پرنٹ میڈیا کے لئے ایک مشورہ!

پرنٹ میڈیا کے لئے ایک مشورہ!
پرنٹ میڈیا کے لئے ایک مشورہ!

  

کیا کسی ایک کالم میں دو یا دو سے زیادہ موضوعات کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے؟۔۔۔ میں نے کئی بار اس سوال پر غور کیا ہے اور جواب یہ ملا ہے کہ: ’’ہاں لایا جا سکتا ہے بشرطیکہ ہم لکیر کے فقیر نہ بن جائیں‘‘۔۔۔۔

پاکستان میں انگریزی اور اردو زبان میں پرنٹ میڈیا پر کسی ایک موضوع پر جو مختصر سا ’’مضمون‘‘ لکھا جاتا ہے اس کو کالم کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر مضمون طویل ہو جائے تو مقالہ کہلاتا ہے اور اس کا اظہار ہم الیکٹرانک میڈیا پر تو ہر روز ’’ٹاک شوز‘‘ کی صورت میں دیکھتے اور سنتے ہیں لیکن پرنٹ میڈیا پر ایسا ممکن نہیں۔ یا اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ہم نے اس روشِ کالم نگاری اور طرزِ تحریر کو اخبارات میں آزمایا ہی نہیں۔ پرنٹ میڈیا میں بھی بالعموم روزانہ کسی سیاسی موضوع پر (الیکٹرانک میڈیا کی مانند) تبصرہ کیا جاتا ہے۔ یہ تبصرہ ہر کالم نگار کے سیاسی ڈاکٹرین کا سراغ بھی دیتا ہے۔

یعنی اخبار میں کالم نویس کا نام پڑھتے ہی ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کا جھکاؤ اور میلانِ طبع کس سیاسی دھڑے (یا پارٹی) کے ساتھ ہے۔ موصوف نے گھما پھرا کر بات اپنے عقیدے پر ختم کرنی ہوتی ہے۔ لیکن تابہ کے؟۔۔۔ فرض کریں میں روزانہ کسی اخبار میں کالم نگاری کرتا ہوں اور میرا سیاسی ڈاکٹرین کسی ایک بڑی سیاسی پارٹی کا موید یا ترجمان ہے تو میں اگر ہر روز اس ایک پارٹی کے نقطہء نظر کو بیان کرتا چلا جاؤں گا تو یہ ’’دھندا‘‘ کب تک چلے گا؟ زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ میرا قاری یہ سمجھے گا کہ کرنل جیلانی تو فلاں پارٹی کا ترجمان ہے یا فلاں پارٹی کے عقائد و نظریات کے بارے میں دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے یا کسی بھی اور وجہ یا لالچ یا ضرورت کے تحت ایسا کرنے پر مجبور ہے تو وہ میرا کالم دیکھتے ہی اس پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالے گا یا اس کا ایک طائرانہ جائزہ لے گا اور آگے بڑھ جائے گا۔

وہ یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ چونکہ کالم نگار کے ساتھ اس کا فوجی رینک بھی لکھا ہوا ہے اس لئے وہ ایسی کوئی بات نہیں لکھے گا جس سے فوج پر نکتہ چینی یا تنقید یا تنقیص کا پہلو نکلتا ہو۔

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کتنے فوجی لکھاری ہیں جو فوج کے کسی ایسے موضوع کے ناقد ہیں جس کو عوام کے ایک خاص طبقے میں بالعموم نشانہ ء تنقید بنایا جاتا ہے؟۔۔۔ چنانچہ جب کوئی قاری (یا ناظر/سامع) کسی فوجی آفیسر / اہلکار کا نام میدیا پر پڑھتا یا دیکھتا ہے تو وہ اس کی تحریر / تقریر کو چنداں درخورِ اعتنا نہیں سمجھتا۔ یہی حال الیکٹرانک میدیا پر سویلین تجزیہ نگاروں کا بھی ہے۔

ان کو ہر روز سکرین پر دیکھ دیکھ کر ان کے سیاسی عقائد کا ’’نقش‘‘ ہر سامع / ناظر کے دل میں بیٹھ چکا ہوتا ہے، لہٰذا اس سے کسی نئے یا برعکس یا متخالف نظریئے یا عقیدے کی توقع رکھنا عبث ہوتا ہے۔

کچھ یہی حال اخبار کی اداریہ نویسی کا بھی ہے۔ ہر چند کہ اداریہ نویس کسی ایک سیاسی پارٹی یا کسی مخصوص عقیدے / نظریئے کو پروجیکٹ نہیں کرتا لیکن پھر بھی بین السطور اس کے سیاسی عقیدے / رجحان کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔ اداریہ نویس صرف سیاسی / جاری موضوع ہی پر قلم نہیں اٹھاتا بلکہ اس سے آگے نکل کر ان علاقائی اور بین الاقوامی موضوعات پر بھی قلم فرسا ہوتا ہے جو کالم نگاروں کی اکثریت کے تصور سے یا تو ماوراء ہوتا ہے یا وہ عمداً ایسے موضوعات پر بولنا اور لکھنا گوارا نہیں کرتا۔

