جندول ،گرلز ڈگری کالج پالوسو میں بھی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز

جندول ،گرلز ڈگری کالج پالوسو میں بھی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز

جندول (نمائند پاکستان)سب ڈویژن جندول میں گرلز ڈیگری کالج پلوسوسمیت مردانہڈگری کالج صدبرکلی ا ور ٹیکنیکل وکیشنل کالج میں سہولیت کا فقدان متحدہ مجلس عمل کے حکومت میں گاوں پلوثو کے مقام پر گرلز ڈگری کالج اور صدبرکلی کے مقام پر مردانہ ڈگری کالج اور ایک ٹیکنیکل وکیشنل کالج بنائے گئیں تھے ۔تاہم گورنمنٹ ڈیگری کالج صدبرکلی میں مردانہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کی جا چکی ہے مگر وہاں طالبہ کو ٹرانسپورٹ، کنٹین سمیت اساتذہ کے جیساکمی کا بھی سامنا ہے ۔گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پالوسو میں بھی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا جا چکا ہے مگر وہاں نہ طالبات کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام ہے نہ ہی پینے کے پانی کا نہ کنٹین اور نہ ہی بجلی کا اس لئے طالبات کو پڑھائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔ تفصلات کی مطابق ٹیکنیکل ووکیشنل کالج کا یہ حال ہے کہ بلڈنگ پر کروڑوں روپے خرچ کئے جانے کے باوجود وہاں پچھلے سال صرف شارٹ کورسز کا آغاز کیا جا چکا تھامگر بعد میں بندکیا گیا اور تاحال بند ہے زرئع کے مطابق اس کالج کے دوپرنسپل بند کالج پر ریٹائرڈ ہو چکے اور کلاس فور ملازمین بھی بھرتی تھیں مگر کالج کو کھولنے کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائیں جا رہے تھے ۔ موجودہ وقت میں کالج کا یہ حال ہے کہ ٹیکنیکل سامان عدم استعمال کی وجہ سے خراب ہو رہا ہے اور تا حال یہاں صحیح معنوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ایک طرف حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے تو دوسری جانب فنی تعلیم کے خواہشمند طلبہ دور دراز تعلیم حاصل کرنے کیلئے جانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔سب ڈویژن جندول میں عوام نے تحریک انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے اور حلقہ PK17سے ملک لیاقت علی خان اور حلقہ Pk16سے عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی بھادر خان، ڈاکٹر سمیرہ شمس ممبران صوبائی اسمبلی ہیں ممبر قومی اسمبلی محمد بشیر خان کو یہاں کے عوام نے بڑے مارجن سے ووٹ دیکر کامیاب کرایا ہے اور صوبہ سے لیکر مرکزی حکومت تک تحریک انصاف کے ہیں اور اس طرح کا بااختیار حکومت کبھی بھی کسی دورے جماعت نے نہیں بنایا اس لئے اب ضروری ہے کہ تحریک انصاف کے مذکورہ منتخب ممبران اسمبلی صوبائی و مرکزی سطح پر حکومتوں اور ارباب اختیار پر زور ڈالیں اور حلقہ میں رہ جانے والے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے اس لئے کہ یہاں کے عوام نے مذکورہ ممبران اسمبلی کو تبدیلی کیلئے ووٹ دیا ہے ۔ اگر مذکورہ ممبران اسمبلی عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو آئندہ انتخابات میں وہ عوام کا سامنا نہیں کر سکے گے تاہم اگر انہوں نے کارکردگی کا مظاہر ہ کیا اور علاقہ کی تعمیر و ترقی کو سنجیدگی سے دیکھ کرمسائل حل کروائیں تو موجودہ حکومت سمیت منتخب ممبران اسمبلی کو بھی اس کا کریڈٹ جائے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر