوں کر رہے ہیں؟ سندھ کی پسماندگی دور کرنے کے اقدامات کیوں نہیں اٹھاتے؟

صاف نظر آ رہا ہے کہ آصف علی زرداری کی سیاست لمحہ موجود میں کوئی کرتب دکھانے سے قاصر ہے۔ انہوں نے بہت سے حربے آزمائے کہ کسی طرح احتساب کا اونٹ ان کے حق میں بیٹھ جائے، مگر کامیابی نہیں ملی، حتیٰ کہ وہ اپنا بیانیہ چھوڑکر نوازشریف کے ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار ہو گئے اور شہباز شریف کے حق میں اپنا پورا وزن ڈال دیا، لیکن بات بننی تھی نہ بنی۔

ان کا اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا بیانیہ تو اپنی وقعت کھو چکا ہے، اس لئے انہوں نے بدلے ہوئے حالات میں کبھی بالواسطہ عدلیہ پر تنقید کی اور کبھی عمران خان کو لانے والوں کا ذکر کر کے فوج پر اپنا غصہ نکالا، پھراٹھارویں ترمیم ختم کرنے کا شوشہ چھوڑا اور اسے لے کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اٹھارویں ترمیم کو ختم کرانے کے لئے ہے، جیسے وہی صرف اٹھارویں ترمیم کے محافظ ہیں، باقی سب مخالف ہیں۔ جب اس سے بھی بات نہیں بنی تو جھنجھلاہٹ یا پھر مایوسی میں وہ یہ بات زبان پر لے آئے کہ ہم ایک اور بنگلہ دیش نہیں بننے دیں گے۔

کہاں بن رہا ہے بنگلہ دیش اور کون بنا رہا ہے، بنگلہ دیش؟ کس کو کہہ رہے ہیں کہ بنگلہ دیش نہیں بننے دیں گے؟ کیا وہ بالواسطہ طور پر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارے خلاف احتساب جاری رکھا گیا تو بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔

حیرت ہے کہ اپنی ذاتی مشکل کو وہ سندھ کے عوام پر مڑھ رہے ہیں۔ ایسا تو کبھی ذوالفقارعلی بھٹو نے بھی نہیں کہا تھا کہ مجھے پھانسی نہ چڑھاؤ، وگرنہ ایک اور بنگلہ دیش بن جائے گا۔

کبھی بینظیر بھٹو نے بھی نامساعد حالات کے باوجود یہ بہانہ اختیار نہیں کیا کہ ہم ایک اور بنگلہ دیش نہیں بننے دیں گے۔ یہ چورن اب کیسے بک سکتا ہے؟ ایک طرف جے آئی ٹی کے ذریعے تمام حقائق سامنے آچکے ہیں، کسی کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں ، جسے دکھا کر وہ خود کو بے گناہ ثابت کرسکے۔ بچنے کے لئے اب صرف سیاسی بیانات ہی پیش کئے جا رہے ہیں۔

پہلے تو بات حکومتی انتقام اور نیب کی جانبداری تک تھی، اب کہا جارہا ہے یہ سب کچھ نیا بنگلہ دیش بنانے کی سازش ہے، جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یہ سیاسی اشرافیہ آخر ملک کے 22کروڑ عوام کو دولے شاہ کے چوہے کیوں سمجھتی ہے؟ سوال گندم ہو تو جواب جو دیا جاتا ہے۔ کیا اس زمانے میں یہ ترکیب کارگر ثابت ہوسکتی ہے؟ کیا آصف علی زرداری کو علم نہیں کہ نوازشریف یہ ترکیب استعمال کرکے بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بھی ووٹ کو عزت دو، کا نعرہ دے کر عدلیہ اورفوج پر تنقید کی تھی، مگر سب نے دیکھا کہ عوام نے اسے پذیرائی نہیں بخشی۔ ایک طرف آزاد عدالتیں ریلیف دے رہی ہیں اور نظرثانی کی اپیلیں تواتر کے ساتھ دائر ہو رہی ہیں ،دوسری طرف آپ ایسی سیاسی بازی گری کے ذریعے ایک خاص فضا بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ کیا یہ دوعملی نہیں؟ پہلے اس دوعملی کوتو ختم کریں پھر جو چاہے کہتے رہیں۔

آج جمہوریت کے لئے حالات تو بہت آئیڈیل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ بالکل آزاد ہے، کسی کو اگر تھوڑا بہت شک تھا وہ دھرنا کیس کا فیصلہ آنے کے بعد دور ہوگیا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں سیاست سے فوج کے کردار کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

آئی ایس آئی جیسے حساس ترین ادارے کو بھی حدود میں رہ کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب ایسی عدلیہ کی موجودگی میں آصف علی زرداری کس حوالے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ بنگلہ دیش نہیں بننے دیں گے۔