اس حوالے سے دیکھا جائے تو اداریہ، کسی بھی قومی اخبار کے مالکان اور پالیسی سازوں کا نقیب ہوتا ہے۔ یہ موضوعات جتنے ہی غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہوں گے اتنا ہی وہ اخبار قارئین کی نگاہوں میں مقبول و معروف ہو گا۔ ہمارے ہاں بوجوہ علاقائی اور عالمی موضوعات پر قلم اٹھانا بیشتر کالم نگاروں کا شیوہ نہیں اس لئے اخبار کا اداریہ بسا غنیمت تحریر تصور ہوتی ہے۔

الیکٹرانک میڈیا (یعنی جو کچھ ہم ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھتے اور سنتے ہیں) ایک اور طرح سے بھی پرنٹ میڈیا (یعنی جو کچھ ہم روزانہ / ہفت روزہ اخبارات / رسائل میں پڑھتے ہیں) پر فوقیت رکھتا ہے۔ کسی بھی ٹاک شو میں اگر کوئی سیاسی موضوع زیر بحث ہے تو اس میں ملک کی دونوں / تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے ترجمانوں کا نقطہ ء نظر معلوم کیا جا سکتا ہے۔

یہ بحث اس لئے بھی زیادہ مقبولِ عوام بن جاتی ہے کہ ملک کو درپیش مسائل پر اگر کسی ایک سیاسی پارٹی کا نظریہ / موقف مشرق کو ہوتا ہے تو مغربی سمت والے نظریئے / موقف کا جواب فوراً ہی اور وہیں ’’بیٹھے بیٹھے‘‘ مل جاتا ہے۔۔۔ یہ کام پرنٹ میڈیا نہیں کر سکتا۔ایک تو کالم میں کسی ’’اینکر‘‘ کا وجود ناپید ہوتا ہے اور دوسرے کالم میں بیان کردہ مباحث و نکات کا جواب فی الفور نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔۔۔ ہاں البتہ اس کا ایک حل نکالا جا سکتا ہے۔۔۔ اور یہ حل چونکہ غیر روائتی ہے اس لئے مجھے یقین ہے کہ اس کو نہ تو پذیرائی ملے گی اور نہ اسے آزمایا جائے گا۔ لیکن کہنے یا لکھنے میں کیا ہرج ہے۔۔۔ شائد کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات!

وہ حل یہ ہے کہ اخبار کا ایک پورا صفحہ کسی ایک موضوع کے لئے مختص کر دیا جائے۔ مثلاً یہ موضوع کہ میاں نوازشریف کو جیل میں رکھا جائے یا بیرون ملک ان کے دیرینہ معالج کو دکھانے کے لئے انہیں لندن بھیج دیا جائے یا لاہور کے ’’پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘‘ (PIC) بھیج دیا جائے۔ یا ملک کے کسی اور دل کے امراض کے معروف ہسپتال کو ریفر کر دیا جائے۔

میرے ذہن میں پاکستان میں ایسے اور طبی ادارے بھی آ رہے ہیں جو امراضِ قلب کے سلسلے میں تخصّص کے حامل ہیں۔ مسلح افواج کا ’’ادارۂ امراضِ قلب‘‘ (AFIC) ایک ایسا ہی ادارہ ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ بوجوہ اس کی طرف رجوع کرنے میں کئی ناگفتہ بہ قباحتیں حائل ہیں۔

۔۔۔ کراچی میں آغا خان ہسپتال بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے۔ اس ادارے کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کو مدعو کیا جا سکتا ہے اور آج کل تو سیٹلائٹ ٹی وی لنک کے ذریعے کانفرنسوں کا زمانہ ہے۔ اگر لندن میں میاں صاحب نے کسی مخصوص ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہاں جانا ہے تو اس ٹیم کو ٹی وی لنک کے توسط سے پاکستان کے ماہرینِ امراض قلب کے روبرو کیا جا سکتا ہے۔

لندن کے ڈاکٹروں کے پاس میاں صاحب کی فائل تو ہو گی۔ اس فائل اور یہاں پاکستان میں تیار کی گئی فائل کی رپورٹیں / تجزیئے/ ٹیسٹ وغیرہ پر اسی طرح دوبدو بحث و تمحیص کی جا سکتی ہے جس طرح ہمارے میڈیا میں روزانہ بیرون ملک بیٹھ کر اکثر صحافی اپنے خیالات سے اہلِ پاکستان کو ’’مستفید‘‘ کر رہے ہوتے ہیں۔

