خوف و ہراسگی کی فضاء ‘پکڑ دھکڑ کا سلسلہ روکاجائے، شوگر ملز مالکان

خوف و ہراسگی کی فضاء ‘پکڑ دھکڑ کا سلسلہ روکاجائے، شوگر ملز مالکان

لاہور(پ ر)شوگر ملز مالکان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے پرزور اپیل کی ہے کہ سخت ترین حالات سے دوچار انڈسٹری کو سہارا دیں نہ کہ ضلعی انتظامیہ ملوں کی انتظامیہ کو ہراساں کرے، بے جا طور پر کھلی کچہریوں میں بلوا کر بے عزت کرے اور گودام سیل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ حکومت کے ان ہتھکنڈوں سے ناصرف کاروباری سرگرمیاں تعطل کا شکار ہوتی ہیں بلکہ شوگر ملوں کو کرشنگ جاری رکھنا بھی ناممکن بناتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے اپیل ہے کہ صوبائی و ضلعی انتظامیہ کی طرف سے خوف و ہراسگی کی فضاء اور پکڑ دھکڑ پیدا کرنے کا سلسلہ رکوایا جائے۔ اس موقع پر ایسوسی ایشن کے ممبران کا کہنا تھا کہ ہم وزیر اعظم اور اسد عمر سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہی وہ بزنس فرینڈلی انوائرمنٹ ہے جس کا ذکر آئے دن ہم ان کی زبان سے میڈیا پر سنتے رہتے ہیں۔پاکستان شوگر مل ایسوسی ایشن پنجاب زون کے ممبران نے حکومت پنجاب کی طرف سے چینی کی برآمد پر فریٹ سبسڈی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا۔ لیکن ملز مالکان فل وقت چینی کو عالمی منڈی میں فروخت کرنے میں مشکلات سے دوچار ہیں۔ جس کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں کساد بازاری اور اسی وجہ سے عالمی سطح پر چینی کی قیمت میں واضح کمی ہے۔ شوگر انڈسٹری نے ہمیشہ پاکستان کی معیشت میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے اور اپنے تمام تر ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے کسانوں کو گنے کی ادائیگیاں بروقت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور کرتی رہے گی، حتیٰ کہ اس کیلئے اپنے سٹاک کو مہنگے ریٹ پر رہن ہی کیوں نہ رکھنا پڑے جس کی وجہ سے دوسری طرف ملز مالکان اپنی پیداواری لاگت کو پورا نہیں کر پاتے اور شوگر انڈسٹری ہمیشہ زبوں حالی کا شکار رہتی ہے۔

مزید : کامرس