کیا اس زمانے اور آج کے پاکستان کا تقابل کیا جاسکتا ہے؟ پاکستان نے جمہوریت اور سیاسی شعور کے حوالے سے بہت آگے تک کا سفر کرلیا ہے۔ فوج باقاعدہ اعلان کر چکی ہے کہ سیاست اس کا کام نہیں۔ عدلیہ نے ایک ڈکٹیٹر کو للکارا اور اسے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ افتخار محمد چودھری نے پرویز مشرف کو جس دن جی ایچ کیو میں انکار کیا تھا۔ اسی دن آئندہ کے لئے مارشل لاء کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا تھا۔ پارلیمینٹ اپنی پوری آئینی خود مختاری کے ساتھ کام کر رہی ہے، اس کے اختیار پر کسی طرف سے کوئی قدغن نہیں پھر آخر وہ کون سی بات ہے جس نے آصف علی زرداری کو بے چین کر رکھا ہے، اس کا جواب زیادہ مشکل نہیں، ملک کے ہر فرد کو معلوم ہے، لیکن آصف علی زرداری اسے نہیں مانتے۔ ان کے سارے پتے فیل ہو چکے ہیں۔

نوازشریف کی طرح ان کے پاس بھی عدالت کو مطمئن کرنے کے لئے شواہد موجود نہیں، ان کا نام بھی ای سی ایل میں ہے۔ نہ ہوتا تو انہوں نے باہر جانے میں دیر نہیں لگانی تھی، کیونکہ ایسے ہر ٹینشن کے ماحول سے وہ ماضی میں اڑان بھر کر نکلتے رہے ہیں۔ اب ایسے میں بہتر تو یہی ہے کہ وہ ثابت قدمی سے اپنے مقدمات کا دفاع کریں۔ ان کے پاس چوٹی کے وکیل موجود ہیں، جو اتنے ماہر ہیں کہ دن کو رات ثابت کرسکتے ہیں، وہ ضرور ان کے لئے کچھ کریں گے اور انہیں ریلیف ملنا بھی صرف عدالتوں سے ہے۔

باہر جلسوں اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے وہ جوکچھ کر رہے ہیں، وہ ان کی شخصیت کے کمزور پہلوؤں کو ظاہر کر رہا ہے۔ صاف لگ رہا ہے کہ اپنے دفاع میں ثبوت پیش نہ کرنے کی کمی وہ سندھی عوام کی مظلومیت اور محرومی کا ڈھنڈورا پیٹ کر پوری کرنا چاہتے ہیں۔

وہ اور ان کے وزراء اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے کو ملنے والی رقم روکنے کا شور مچا رہے ہیں، لیکن یہ حساب دینے کو تیار نہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جو اربوں روپے اضافی ملے، وہ کہاں خرچ ہوئے؟ اتنی بڑی رقم سے تو سندھ کی حالت بدل سکتی تھی، مگر یہاں تو یہ حال ہے کہ لاڑکانہ کے گندے پانی میں ڈوبنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر آتی ہیں تو وزیراعلیٰ کی آنکھ کھلتی ہے۔ آصف علی زرداری جیسے زیرک سیاستدان کو اتنا تو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک وزیراعظم کرپشن کیس میں معزول ہوا، پھر اس کی جماعت برسراقتدار تھی تو اس پر کیس چلا اور سزا ہوئی۔

وزیراعظم بھی وہ جو پنجابی تھا، سندھی نہیں تھا، ہمیشہ یہ کہا جاتا رہا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے وزرائے اعظم عتاب کا شکار ہوئے، مگر نوازشریف کے ساتھ جو ہوا اس نے اس تاثر کو حرف غلط ثابت کردیا۔ اب سیاسی بنیاد پر کسی دوسرے کو کیسے رعایت مل سکتی ہے؟ شہبازشریف بھی نیب کی حراست میں ہیں، ابھی ایسا وقت پیپلزپارٹی پر تو نہیں آیا۔ آصف علی زرداری کو ضمانت پر ضمانت مل رہی ہے۔

فریال تالپور اور بلاول بھٹو زرداری بھی گرفتاری سے محفوظ ہیں۔ ایسے میں ان باتوں کا ذکر جن کا کوئی جواز نہیں، آصف علی زرداری کیوں کر رہے ہیں؟ ایک مضبوط اور مستحکم ہوتے پاکستان میں ملک ٹوٹنے کی بات کرنے والا قابل گردن زدنی ہونا چاہئے۔

آصف علی زرداری جیسے بڑے رہنما کو، جو ایک بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین بھی ہیں، اپنا مؤقف دلیل سے پیش کرنا چاہئے۔ ایک بنگلہ دیش ہماری غفلت سے بننا تھا، سو بن گیا، اب قوم نہ غافل ہے اور نہ ہی قومی ادارے، اب ایسی باتیں ایک ایسا حربہ نظر آتی ہیں جو کوئی ہارا ہوا شخص اپنی شکست کے جواز میں اختیار کرتا ہے۔

مزید : رائے /کالم