میاں نوازشریف صاحب سے بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ ان کی بیماری ء دل کے علاج کے لئے اس پراسس کو بروئے عمل لانے میں ان کو کیا اعتراض ہے؟۔۔۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس آپشن کو نون لیگ کے رہنماؤں بالخصوص میاں صاحب کے قریبی رشتہ داروں سے ڈسکس کرے۔ اگر خدانخواستہ کل کلاں میاں صاحب کو زیادہ تکلیف ہو جاتی ہے تو حکومت کے پاس یہ پوائنٹ تو ہو گا کہ ہم نے لندن میں میاں صاحب کے اس معالج سے رجوع کرنے کا کہا تھا جس نے ان کا آپریشن کیا تھا۔

اس سلسلے میں برطانوی حکومت کے متعلقہ وزراء اور زعماء سے بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔ وزیراطلاعات فواد چودھری صاحب کو اس سلسلے میں بیان جاری کرنا چاہیے۔ وہ اکثر ایسے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔جو اپوزیشن کو مشتعل کرنے میں ایک ’’بڑا رول‘‘ ادا کر رہے ہیں۔ ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اپوزیشن بھلے ایسا کرے کہ وہ تو زخم خوردہ پارٹی ہے۔۔۔۔ فاتح پارٹی کا دل بھی فاتح ہونا چاہیے!۔۔۔

سطور گزشتہ میں ، یہ کہا جا رہا تھا کہ اخبار میں کسی ایک موضوع کو منتخب کرکے اس کے لئے ایک پورا صفحہ الگ کر دیا جائے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں اخبارات پہلے بھی ’’خاص ایڈیشن‘‘ شائع کرتے رہے ہیں(اور کر رہے ہیں)۔

ہمارے ’’پاکستان‘‘ اخبار میں ایک ہفتہ واری صفحہ وہ بھی شائع ہوتا ہے جس میں چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور اسلام آباد سے ہفتہ ء گزشتہ کی ’’بڑی خبر‘‘ پر تبصرہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی تصاویر اور سرخیاں (Decks) بھی لگی ہوتی ہیں۔اس طرح کا ایک ایڈیشن (ہفتے کے کسی مخصوص دن) ایسا بھی شائع کیا جا سکتا ہے جس میں تینوں چاروں بڑی سیاسی پارٹیوں کے ترجمانوں کی آراء اور تبصرے کسی ایک موضوع پر شائع کئے جا سکتے ہیں۔۔۔ ٹی وی کے پروڈیوسر حضرات کی طرح اخبار کے اس صفحے کے پروڈیوسر کو بھی ٹاسک دیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی ایسے موضوع کا انتخاب کریں جو پنجابی محاورے کے مطابق ’’چوندا چوندا‘‘ ہو۔

اس موضوع کے بارے میں ایک دو سوالات بھی وضع کر دیں اور ان کے جواب کے لئے الفاظ کی تعداد بھی مختص کر دی جائے۔۔۔ یہ سوالات گویا ’’اینکر‘‘ کی طرف سے کئے گئے سوالات شمار ہوں گے جن کے جواب (Responses)پارٹی ترجمان اپنے اپنے سیاسی ڈاکٹرین کے مطابق دے گا۔ اخبارات کے ’’خاص ایڈیشنوں‘‘ میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ یہ کوئی بدعت نہیں ہوگی۔ پرانی روائت کو نیا جامہ پہنا کر اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے جو الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوزکا بدل بن سکے گی۔۔۔ اور اگر بدل نہ بھی بن سکے تو کم از کم تحریری انداز کی قندِ مکرر ہی سہی۔

اس خاص ایڈیشن کا عنوان ’’تحریری ٹاک شو‘‘ وغیرہ رکھا جا سکتا ہے۔ اور موضوعِ زیرِ تبصرہ کو نمایاں اور جلی الفاظ میں لگایا جا سکتا ہے۔۔۔ اس کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہو گا کہ جس طرح ٹی وی کے نیوز چینل اپنے گزشتہ پروگراموں کو ریوائنڈ (Rewind) کرکے سیاسی مبصروں اور رہنماؤں کو آئینہ دکھانے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیتے، اسی طرح اخبارات کی فائلیں بھی یہی کام کر سکیں گی بلکہ زیادہ بہتر اور ’’زیادہ دیرپا‘‘ طریقے سے کر سکیں گی۔۔۔ کسی سیاستدان یا سیاسی مبصر یا تجزیہ نگار کا حرفِ نوشتہ، حرفِ گفتہ سے زیادہ معتبر اور زیادہ دیرپا ہوتا ہے!

مزید : رائے /کالم