سانحہ ساہیوال ، آپریشن میں شریک نقاب پوش اہلکاروں کی شناخت میں دشواری

سانحہ ساہیوال ، آپریشن میں شریک نقاب پوش اہلکاروں کی شناخت میں دشواری

لاہور(کرائم رپورٹر ) سانحہ ساہیوال کیس میں جے آئی ٹی کو ایک اور مشکل کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ فرانزک لیب کو دی جانیوالی ویڈیوز میں ساہیوال آپریشن کرنیوالے اہلکارنقاب پوش ہیں جسکی وجہ سے انکے چہرے نظر نہیں آ رہے۔تفصیلات کے مطابق سانحہ ساہیوال کے دوران جو ویڈیوز جے آئی ٹی کو موصول ہوئیں ان میں کسی بھی سی ٹی ڈی کے اہلکار کا چہرہ واضح نہیں کیونکہ آپریشن میں شامل تمام اہلکار نقاب پوش ہیں۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے سی ٹی ڈی کے 5 سے 6 اہلکاروں کو گرفتار کر رکھا ہے جن کی شناخت پریڈ میں بھی جے آئی ٹی کو دشواری کا سامنا ہے کیونکہ آپریشن میں شامل اہلکار اپنے چہروں کو نقاب سے چھپائے ہوئے تھے۔جے آئی ٹی گرفتار اہلکاروں کو فرانزک لیب میں لائی جہاں مختلف زاویوں سے انکی تصاویر بنائی گئی ہیں۔ چہروں پر نقاب ہونے کی وجہ سے فرانزک لیب کے اہلکار جسمانی خدوخال سے بھی اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اہلکاروں کے چہروں پر نقاب ہونے کی وجہ سے شناخت میں مزید وقت درکار ہوگا۔ڈی جی فرانزک لیب ڈاکٹر طاہر اشرف کا کہنا ہے پانچ سے چھ گرفتار اہلکاروں کو شناخت کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کی جائے گی اور چہروں پر نقاب ہونے کے باوجود مختلف طریقہ کار سے شناخت کیا جائے گا۔ عینی شاہد خلیل کے بیٹے عمیر نے بھی اپنے تحریری بیان میں فائرنگ کرنیوالے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کے چہرے پر نقاب کا ذکر کیا ہے۔دوسری جانب سانحہ ساہیوال کے متاثرین انصاف کے حصول کیلئے گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کیا، احتجاجی مظاہرین میں خلیل اور ذیشان کے ورثاء سمیت محلے داروں کی بڑی تعداد شامل تھی ،مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے ہیں جن پر انصاف کے حصول کے نعرے درج ہیں۔سانحہ ساہیوال کے مقتولین کے ورثا،طالبعلموں اورسول سوسائٹی نے مال روڈ پر احتجاج کیا ، جبکہ اظہاریکجہتی کیلئے پیپلز پارٹی کے ر ہنما بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماء فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ساہیوال کے مظلوموں کو انصاف دیا جائے،ساہیوال واقعے پرپارلیمنٹ کے اندراورباہر آواز اٹھائیں گے۔

سانحہ ساہیوال

مزید : صفحہ اول