شہبازشریف کی 3قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت ختم ، پی اے سی کی چیئر مین شپ سے بذریعہ ووٹنگ فارغ کرنے کا فیصلہ

شہبازشریف کی 3قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت ختم ، پی اے سی کی چیئر مین شپ سے بذریعہ ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) سپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی 3 قائمہ کمیٹوں کی رکنیت ختم کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی سیکٹریٹ نے اس کا باقاعدہ نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔ سپیکر اسد قیصر نے شہباز شریف کی درخواست پر ان کی رکنیت ختم کی ہے۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف، قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات اور قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر کی رکنیت ختم کی گئی ہے۔دوسری جانب خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سے ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری متعدد مواقع پر میڈیا کے سامنے ان سے استعفے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔دریں اثناحکومت نے شہباز شریف کو بطور چیئرمین پی اے سی کے عہدے سے ووٹنگ کے ذریعے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے ،حکومت اور اس کے اتحادیوں ارکان کی تعداد15 جبکہ اپوزیشن کے پاس 14 ووٹ موجود ہیں ،شہباز شریف کو ہٹانے کیلئے اختر مینگل کا ووٹ اہمیت کا حامل ہے وفاقی حکومت نے شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے کی منظوری دی تھی جس پر بہت سے حکومتی اراکین کو بھی شکایت تھی۔بالخصوص وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید تو بارہا کہہ چکے ہیں کہ شہباز شریف کو پی اے سی کا چئیرمین بنانا ایسے ہی ہے جیسے دودھ کی رکھوالی پر بلے کو بٹھا دیا جائے۔اب وفاقی حکومت بھی شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئر مین بنے رہنا نہیں دیکھنا چاہتی۔وفاقی حکومت نے ووٹنگ کے ذریعے سے شہباز شریف کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کی جانب سے پی اے سی کا نیا چیئرمین فخر امام کے نام کی منظوری دیدی گئی ہے۔ اخترمینگل کی حمایت کے بغیرشہبازشریف کوہٹاناممکن نہیں جس کے بعد حکومت نے اختر مینگل سے رابطہ کیلئے پارٹی رہنماؤں کو ٹاسک سونپ دیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں وزیرخزانہ سمیت30ارکان ہیں۔وزیرخزانہ کو چیئرمین کے تقرراورہٹانے کے دوران ووٹ کااختیارنہیں۔حکومت اوراس کیاتحادیوں کے15جبکہ اپوزیشن اتحادکے پاس14ووٹ ہیں،پارٹی پوزیشن کے مطابق پی ٹی آئی11،ق لیگ ایم کیوایم،بی این پی کاایک ایک ووٹ ہے۔ ایک آزاد رکن علی نوازشاہ حکومت کے حامی ہیں۔دوسری جانب ن لیگ کے7،پیپلزپارٹی5، جے یوآئی اورایم ایم اے کاایک ایک ووٹ ہے۔اس ساری صورتحال میں اخترمینگل کا ووٹ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

رکنیت ختم

مزید : صفحہ اول